• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی تحصیل اوگی کے شمال مغرب میں واقع شیر گڑھ قلعہ دو عشروں تک مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کا شاہد رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سپہ سالاروں ہری سنگھ نلوا اور دیوان بھوانی داس نے کشمیر کی فتح کے بعد 1819ء میں اس قلعے کی تعمیر کروائی تھی۔

اس زمانے میں مانسہرہ پر دو طاقتوں کا اثر و رسوخ تھا۔ مغرب کی جانب کابل کے درانی بادشاہوں کی حکمرانی تھی جبکہ مشرق میں رنجیت سنگھ درانیوں سے پنجاب میں مقابلہ کررہا تھا۔ اس قلعے کو بنانے کا مقصد بھی کشمیر کو جانے والے مغربی راستوں کوبند کرنا تھا تاکہ اسے درانیوں کے حملوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ 1824ء سے 1844ء کے دوران تنولی سردار پائندہ خان تنولی نے شیر گڑھ پر 17حملے کیے اور بالآخر 20سال کی جدوجہد کے بعد قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سے یہ قلعہ تنولی قبیلے کے پاس ہے۔

سطح سمندر سے تقریباً 1600میٹر کی بلندی پر نیلے دیودار کے درختوں کے درمیان واقع اس قلعے کے اندرونی حصے کو 1870ء کی دہائی میں نواب محمد اکرم خان نے رہائشی مقاصد کے تحت استعمال کرنے کے لیے حویلی میں تبدیل کردیا۔ حویلی کے اندرونی صحن کا شمالی حصہ بڑے پیمانے پر فریسکو آرٹ سے سجا ہوا ہے اور اس میں ہمالیائی فن تعمیر اور لکڑی کا کام نظر آتا ہے۔ پھولوں کے نقشوں کے علاوہ، پھلوں پر مبنی فریسکو آرٹ، برتن اور روزمرہ استعمال کی اشیا موجود ہیں۔ محرابی دروازے پر پینٹ شدہ چائے کا سیٹ اس بات کا ثبوت ہوسکتا ہے کہ فریسکو آرٹ ورک کولونیل دور میں کیا گیا تھا۔

قلعے میں عمدگی سے سجے دو کمروں میں کیے گئے آرٹ اور لکڑی کے کام کا موازنہ لاہور کی مشہور حویلی نونہال سنگھ اور پشاور کے سیٹھی ہاؤس میں سجاوٹ کے معیار سے کیا جاسکتا ہے۔ یہاں کی دیواروں پر چونے کے پلاسٹر کو انڈوں اور گھوڑے کے بال جیسے منفرد اجزاء کا استعمال کرکے مضبوط کیا گیا ہے۔ شیر گڑھ، موسم گرما میں امب ریاست کے دارالحکومت کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ 

قلعے کا ایک کمرہ امب ریاست (جو برطانوی ہندوستان اور بعد میں پاکستان کے تحت نیم آزاد خودمختار ریاست کی حیثیت سے کام کرتی تھی) کی انتظامی دستاویزات سے بھرا ہوا ہے۔ ان کی فوج 6سے 8 ہزار حاضر سروس فوجیوں پر مشتمل تھی جبکہ 15سے20ہزار قبائلی رضاکار اس کے علاوہ تھے۔ دلچسپی سے تعلق رکھنے والی چیزوں میں امب ریاست کی کار رجسٹریشن کتابچے، ڈاک ٹکٹیں، عدالتی آرکائیوز، اسلحہ خانہ کی معلومات، محصولات کے ریکارڈ اور کولونیل اور پاکستانی حکام بشمول قائد اعظم ؒ کے ساتھ خط و کتابت بھی شامل ہیں۔

گزرتے وقتوں میں قلعے کے اندر300کل وقتی عملہ ملازمت پر تھا، جن میں سے کچھ ایسے ثقافتی کردار بھی تھے جو اب متروک ہوچکے ہیں۔ ان میں قلعے کے نجی حلقوں کی حفاظت کرنے والے ’دیدیبان‘، مہمان نوازی کے انچارج ’ورسادار‘ اور عید کا اعلان، مہمانوں کا استقبال اور کسی بچے کی پیدائش کا اعلان کرنے جیسے اہم موقعوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ڈرم بجانے والے ’ناغرچیس‘ تھے۔

شیر گڑھ قلعے کے فن تعمیر میں بہت سارے عناصر سیاحوں کو اس کی اصل کی یاد دلاتے ہیں جیسے کہ دو سو سال پہلے سکھ دورِ حکومت میں تیار کیا گیا فوجی ڈھانچہ۔ بیرونی دیواروں کو سینکڑوں طاقچوں (کنگروں) سے آراستہ کیا گیا ہے، جہاں سے اندر موجود گارڈز قریبی حملہ آوروں پر فائرنگ کر سکتے تھے۔ قلعے کے بڑے بڑے لکڑی کے دروازوں کو بھاری بولٹ کے ذریعے مضبوط بنایاگیا ہے۔ شیر گڑھ قلعہ کا ’ڈیرہ‘ (سیاحوں کاسیکشن) 1920ء کی دہائی میں نواب خانِ زمان خان کے دور میں بنایا گیا تھا۔ ڈیرہ میں آج بھی سماجی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

انیسویں صدی کے اوائل میں امب ریاست میں شیر گڑھ قلعے کے سامنے کے دروازے پر دو توپیں نصب کی گئیں۔ 1969ء میں جب امب ریاست کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تو اس کی فوج کے زیرِ استعمال 22توپوں کو حکومت پاکستان کے حوالے کردیا گیا۔ یہ توپیں اس وقت خیبر پختونخوا میں مختلف ریاستی گیسٹ ہاؤسز ، میسز اور دفاتر کے باہر نصب ہیں۔ 2014ء میں دو توپوں کو مقامی ورثے سے مطابقت کے اعتراف کے طور پر حکومت نے اصل مالکان کو واپس کردیا تھا۔ اکتوبر 2005ء میں مانسہرہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں اس قلعے کی مغربی دیواروں کو اہم ساختی نقصان پہنچا تھا۔

شیر گڑھ قلعہ خیبرپختونخوا کے فن، تاریخ، طرزِ تعمیر اور ثقافتی ورثہ کو دریافت کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک پُرکشش جگہ ثابت ہوسکتی ہے۔ سکھ تاریخ پر تحقیق کرنے والے اکثر اس قلعے میں آتے رہتے ہیں۔ 2019ء میں قلعے کی تعمیر کے 200سال مکمل ہونے پر تنولی خاندان نے مختلف ممالک سے سکھوں کو قلعہ دیکھنے کے لیے مدعو کیا تھا تاکہ وہ اپنے ماضی کے حکمرانوں کے طرزِ زندگی کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ حاصل کرسکیں۔ اگر اس طرح غیر ملکی سیاح تاریخی مقامات دیکھنے پاکستان آتے رہیں تو یہ ملک کی معیشت اور مقامی آبادی کے لیے اچھی بات ہے۔