• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید کے دن مندرجہ ذیل امور کا انجام دینا مستحب (پسندیدہ) عمل ہے۔ غسل کرنا ۔مسواک کرنا۔ اچھا لباس زیبِ تن کرنا۔ اگر نیا لباس میسر نہ ہو تو دھلا ہوا لباس پہننا۔ نمازِ فجر محلے کی مسجد میں ادا کرنا۔

عیدگاہ پیدل چل کر جانا۔جلد عید گاہ جانا۔جس راستے سے عیدگاہ جائے، واپس دوسرے راستے سے آنا۔ قربانی کرنے والے کا قربانی کے گوشت سے (بطورِ ناشتہ) کچھ کھانا۔

تکبیرِ تشریق کے مسائل

۱۔نویں ذی الحجہ سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد جو جماعت کے ساتھ ادا کی گئی ہو، ایک مرتبہ تکبیرِ تشریق پڑھنا فرض ہے اور تین بار کہنا افضل ہے۔

۲۔تکبیر ِتشریق کے کلمات یہ ہیں :۔

’’اللہ اکبر، اللہ اکبر،لاالہٰ الاّاللہ واللہ اکبر،اللہ اکبروللّٰہ الحمد۔

۳۔ تکبیرِتشریق سلام پھیرتے ہی پڑھنا واجب ہے۔

۴۔منفرد (تنہا نماز پڑھنے والا) پر تکبیرِتشریق واجب نہیں ،تاہم اس کا بھی تکبیرات کو پڑھ لینا بہتر ہے۔

۵۔عورتوں پرجب کہ وہ گھر میں تنہا نماز ادا کریں ، تکبیرِ تشریق شرعا ًواجب نہیں۔

نمازِ عید الاضحی کا طریقہ

نمازِ عید دورکعت ہیں۔ نمازِ عید اور دیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ‘‘ پڑھنے کے بعد قرأت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد رکوع سے پہلے، ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانا چاہیے، پہلی رکعت میں دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیے جائیں،چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔نمازِ عید کے بعد خطبہ سننا مسنُون ہے۔