• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ: اسکول، شادی ہالز بند کرنے کا فیصلہ


کراچی میں کورونا وائرس ایک مرتبہ پھر بے قابو ہو گیا جس کی وجہ سے سندھ حکومت نے پیر سے پابندیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

سندھ کورونا ٹاسک فورس نے صوبے میں کرونا کیسز کی شرح 10 فیصد اور کراچی میں کیسز کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کرنے پر ایک بار پھر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں صوبے میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث پیر سے تعلیمی ادارے بند کرنے، شادی ہالز اور دیگر تقریبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، جام اکرام، مشیرِ قانون مرتضیٰ وہاب، ہیلتھ پارلیمنٹری سیکریٹری قاسم سومرو، آئی جی سندھ مشتاق مہر، اے سی ایس ہوم قاضی شاہد پرویز، وزیرِ اعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، سیکریٹری صحت کاظم جتوئی، ڈاکٹر باری، ڈاکٹر سارا، ڈاکٹر قیصر سجاد، سعید قریشی، کور فائیو ،رینجرز اور دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ویکسین نہ لگانے والے افراد کی موبائل سمز بند کرا دی جائے گی، ان افراد کی موبائل سمز بند کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ذریعے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو خط بھی لکھا جائے گا۔

خط میں لکھا جائے گا کہ پی ٹی اے تمام لوگوں کو پیغام بھیجے کہ وہ ویکسینیشن کروائیں، ویکسینیشن نہ کروانے والوں کی سمیں بند کر دی جائیں۔

کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن سرکاری ملازمین نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی ان کی تنخواہیں آئندہ ماہ سے بند کرنے کے لیئے اقدامات کیئے جائیں گے، اس سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے سیکریٹری فنانس کو اے جی سندھ سے رابطہ کرنے کی ہدایت دے دی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے، انتخابات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے، سرکاری اور نجی سیکٹرز میں 50 فیصد اسٹاف حاضر ہو گا۔

کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیر سے شاپنگ مال اور مارکیٹیں صبح 6 سے شام 6 بجے تک کھلیں گی۔

اجلاس میں جمعے اور اتوار کو محفوظ دن قرار دیتے ہوئے ان دونوں دنوں میں مارکیٹیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم کھانے پینے کی اشیاء، کریانہ و دودھ کی دکانیں، بیکریاں اور میڈیکل اسٹورز کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔

اجلاس میں سندھ بھر میں درگاہیں بھی بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، فیصلہ کیا گیا کہ ریسٹورنٹس کی انڈور اور آؤٹ ڈور دونوں بند ہوں گی، ٹیک اوے کی اجازت ہو گی، ان تمام فیصلوں پر پیر سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

سیکریٹری صحت سندھ کاظم جتوئی نے بتایا کہ سندھ میں مجموعی طو ر پر 1002 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں، ان اسپتالوں میں داخل مریضوں میں سے 85 فیصد نے ویکسین نہیں لگوائی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں کورونا وائرس کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے، عید کے بعد اب صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے، سندھ بھر میں 1002 مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ایک ڈوز لگوائی ہے وہ نان ویکسینیٹڈ سے زیادہ بہتر یا ٹھیک ہیں، صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسی نیشن بہت ضروری ہے، صرف 15 فیصد مریض ویکسینیٹڈ ہیں جو بہتر حالت میں ہیں۔

اس سے قبل سیکریٹری صحت سندھ کاظم جتوئی نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ صوبے میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 10 اعشاریہ 3 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ کراچی میں گزشتہ روز کورونا کیسز کی شرح 21 اعشاریہ 58 فیصد رہی۔

انہوں نے بتایاکہ کراچی کے ضلع شرقی میں گزشتہ ہفتے میں اوسطاً 29 فیصد کیسز سامنے آئے ہیں، اسی طرح کورنگی میں 17 فیصد، ضلع وسطی اور جنوبی میں 15 فیصد، ملیر اور غربی میں 10 فیصد ہفتہ وار کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

سیکریٹری صحت سندھ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سندھ میں 21 جولائی تک 307 مریض انتقال کر گئے، جن میں سے 201 مریض اسپتالوں میں انتقال کر گئے، 70 مریض وینٹی لیٹرز پر فوت ہوئے جبکہ 12 فیصد کورونا مریضوں کا گھروں میں انتقال ہوا۔

انہوں نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ 457 مریضوں میں سے 35 فیصد اجتماع میں شرکت کی وجہ سے، 23 فیصد مریض شادی کی تقریبات سے، 17 فیصد مریض مارکیٹوں میں جانے سے، 12 فیصد مریض دوسرے شہر جانے سے، 3 فیصد مریض کام کرنے والی جگہوں سے کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ سندھ کو کورونا ویکسین کی کل 67 لاکھ 20 ہزار 997 ڈوزز موصول ہوئی ہیں، جن میں سے اب تک 53 لاکھ 12 ہزار 921 ڈوزز استعمال ہوئی ہیں۔

قومی خبریں سے مزید