• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’پائیدار ترقی کے اہداف‘ ان کے حصول کیلئے دنیا کو تیزی اور سنجیدگی دِکھانا ہوگی

2015ء میں دنیا کے تمام ممالک نے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے2030ء تک سب کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے، نکاسی آب، اور ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا۔15سال کے عرصہ پر محیط اس منصوبہ کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہے اور ہم اب بھی ان اہداف کے حصول سے بہت دور ہیں۔ دنیا بھر میں اب بھی 26فی صد لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں، تقریباً آدھی آبادی کو محفوظ نکاسی آب کی سہولت حاصل نہیں اور تقریباً ایک تہائی لوگوں کے پاس ہاتھ دھونے کے لیے صابن اور پانی دستیاب نہیں ہے۔

2030ء کے اہداف پر پیشرفت ہورہی ہے، تاہم یہ ناکافی اور اس کی رفتار انتہائی سست ہے۔ اگر دنیا چاہتی ہے کہ 2030ء تک سب کو ان سہولیات تک بلاتفریق رسائی حاصل ہو تو انھیں موجودہ رفتار کے مقابلے میں تین گنا رفتار کے ساتھ ان اہداف کے حصول کے لیے کام کرنا ہوگا۔

پینے کے صاف پانی، محفوظ نکاسی آب اور ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولیات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، البتہ اربوں افراد اب بھی ان سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کے اثرات انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں: پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی اور غیرمحفوظ نکاسی آب کی سہولیات کے باعث ہر سال لاکھوں افراد وبائی امراض پھیلنے سے ہلاک ہوجاتے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد ہے۔

ایک چوتھائی افراد پینے کے صاف پانی سے محروم

پائیدار ترقی کا ہدف نمبر 6.1، ’’2030ء تک سب کے لیے پینے کے صاف اور مساوی پانی کی فراہمی‘‘ کی بات کرتا ہے۔

آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ عالمی ادارہ صحت/یونیسیف کے جوائنٹ مانیٹرنگ پروگرام برائے فراہمی آب اور نکاسی آب کے مطابق 2020ء تک دنیا کی 74فی صد آبادی کو مناسب طور پر پانی کے محفوظ وسائل (پائپ کے ذریعے گھر تک پانی کی فراہمی، عوامی نلکے، ٹیوب ویل، بورنگ، محفوظ آبشار، بارش کا محفوظ کیا گیا پانی) تک رسائی حاصل ہے، جوکہ مائیکروبائیولوجیکل اور ترجیحی کیمیائی آلودگی سے پاک ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب بھی ہر چار میں سے ایک فرد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

2015ء میں پائیدار ترقی کے اہداف کا جس وقت اعلان کیا گیا تھا، اس وقت 70فی صد لوگوں کو یہ سہولت حاصل تھی اور پانچ سال میں صرف چار فی صد اضافی لوگوں تک یہ سہولت پہنچائی جاسکی ہے۔ یقیناً، اگر 2030ء میں سب تک یہ سہولت پہنچانی ہے تو اس کے لیے موجودہ پیشرفت انتہائی ناکافی اور پریشان کن ہے۔ موجودہ رفتار سے 2030ء تک صرف 82 فی صد لوگوں تک یہ سہولت پہنچائی جاسکے گی۔2030ء کے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو ابھی سے اس رفتار کو تین گنا بڑھانا ہوگا۔

محفوظ نکاسی آب کی سہولت تک رسائی 

پائیدار ترقی کا ہدف 6.2، ’’2030ء تک سب کو مناسب، محفوظ اور مساوی نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کی سہولت تک رسائی اور کھُلی جگہ میں رفع حاجت کا خاتمہ‘‘ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ 2020ء میں دنیا کی آدھی سے کچھ زیادہ یعنی 54فی صد آبادی کو مناسب طور پر محفوظ نکاسی آب کی سہولت حاصل تھی۔ حیران کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ تقریباً ہر دو میں سے ایک شخص کو اس سہولت تک رسائی حاصل نہیں ہے، صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کی چھ فی صد آبادی کو کسی بھی شکل میں نکاسی آب کی سہولت حاصل نہیں ہے اور انھیں کھلی جگہ پر رفع حاجت کرنی پڑتی ہے۔

کیا دنیا اس ہدف پر پیشرفت کررہی ہے؟ گزشتہ پانچ برسوں میں ہم نے پیشرفت ضرور دیکھی ہے لیکن یہ پیشرفت مطلوبہ رفتار کے مقابلے میں کہیں سست ہے، ہرچندکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے مقابلے میں اس ہدف پر پیشرفت قدرے بہتر ہے۔ 2015ء میں صرف 47فی صد عالمی آبادی کو محفوظ نکاسی آب کی سہولت حاصل تھی، یہ شرح 2020ء میں بڑھ کر 54فی صد ہوچکی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ پانچ سال میں ہم نے 7فی صد کا اضافہ دیکھا ہے۔

2030ء میں نکاسی آب کی سہولت تک سب کی رسائی اور موجودہ حقائق کے درمیان فرق اب بھی بہت بڑا ہے، اگر پیشرفت کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030ء تک صرف 68فی صد عالمی آبادی کو اس سہولت تک رسائی حاصل ہوسکے گی اور ایک تہائی لوگ اس سہولت سے محروم رہیں گے۔ اگر دنیا چاہتی ہے کہ اس ہدف کے مطابق، سب کو یہ سہولت فراہم کی جائے تو انھیں موجودہ رفتار کو تین گنا بڑھانا ہوگا۔

ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت

صفائی ستھرائی اور ہاتھ دھونے کی سہولت تک رسائی بھی پائیدار ترقی کے ہدف 6.2کا حصہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، 2020ء میں دنیا کی 71فی صد آبادی کو ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولیات (پانی اور صابن) تک رسائی حاصل تھی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کی 29فی صد آبادی اب بھی ہاتھ دھونے کے لیے صابن (یا پھر دونوں) کی دستیابی سے محروم ہے۔

کیا اس ہدف کے حصول پر پیشرفت ہورہی ہے؟ 2015ء میں دنیا کی 67فی صد آبادی کو ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت تک رسائی حاصل تھی اور 2020ء میں یہ شرح بڑھ کر 71فی صد ہوگئی، اس طرح پانچ سال میں صرف چار فی صد اضافی لوگوں تک یہ سہولت پہنچائی جاسکی۔

پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے اہداف کی طرح، ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت کے ہدف کے حصول میں پیشرفت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اگر پیشرفت کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030ء تک صرف 79فی صد عالمی آبادی تک یہ سہولت پہنچائی جاسکے گی اور ہر پانچ میں سے ایک شخص تب بھی اس سہولت سے محروم ہوگا۔ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے دنیا کو اس پر پیشرفت کی رفتار کو ابھی سے چار گنا بڑھانا ہوگا۔

کامرس سے مزید