• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں ایکٹنگ ہو یا ڈائریکشن معروف اداکار جاوید شیخ کی فنی زندگی مشکلات اور جدوجہد سے بھرپور رہی ہے۔ جاوید شیخ کی پہلی فلم دھماکا اور بہ طور ہدایت کار پہلی فلم’’مشکل‘‘ اوپنگ سے ریلیز تک جن مشکلات سے دوچار رہی ہے، وہ ایک الگ کہانی ہے، اس کے بعد فلم ’’چیف صاحب‘‘ میں جاوید شیخ نے بہ طور کمرشل فلم میکر اپنا نام بنایا۔ بعد ازاں یس باس، ہمیں پیار نہ ہو جائے، مجھے جینے دو، یہ دِل آپ کا ہوا، کھلے آسمان کے نیچے، اور وجود نامی فلمیں بہ طور ہدایت کار جاویدشیخ کی کیئریر میں شامل ہیں۔ 19جولائی 2002پاکستانی فلم اور سینما انڈسٹری کے حوالے سے ہمیشہ یادگار رکھا جائے گا، اس دن پاکستان فلم انڈسٹری اور سینما انڈسٹری کے احیاء کا ایک بار پھر آغاز ہوا تھا،جب جاوید شیخ نے فلم ’’یہ دِل آپ کا ہوا‘‘ ریلیز کی تھی۔ 

جاوید شیخ کا کہنا ہے کہ بہ طور ہدایت کار تین فلموں ’’یس باس‘‘ کہیں پیار نہ ہو جائے، اور مجھے جینے دو کی ناکامی کا مجھے بے حد افسوس ہوا، میں نے فیصلہ کیا کہ ایک مختلف قسم کی فلم بنائوں گا، اور اسکرپٹنگ (کہانی، اسکرین پلے ) پر خاص توجہ دوں گا اور پھر انہوں نے فلم ’’ یہ دل آپ کا ہوا‘‘ کو تخلیق کر کہ یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ پاکستان کے ایک بہت بڑے فلم میکر ہیں، وہ فلم پاکستان کی سب سے بڑی قومی زبان کی بلاگ بسٹر فلم ثابت ہوئی، جاوید شیخ نے اس فلم کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں پیش کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس فلم کو زبردست پذیرائی ملی۔ فلم کے پروڈیوسر اکبر خان تھے۔ انہوں نے اس دور میں پاکستان کی مہنگی ترین فلم بنائی تھی۔ اس فلم پر 6کروڑ روپے لگے تھے۔ 

اس وقت ڈالر کی قیمت کم تھی، پاکستانی گجر برانڈ ڈبل ورژن فلم میکرز نے مذاق اڑایا کہ جاوید شیخ اتنی بڑی لاگت کہاں سے پُوری کریں گے۔ اس فلم کو کوئی ڈسٹری بیوٹرز لینے کو تیار نہیں تھا، مگر قسمت کی دیوی اس بار جاوید شیخ پر مہربان تھی۔ انہوں نے ایک نیا ڈسٹری بیوشن ادارہ JS پروڈکشن) کے نام سے متعارف کرایا۔ فلم ایک انٹرنیشنل کوالٹی میں جدید کیمروں اور عمدہ ساونڈ سسٹم پر بنائی گئی تھی۔ 18جولائی 2002 کی شب فلم انڈسٹری سے منسلک لوگ خوب مذاق اڑا رہے تھے کہ فلم کے پروڈیوسر اکبر خان کا کل 19جولائی کو پانچ کروڑ روپے کا جنازہ باکس آفس پر نکلے گا۔ لیکن جاوید شیخ نے اس فلم کو ملک بھر میں ایک مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے فینز کے تعاون سے ریلیز پلان کیا۔

اس زمانے میں آج کی طرح فلم کی پروموشن نہیں ہوتی تھی،صرف دو چینلز ہوتے تھے۔جاوید شیخ نےفلم کے گانوں کی آڈیو کیسٹ فلم کی ریلیز سے قبل ایک بین الاقوامی کمپنی کو منہ مانگے روپوں کے بدلے رائٹس دیےتھے۔ فلم کی موسیقی امجد بوبی نے ترتیب دی تھی، مگر سنگیت کے جادو کے لیے بھارتی سنگرز کے خدمات حاصل کی گئی تھیں ۔بھارت سے گلوکار سونو نگم ، کمار سانو ،الکایاکنگ وغیرہ نے اپنی آواز پہلی بار پاکستانی موسیقار امجد بوبی کے ساتھ شیئرز کی تھی اور بلاشبہ فلم کی موسیقی ایک سپرہٹ سنگیت البم تھی اور گزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان بھر میں سب سے زیادہ اس فلم کے آڈیو CDSسیل ہوئے تھے۔

فلم ’’یہ دل آپ کا ہوا ‘‘کو پاکستانی سینما میں ڈیکوریشن کے حوالے سے یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ ملک بھر کے سینما گھروں میں پہلی بار فلم ڈسٹری بیوٹرز کی جانب سے فلم کے پبلسٹی ڈیکوریشن پینا فلیکس بورڈ لاکھوں روپے میں تیار کر کے آویزاں کیے گئے تھے، ورنہ اس سے قبل رنگ برش سے کام چلایا جاتا تھا۔ اس وقت واقعی پینا فلیکس بورڈ لاکھوں روپے میں محدود انداز میں بیرون ممالک اور بنکاک وغیرہ سے تیار کروائے جاتے تھے، جو کافی مہنگا کام تھا۔فلم ’’یہ دل آپ کا ہوا‘‘میں فوٹو گرافروقار بخاری (مرحوم) تھے۔ 

انہوں نے پہلی بار اس فلم کو سے ہالی وڈ کے لوگوں کے ساتھ BL4کیمرے اور DTSسائونڈ پر مکمل کیا تھا۔ اس فلم کے کیمرے میں ڈبنگ کی سہولت بھی موجود تھی اور پاکستان میں یہ کارنامہ فلم ’’یہ دل آپ کا ہوا‘‘کے ذریعے SYNCساؤنڈ سسٹم متعارف کیا گیا تھا۔ اس فلم کے اسکرپٹ پر جاوید شیخ نے بہت زیادہ محنت کی تھی، صابر کاشمیری اور آغا حسن افضال نے فلم کا اسکرپٹ لکھا، جبکہ اداکار شیری ملک نے سکرین پلے میں معاونت کی تھی۔ یہ ایک ٹرائی اینگل LOVEاسٹوری پر مبنی فلم تھی۔ 

فلم بینوں بالخصوص پاکستانی سلور اسکرین پر پہلی بار آنکھوں کو اسپین سوئزر لینڈ کی حسین وادیوں میں جدید کیمروں کا DTSسائونڈ سسٹم کے ساتھ ایک مکمل رومانی ،ڈرامائی میوزیکل اعلیٰ معیار کی انٹرنیشنل انداز کی فلم تھی ۔فلم میں معمر رانا، ثناء اور سلیم شیخ نے مرکزی کردار خوب صورت انداز میں ادا کیے تھے، اداکارہ ثناء اس فلم میں بہت خوب صورت نظر آئی تھیں۔ وینا ملک کی بہ طور اداکارہ یہ پہلی فلم تھی، جب کہ جاوید شیخ ،ناصر علی ،شفقت چیمہ ،اسماعیل تارا ، زوہا علی، سمیرا بیگ،وغیرہ نے بھی اپنے اپنے کرداروں کے ساتھ بھرپور انصاف کیا تھا۔ 

فلم نے ملک گیر سطح پر باکس آفس پر سابقہ ریکارڈز بریک کر دیے تھے،فلم کا پہلا ہفتہ ملک گیر سطح پر دو کروڑ روپے کا ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت2002میں کسی مکمل ملٹی پلیکس سینما گھروں کا وجود تک پاکستان میں نہیں تھا۔ اس فلم نے کیپری سنیما میں مسلسل نمائش کے ایک سال مکمل یعنی 365 دن نمائش کے مکمل کر کے ایک بہت بڑا ریکارڈ بنایا تھا۔ اس طرح سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے راحت سینما میں اس فلم نے ریکارڈز باکس آفس کا کلیکشنز حاصل کر کے کہ فلم ٹریڈ کو حیران کردیا تھا، جب کہ پنجاب سرکٹ کے سب سے بڑے مرکز لاہور کے گلستان سینما میں اس فلم نے پنجابی فلموں کے میکرز کو پریشان کردیا تھا، مسلسل ایک سال ہائوس فل شوز کے ذریعے حیران کر کے رکھ دیا تھا۔

اسی طرح پورے ملک میں فلم ’’یہ دل آپ کا ہوا ‘‘ایک بلاک بسٹر کام یاب ترین پلاٹینم جوبلی فلم ثابت ہو گئی۔ اس فلم کا ملکی سطح پر باکس آفس کلیکیشن اس وقت20کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا تھا،جو بلاشبہ ایک بہت بڑا ریکارڈ ہے۔ فلم ’’یہ دل آپ کا ہوا‘‘ کے کیپٹن آف شپ جاوید شیخ کا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا، اس فلم کی کام یابی ملکی سطح پر ہر جگہ موضوع بحث بن گئی تھی۔اس فلم نے کراچی سرکٹ میں5کروڑ روپے کا باکس آفس شیئرز حاصل کیا تھا۔ حیدر آباد سے ایک کروڑ، جب کہ پنجاب سرکٹ سے6سے7کروڑ روپے اور دنیا بھر سے دو کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس یافتہ فلم تھی۔ 

اس فلم میں جاوید شیخ کی پروڈکشن ،ڈائریکشن فلم پر گرفت ہر شعبے میں مضبوط نظر آئی، ریلیز سے نمائش کے آخری دن تک جاوید شیخ نے فلم پر اپنی نظریں مرکوز رکھی تھی۔ اس پاکستانی فلم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس فلم کی نمائش، پریذیڈنٹ ہائوس اسلام آباد اور پرائم منسٹر ہائوس میں دو مرتبہ ہوئی، اس وقت کے صدر پرویز مشرف ،آصف زرداری متعدد وزراء سمیت، سینیٹرز اور بیورو کر یٹس نے نہ صرف فلم دیکھا، بلکہ اس فلم کو پاکستان کی ایک بہت بڑی کام یابی قرار دیا، جو بلا شبہ فلم میکر پرائیڈ آف پرفارمنس جاوید شیخ کے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ 19سال گزرنے کے باوجود بھی یہ فلم عوام کے دلوں میں تازہ ہے۔ہم ’’یہ دل آپ کا ہوا‘‘ کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید