• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی بھاء

ضلع بدین کے گولارچی شہر سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغربی سمت صدیوں قبل ایک قلعہ تھا، حوادث زمانہ کی وجہ سے اب کھنڈرات کی صورت میں اس کی باقیات ہیں۔ تاریخی کتابوں میں اس کا ذکر’’ انڑ کوٹ‘‘ اور’’ کھیریوں کوٹ ‘‘کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ قلعہ کس زمانے میں تعمیر ہوا؟ اس بارے میں مؤرخین روشنی ڈالنے سے قاصر ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ اس ضمن میں ابھی بھی تحقیق میں مصروف میں۔ 

آرکیا لوجسٹس کا کہنا ہے کہ جس دور میں اس قلعے کی تعمیر شروع ہوئی ، اس وقت یہ علاقہ دریائے سندھ کی گزرگاہ تھی۔ دریا کے اس بہاؤ کو لوگ ’’پٹیھل‘‘ اور’’ پھٹو‘ کے نام سےجانتے ہیں۔ قلعے کا تذکرہ سندھ کی لوک کہانی،’ ’چھتو اور کھیریں‘ ‘میں کچھ یوںب تایا گیا ہے کہ، صدیوں قبل اس علاقے میں راٹھور قبیلہ آباد تھا۔ 

اس قبیلےکےسردار کی بیٹی ’’کھیریں‘‘ حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھی ۔جب وہ شادی کی عمر کو پہنچی تو اس کے والدین کو اس کی شادی کی فکر دامن گیر ہوئی۔ اس کے حسن کے چرچے پورے سندھ میں پھیلے ہوئے تھے، اس لیے بڑے بڑے سردار اس سے شادی کے خواہش مند تھے لیکن اس نے اپنے باپ کے سامنے یہ شرط رکھی کہ وہ اس شخص سے شادی کرے گی جو میرے گھر کے قریب میری رہائش کے لیے قلعہ تعمیر کرے گا۔ اس کی یہ شرط سن کر سب پیچھے ہٹ گئے لیکن اسی علاقے کا’’ چھتو‘‘ نامی خوب صورت نوجوان کھیریں کےباپ کے پاس آیااور کہا کہ مجھے کھیریں کی شرط منظور ہے۔

چھتو نےبغیر کسی کی مدد کے تن تنہا قلعہ کی تعمیر شروع کی، اس میں سالوں بیت گئے، چھتو اور کھیریں جوانی سے بڑھاپے کی حدود میں پہنچ گئے، لیکن نہ تو چھتو نے کہیں اور شادی کی اور نہ کھیریں نے۔ کہتے ہیں کہ قلعہ تو بن نہ سکا لیکن قلعے کی تعمیر کرتے کرتے بالآخر وہ قبر میں پہنچ گیا۔ کھیریں بھی قلعہ مکمل ہونے کے انتظار میں موت کی وادیوں میں سوگئی۔ چھتو اور کھیریں کی موت کے بعد قلعہ کی تعمیر مکمل ہوئی۔

’’جام انڑ سموں‘‘ جس نے سندھ پر صرف ساڑھے تین برس حکومت کی ، تاریخ میں وہی سندھ میںتین صدیوں تک قائم رہنے والی سمہ سلطنت کا بانی قرار پایا۔ اس کے متعلق تاریخی کتب میں لکھا گیا ہے، سندھ پر اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد اس نےگولارچی کے اسی قلعے میں رہائش اختیار کی۔ اس نے سومروں کے آخری بادشاہ ہمیر یا ارمابیل کے بہادر سالار جسوتن کو قتل کرکے اسے حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، جسوتن آگریو کا ذکر شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں کیا ہے۔

سندھی مؤرخین کے مطابق ،جب جام انڑ نے گولارچی میں قیام کیا ہوگا تو یہ قلعہ پہلے سے موجود ہو گا۔ 20 ایکڑ قطعہ اراضی پر تعمیر کردہ یہ وسیع و عریض قلعہ28 برجوں پر مشتمل تھا اوراس دور کا ایک عظیم شاہ کار شمار ہوتا تھا۔ انگریز محقق راورٹی کی کتاب’ ’سندھ جو مہران‘ ‘کے مطابق سمہ خاندان کے لوگ نقل مکانی کر کے لاڑ کے سموں کے ساتھ آ کر مل گئے تھے۔ سومرو حکومت کا تختہ الٹنے سے پہلے انہوں نے ایک قلعہ بھی تعمیر کرایا تھا، شاید یہ وہی قلعہ تھا جو بعد میں انڑ کوٹ کے نام سے معروف ہوا۔

بعض مؤرخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قلعے کا نام ’’ٹھاکر آباد‘‘ تھا، کیونکہ اس میں ایک ٹھاکر سردار کی قیام گاہ تھی۔ اس زمانے کے سندھ پر ہمیر سومروکی حکومت تھی جس نے رعایا پر بے پناہ مظالم ڈھا رکھے تھے۔۔’’ کچھ‘‘ کےعلاقے کے ’’سموں‘‘ خاندان کے لوگوں نے انڑ سمہ کو اپنا سردار بنایا۔ انڑ سمہ بے انتہا ذہین اور بہادر تھا۔

اس نے تھوڑے ہی عرصے میں ہمیر سموں کو سندھ سے بے دخل کرکے اپنی حکومت قائم کرلی اور کھیریں کوٹ میں رہائش اختیار کرکے بعد میں اپنے نام سے منسوب کردیا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ، جام انڑ نے اس قلعہ کو اپنا مسکن اس لیے بنایا تھا کیوں کہ یہ ایک محفوظ حصار تھا، جو دفاعی نقطہ نظر سے تعمیر کرایا گیا تھا، جس میں بادشاہ کے علاوہ فوجی حکام اور ان کے عملے کی رہائش گاہیں بھی تھیں۔

تاریخ دان اور محقق اشتیاق احمد انصاری اپنی کتاب ’’سندھ جا کوٹ اور قلعہ‘‘ میںرقم طراز ہیں’’اس قلعے کی تعمیر جیومیٹریکل طریقے پر کی گئی تھی‘‘۔ انڑ کوٹ کی شمالی دیوار کے ساتھ دریا بہتا تھا جب کہ باقی تین اطراف 100 فٹ چوڑی کھائی تھی۔ صدیوں سے گردش ایام کا مقابلہ کرتی قلعے کی دیواریں اب اینٹوں کے ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ قلعے کے اندر شمال مشرقی کونے پر ایک کنویں کے نشان اب بھی باقی ہیں، جو ماضی میں قلعہ کے اندر رہنے والوں کے لیے فراہمی آب کا ذریعہ ہوگا۔

ماہرین نے جب یہاں کھدائی کروائی تو اس میں سے ٹھوس مٹی کے کئی گولے ملے جن کا وزن دو کلو تک کا تھا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر منجنیقوں کے گولے ہیں جو دشمن پر حملے کے وقت قلعوں کی دیواریں تباہ کرنےکے کام آتے تھے۔ اس علاقے میں جام انڑکی گھوڑی اور کتے کا قصہ بھی بہت مشہور ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک بار کچھ چور جام کی گھوڑی چرانے کے ارادے سے آئے، لیکن اس کا وفادارکتا ان کے مقابل آگیا، چوروں نے گھوڑی اور کتے کو مار دیا۔ کتے کے بھونکنے سے جام انڑ اور اس کے سپاہیوں کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نےکئی چوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جام نے اپنی گھوڑی اور کتے کی قبریں بنوا کر، ایک یادگار تعمیر کرائی جو آج بھی ’’کتا ماڑی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

کھدائی کے دوران اس قلعے کے ساتھ ایک بستی کےبھی آثار ملے ہیں ،جہاں کچے مکانوں کے نشانات اور مٹی کے ٹوٹے برتن بھی تھے۔ اس جگہ تک آنےکے لیے پکی ہوئی اینٹوں سے ایک پختہ سڑک بنی ہوئی تھی۔ اس مقام سے ایک مسجد کے کھنڈرات بھی ملے ہیں۔ قلعے سے تھوڑے ہی فاصلے پر جنوب میں ’’ماڑی وسایو‘‘ کے آثار بھی ہیں، جن کے بارے میں گمان غالب ہے کہ شاید یہ آثار سندھ پر عربوں کے حملے کےوقت، راجہ داہر کا ساتھ چھوڑ کر محمد بن قاسم سےملنے والے’’ موکہ بن بسایہ‘‘ کے شہر کے ہوں، کیونکہ سندھ کی تاریخ میں بسایہ نام کا کوئی اور کردار موجود نہیں ہے۔

چند برس قبل وہاں سے لوگوں کو تراشے ہوئے پتھروں سے تعمیر کیے گئے ایک مندر کی باقیات، ایک تلوار اور مٹی کی مورتی ملی تھی۔ اگر صوبائی حکومت اور محکمہ ثقافت انڑ کوٹ کے کھنڈرات اور یہاں کے تاریخی آثار کو محفوظ کرکے سیاحت کے فروغ کے لیے کوشش کرے تو گولارچی کا قصبہ سندھ کا ایک بہت بڑا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔