• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ ملکوں اور ریاستوں کے پاس اپنا داخلی اور خارجی نظام چلانے کیلئےخفیہ ایجنسیاں اور جاسوسی ادارے ہوتے ہیں جن کے ذریعے حکومتی ریاستی مفادات اور نظم و نسق چلایا جاتا ہے۔ خاص طور پر جنگوں کے زمانے میں جاسوسی کا کام بہت سرگرم ہوتا ہے۔ دشمن کے علاقے کی معلومات کیلئےوہاں جاسوس اتارے جاتےتھے کسی کے گھر سے نقشے وغیرہ بھی برآمد ہوجاتے تو اسے اپنا دفاع کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ وائرلیس وغیرہ پکڑی جائے تو سکہ بندی جاسوسی کا ٹھپہ لگ جاتا۔ لیکن اب لگتا ہے ٹیکنالوجی نے ان جاسوسی کے محکموں اور خفیہ ایجنسیوں میں بھی بے روزگاری بڑھانا شروع کردی ہے۔ اب جاسوسی اور مخبری کیلئے افرادی قوت سے بھرے محکمہ رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ گزشتہ دنوں اس خبر نے چونکا دیا کہ ایسا سوفٹ ویئر کئی ممالک اور کمپنیوں یا محکموں نے استعمال کرنا شروع کردیا ہے جس سے دنیا بھر کے بڑے سوشل ورکرز، صحافی، وکلا، سیاسی رہنما حتیٰ کہ ملکوں کے سربراہان اس سوفٹ ویئر کے ذریعے جاسوسی کی زد میں آچکے ہیں۔ یہ سوفٹ ویئراسرائیل کی کمپنی این ایس او نے تیار کیا ہے۔ جسے Pegasusکا نام دیا گیا ہے۔ یہ فیشن سوفٹ ویئرکمپنی کے دعوے کے مطابق پچھلے کچھ عرصے سے صرف دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی جاسوسی کیلئے استعمال کی جاتی رہی ہے لیکن اس آلے پگاسس کے خریداروں نے اس کے استعمال کے دائرے کار کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اب ہم میں سے کوئی شخص بھی اس کی زد سے باہر نہیں ہے۔ پگاسس جدید آئی فون اور اینڈ رائیڈ میں داخل ہوکر اس میں سے تمام ڈیٹا ،ای میل، کالز، تصاویر اور گفتگو کی بھی تک جاسوسی کرتی ہے جو لیکLeakسامنے آئی ہے۔ اس سافٹ ویئرمیں پچاس ہزار لوگوں کے فون نمبر کھل سکے۔ جو این ایس اوNSOکمپنی نے اپنے گاہگ اور کلائنٹس کیلئے چوری کئے۔ فرانس میں موجود ایک میڈیا تنظیم اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس تمام لیک شدہ مواد تک رسائی حاصل کی۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ این ایس او کے گاہگ ممالک نے پہلے ہی اس ممکنہ جاسوسی سے آگاہ کردیا تھا ۔ پگاسس پراجیکٹ ڈیٹا چھوڑ جاتا ہے لیکن انہیں کسی عام آلات سے پکڑا نہیں جاسکتا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ابھی تک کسی کا فون ہیک ہوچکا ہے، اس کا کسی کو کان و کان پتہ نہی چلتا۔ برطانوی اخبار گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بہت جلد اس کمپنی کی جانب سے ہیک کئے گئے فون نمبروں کی لسٹ شائع کردیں گے لیکن ابھی اس لسٹ کے بارے میں کچھ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم اس لسٹ میں متوقع سیکڑوں مذہبی رہنما بڑے بزنس سربراہان ، دانشور، صحافی، وزرا اور سربراہان ممالک شامل ہیں۔ اس میں ایسے حکمران خاندان بھی شامل ہیں جو اپنی ہی خاندان کے دوسرے افراد کی سرگرمیوں کی جاسوسی کراتے ہیں۔ فی الحال تو جن 180صحافیوں کی لسٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں CNN، فنانشل ٹائم، نیویار ک ٹائم وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ایک عالمی طور پر چونکا دینے والی لسٹ ہے جس میں پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر دونوں کے فون نمبر پائے گئے ہیں۔ اس لسٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دس ہزار نمبر جاسوسی کیلئے منتخب کئے گئے تھے، اسی طرح مڈل ایسٹ کے کئی ممالک کے سربراہان سمیت اس کمپنی این ایس اور کو ان مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ ابھی تک کی رپورٹ کے مطابق این ایس اور کمپنی کے گاہکوں نے 45 ممالک کے لوگوں کو جاسوسی کیلئے منتخب کیا تھا۔ فی الحال تو این ایس اونے ایسے تمام الزامات کی تردید کی ہے کہ اس کے گاہک یا کلائنٹ ہر شعبے کی جاسوسی کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ تاحال چالیس ممالک کی خفیہ ایجنسیوں، ملٹری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ آلات فروخت کرچکے ہیں۔ ان سب کا ماسٹر ریکارڈ ر تو اسرائیل کے پاس ہی ہے۔ اس لئے کوئی بھی ملک جہاں بھی اور جس کی بھی جاسوسی کرتا ہے، اس کا پرنٹ یا امیج اسرائیل کی وزارت دفاع کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اسرائیل کی وزارت دفاع اس کمپنی NSOکو ریگولیٹ کرتی ہےاور انسانی حقوق کی قسم کی خلاف ورزی سے اجتناب کی شرط عائد کرتی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو یہ جاسوسی کی ٹیکنالوجی فروخت کرنے سے پہلے ان کے لائسنس وغیرہ کی بخوبی جانچ پڑتال کرتی ہے ۔ اس کےباوجود اس ٹیکنالوجی کو خریدنے والے دنیا بھر میں جمہوریت پسند جو لوگوں اور صحافیوں کی جاسوسی کرتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق اس لسٹ سے ہوئی جو حال ہی میں لیک ہوئی ہے۔ ایمنسٹی والوں نے اپنے سیٹزن لیب میں کام کے دوران منظر عام پر آنے والے فون نمبروں کا انکشاف کیا ہے جو کہ پگاسس کے ذریعے ہیک کئے گئے ۔ انڈیا نے اس کے ممکنہ استعمال سے انکار کیا ہے جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس استعمال پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکورٹی لیب چلانے والے کلاڈیو گارنیری نے کہا ہے کہ جب پگاسس جو یو ایس او کے کنٹرول میں ہے کسی فون کا کنٹرول سنبھالتی ہے تووہ اس فون پر ہونے والی ہر طرح کی سرگرمی خواہ وہ پرائیویٹ کی گئی ہو یا محفوظ ایپ کے ذریعے استعمال ہورہی ہو وہ سب اس سرائیلی وزارت دفاع کے زیر کنٹرول این ایس او کے پاس اوپن ہوچکی ہوتی ہے۔ یوں دنیا بھر کی ہر طرح کی خفیہ اور پرائیوٹ سرگرمی سے کسی کو بھی خود کو بھی محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یوں پرانا سیکورٹی نظام ناکارہ ہونے جارہا ہے۔
یورپ سے سے مزید