• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران معمر افراد کی انزائٹی اور ڈپریشن میں زبردست اضافہ

لندن (پی اے) پہلے نیشنل کورونا وائرس کوویڈ 19 لاک ڈائون کے دوران معمر افراد میں انزائٹی میں زبردست اضافہ ہوا اور کورونا لاک ڈائون پابندیوں میں نرمی کے بعد ان معمرافراد کیلئے مینٹل ہیلتھ سپورٹ کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ یہ بات ایک نئی ریسرچ میں کہی گئی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے ریسرچرز کی اس مشترکہ ریسرچ کو اس نوعیت کی سب سے بڑی ریسرچ گردانا جاتا ہے۔ اس سٹڈی میں یہ بھی پایا گیا کہ برطانوی آبادی کی دماغی صحت اور خوش حالی پر اس کے وسیع تر مثبت اور منفی اثرات پڑے ہیں۔ پینڈامک سے قبل جنوری 2020 اورپہلے نیشنل لاک ڈائون کے دوران مئی اور جون 2020 کے درمیان بی بی سی کے ذریعے پروموٹ کئے گئے گریٹ بریٹن برٹش انٹیلی جنس ٹیسٹ میں 379000 سے زائد افراد نے حصہ لیا۔ یہ سٹڈی امپیریل کالج لندن، کنگز کالج لندن، یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی آف سائوتھمپٹن دی یونیورسٹی آف شکاگو اور این ایج ایس فائونڈیشن ٹرسٹس سدرن ہیلتھ اینڈ کیمبرج شائر اینڈ پیٹر برا کے اشتراک سے ہوئی۔ اس سٹڈی کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ انزائٹی کی سطحوں میں سب سے زیادہ تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ لوگوں میں انزائٹی کے تناسب میں ہفتہ میں کم از کم کئی بار 24 فیصد سے 33 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔ سٹڈی میں پتہ چلا کہ جن افراد سے یہ سوال کیا گیا کہ انہیں کبھی انزائٹی نہیں ہوئی تو کبھی نہیں کا جواب دینے والوں کا تناسب 18 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد پر آگیا۔ سٹڈی میں پتہ چلاکہ 60 سے 80 سال کے افراد میں اضطراب کی سطحوں میں سب سے بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ اس گروپ کے افراد نے پہلے نیشنل کورونا وائرس لاک ڈائون کے دوران ڈپریشن کی سطحوں میں اضافے کو بھی رپورٹ کیا ہے۔ ہیلتھ کیئر ورکرز نے وسیع تر آبادی میں کئی بڑے اور نمایاں فرق دیکھے ہیں۔ جن میں کم فری ٹائم، آرام دہ اور پر سکون محسوس کرنے میں کمی اور کام میں انتہائی مصروفیت کو رپورٹ کرنا شامل ہے۔ سٹڈی میں یہ بھی پتہ چلا کہ جوابات میں والدین کے ساتھ یا چھوٹے بچوں کے ساتھ رہنے والے افراد کے گھروں میں زیادہ تنازعات اور کشیدگی کی نشان دہی کی گئی ہے لیکن ریسرچرز کا کہنا ہےکہ سٹڈی کے دوران لوگوں کا ایسا حیران کن تناسب بھی سامنے آیا ہے جس میں اس کورونا لاک ڈائون کے دوران خاصے مثبت تجربات دیکھے ہیں، جن میں کمیونٹی کا زبردست احساس، بہتر ماحول، اپنے پیاروں کے ساتھ اچھے اور قریبی روابط، سفر کے وقت میں کمی، فیملی کیلئے زیادہ فری وقت شامل ہے۔ سٹڈی میں یہ بھی پتہ چلا کہ معذور اور شیلڈز میں رہنے والے افراد میں لاک ڈائون کے کچھ منفی اثرات تھے جو کہ دوسروں کی جانب سے مثبت نشان دہی کی نسبت ان کیلئے کم مفید تھے۔ اوسطاً نوجوانوں میں پیڈامک سے قبل معمر افراد کے مقابلے میں بلند تر انزائٹی اور ڈپریشن کو رپورٹ کیا اور پہلے لاک ڈائون کے دوران بھی یہ نوجوانوں میں یہ دونوں کیفیات بلند تر کے طور پر برقرار رہیں۔ ریسرچز کا کہنا ہے کہ ہماری سٹڈی میں جو صورت حال سامنے آئی ہے، اس کے پیش نظر نوجوانوں اور معمر افراد کی مینٹل ہیلتھ ہمارے لئے تشویش کا سبب ہے اور اس صورت حال کی جانب خاصی توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ معمر افراد پر اس کے غیر متناسب اثر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ امپیریل کالج لندن میں ڈپارٹمنٹ آف برین سائنسز سے منسلک سرکردہ ریسرچر اور یوکے ڈیمنشیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر ایڈم ہیمپشائر نے کہا کہ اگرچہ کورونا لاک ڈائون کے دوران ہر عمر کے افراد میں انزائٹی کی کیفیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن معمر افراد اس سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں اور ان میں ڈپریشن کی سطح بھی بلند تر دکھائی دی ہے وہ چند گھنٹے ہی سو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں جن میں پیاروں سے دوری ہو سکتی ہے اور کورونا وائرس لاحق ہونے کی تشویش ان کیلئے بڑا خطرہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہےکہ معمر افراد سے متعلق ان اعداد و شمار پر خاصی توجہ نہیں دی گئی ہے اور ان لوگوں کی ہیلتھ کیئر اور مینٹل ہیلتھ انٹروینشن کو ترجیح دی جانی چاہئے، خاص طور پر ان لوگوں پر توجہ مرکوز کی جائے جو طبی اعتبار سے کمزور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا لاک ڈائون پابندیوں سے جب ہم باہر نکل رہے ہیں تو ہمیں ان افراد پر خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ یہ سروے عوام اور ریسرچرز کیلئے دستیاب ہے۔ اس سروے میں جواب دہندگان سے دوربارہ رابطہ کیا جائے گا اور یہ دیکھا جائے گا کہ آیا کہ وہ کورونا پینڈامک کے دوران اور اس کے بعد کس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ یہ پیپر جرنل نیچر کمیونی کیشنز میں شائع ہوا ہے۔

یورپ سے سے مزید