• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھنبھور کے آثارسندھ کے دارالخلافہ کراچی سے مشرق طرف پینتیس میل دور ٹھٹھہ ضلع میں بحیرہ عرب کی خلیج گھارو کے جنوبی کنارے ، دریائے سندھ کی ایک قدیم شاخ کے ساحل پرتحصیل میر پور ساکرو میں واقع ہیں۔ بھنبھور ایک ساحلی شہر تھا جس کی بندرگاہ اپنے دور میں یقیناً مصروف ترین رہی ہوگی لیکن اب یہاں دیواروں اور گھروں کی گھسی پٹی بنیادوں کے سوا کچھ نہیں بچا ۔ اس شہر سے سسی پنوں کی رومانوی داستان جڑی ہوئی ہے۔ سسی ،بھنبھور کے برہمن راجہ کی بیٹی تھی جب کہ پنوں کیچ مکران کا بلوچ شہزادہ تھا اس لئے بلوچ قوم کے لوگوں نے سسی ، پنوں کی محبت کی یادگار کے طور مری پہاڑو ں کی ایک چوٹی کا نام’’ بھنبھور‘‘ رکھا ہے۔ 

روایت ہے کہ ارمابیل کی سرزمین نے اس رومانی جوڑے کو نگل لیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھنبھور صدیوں پراناشہر ہے جس کا ذکر مختلف تاریخی کتب میں کثرت سے ملتا ہے۔ یونانی تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ جب سکندر نے سندھ پر حملہ کیا تھا، اس وقت کراچی کے نزدیک’’ پاتال بندر‘‘ مشہور تھا جو اصل میں بھنبھور ہی تھا۔ سنکنگ میں کھوٹان نامی ایک علاقہ تھا جو پہلی صدی عیسوی میں ایران، یونان، چین اور ہندستان کے قافلوں کا تجارتی پڑاؤ ہونے کے ناتے ان کے تہذیبی رابطوں کا بھی اہم مرکز مانا جاتا تھا۔ یہاں سے دوسری چیزوں کے علاوہ چین کا ریشم روم بھیجا جاتا تھا جو کاشغر اور چترال سے دریائے سندھ کے ذریعے بھنبھورکی بندرگاہ سے چڑھایا جاتا تھا۔ اس تجارتی راستے کو اس وقت’’ سندھو ریشم راستہ ‘‘کہا جاتا تھا۔

بھنبھور کےکھنڈرات کا پہلا مطالعہ 1930ء میں آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے سپرنٹنڈنٹ، این جی موجمدارنےکیا جو علم الآثار کے ماہر تھا۔ انہوں نے مختلف جگہوں پر کھدائی کرکے تحقیقی رپورٹ لکھی تھی۔1951 اور 1958ء میں یہاں کھدائی کاسلسلہ دوبارہ شروع ہوا ،جو 1962ءتک جاری رہا۔ اس کھدائی کے نتیجے میں ایک شاندار قلعہ بند بستی کے آثارملے۔ 

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ، اس دور میں بھنبھور کا شمار سندھ کی خوش حال ریاستوں میں ہوتا تھا۔وہاں ہاتھی دانت کی دنیا کی سب سے قدیم اوربڑی صنعت کا ایک غیرملکی جریدے کی رپورٹ سے پتا چلا، جس میں درج ہے کہ ماہرین آثارِ قدیمہ کو سندھ کے 2100 سال قدیم شہر بھنبھور کا دورہ کرتے ہوئے قدیم دور کی ہاتھی دانت کی نقاشی (IVORY CARVING)کا انکشاف ہوا۔ 800 سال پرانی اس ورک شاپ میں سے 40 کلو گرام وزنی ہاتھی دانت کے ٹکڑے اس قدیم شہر کے کھنڈرات سے برآمد ہوئے ہیں، اس جگہ کھدائی کرنے والے مزدوروں نے انہیں لاپروائی سے باہر نکال کرپھینک دیا تھا۔یونیورسٹی آف بولوگنا کے آثار قدیمہ کے ماہر Simon Mantellini کے مطابق تلاش کرنے والوں کو اب تک ہاتھی دانت کی بنی ہوئی اشیا نہیں ملی ہیں، جو چیز دریافت ہوئی ہے وہ ایک بہت بڑی کارپنٹری کا کچرا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس مقام پر Trench 9 کی کھدائی کا آغاز 2017ء میں ہوا۔ کام کا آغاز حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت و آثارِ قدیمہ اور اٹلی کے محکمہ خارجہ کے اشتراک سے کیا گیا اور اس میں کیتھولک یونیورسٹی آف سیکر ڈپارٹ میلان کا اشتراک بھی شامل تھا۔ پروفیسر مینٹلنی نے جو کہ خود بڑے ماہرِ آثارِ قدیمہ اور سرامکس (مٹی کے برتن) کے ماہر ہیں، اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان آثار پر تحقیق کی۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ یہ بلاشبہ اب تک دریافت ہونے والی ہاتھی دانت کی ورکشاپس میں سب سے بڑی ورکشاپ ہے،ہاتھی دانت کی ساخت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ ورکشاپ اسلامی دور میں قائم کی گئی تھی‘‘۔ 

’’یہ محض ایک آغاز ہے اور یقیناً یہ ورکشاپ ایک بڑے صنعتی علاقے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے‘‘۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ، ہاتھی دانت کا کوئی ایسا ذخیرہ اور ایسی ورکشاپ دنیا میں کہیں اور موجودنہیں ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی اچھوتی دریافت ہے۔ بھنبھور کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہڑپہ کے مقابلے میں جدید شہر ہے جو کہ پہلی صدی عیسوی سے قبل آباد ہوا ہے۔ یہ شہر کراچی کے مشرق میں 65 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے دہانے پر واقع ہے۔

بھنبھور شہر سیتھائی پارتھیائی عہد (Scytho-Parthian Period) میں قائم ہوا اور ہندو بدھ ادوار سے ہوتا ہوا اسلامی دور تک تیرہویں صدی میں برباد ہونے تک آباد رہا۔ بھنبھور کی جغرافیائی پوزیشن (جیسا کہ یہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ساتھ سمندر سے بھی لگا ہوا ہے) کی وجہ سے اس شہر کو قدیم زمانے میں تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ بھنبھور کے مقام پر 14000 مربع میٹر پر محیط ایک بڑے قلعہ کے آثار بھی موجود ہیں۔ پرانی دریافتوں میں چہار دیواری کے اندر بنے اس شہر کے علاوہ مختلف عمارتیں اور گلیاں بھی دریافت ہوئی ہیں۔ 

اس شہر کو ازمنہ وسطی میں اسلام کے پھیلائو کے حوالے سے ابتدائی مقام قرار دیا جاتا ہے۔ معروف آرکیالوجسٹ، پروفیسر Mantellini کے مطابق، بھنبھور شہر میں ہاتھی دانت کی صنعت کے آثار اس کی خوشحالی کا اہم سبب تھے۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں بھی ہاتھی دانت کے ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں۔فیکٹری اور دریافتوں کے حجم سے اس بات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ مصنوعات مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ بیرونی ممالک بھی بھجوائی جاتی تھیں۔ 

ان ہاتھی دانتوں سے کون کون سی اشیاء بنائی جارہی تھیں، دریافت شدہ ٹکڑوں سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن مینٹلنی کے مطابق بھنبھور کی اصل مصنوعات ہاتھی دانت سے بنائے ہوئے زیورات تھے۔ ماہرین کو چوکور ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ملے ہیں، لیکن جب ان کو جوڑ کر ملا کر دیکھا گیا تو ایک ڈونٹ (Donut) کی شکل کا دائرہ بن گیا۔ یہ ہاتھی دانت کی انگوٹھی کی باقیات محسوس ہوتی ہیں۔بعض ٹکڑوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شطرنج کے نامکمل پیادے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بناتے وقت ٹوٹ گئے ہوں اور ان کو ضائع کردیا گیا ہو۔

قدیم اور وسطی دور میں ہاتھی دانت کی اہمیت سونے چاندی کے مساوی تھی۔ وادی سندھ سے لے کر روم تک اسے اشیائے تعیشات کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بھنبھور سے ملنے والے ہاتھی دانت کے آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بارہویں اور تیرہویں صدی میں یہ انتہائی خوش حال شہر ہونے کے ساتھ مقامی اور بین الاقوامی تجارت کا مرکز تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قدیم بھنبھور سے ہاتھی دانت کی مصنوعات برآمد ہوتی تھیں اور اس کے بدلے مختلف اشیاء درآمد کی جاتی تھیں جن میں شیشے کا سامان بھی شامل ہے۔بین الاقوامی تجارت کی ایک اہم نشانی غیر ملکی ظروف ہیں۔ 

ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق بھنبھور کے کھنڈرات کی کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں برتن دریافت ہوئے ہیں جن میں سے بعض تو بہت سادہ اور روزمرہ کے استعمال کے برتن ہیں، جبکہ بعض ماہرانہ کاریگری کے شاہکار ہیں، مثلاً پانی کے جگ اور کیتلی کی شکل کے برتن۔ ان میں سے بعض برتن تو مقامی طور پر بنے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں سے کیتلی کی شکل کا برتن کھدائی کے ہر مقام سے دریافت ہوا ہے۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ Fusaro کا کہنا ہے کہ مزیدار بات یہ ہے کہ یہ برتن صدیوں سے آج تک زیراستعمال ہے۔ ایک اور برتن جس پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ حیران ہیں وہ سنگ ریگ سے بنا ہوا برتن ہے جس کو Grayware کا نام دیا گیا ہے۔ فیو شارو کے مطابق اس کی صناعی میں بھی بے تحاشا مہارت اور تیکنیک درکار ہے۔ 

ماہرین کا خیال ہے کہ بعض برتن مختلف مقامات سے منگوائے گئے ہیں جن میںبھارت اور چین بھی شامل ہیں۔ماہرین کو پورسلین کے بنے ہوئے برتن بھی ملے ہیں،جو باریک دانوں کے بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کو اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کچھ مرتبان بھی ملے ہیں،جو یورپ میں تیل، شراب اور چٹنی وغیرہ کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ چینی برتن ایک ٹوٹی ہوئی کشتی (Belitung Ship wreck) میں ملے ہیں۔ یہ ایک عربی کشتی تھی۔ ظاہری طور پر انڈونیشیا سے نکلی تھی اور چین سے ہوتی ہوئی افریقہ کی طرف جارہی تھی۔ 

یہ 830 عیسوی کے قریب کی بات ہے۔1998ء میں اس تباہ شدہ کشتی کی باقیات ملی تھیں جس میںیہ مرتبان دریافت ہوئے تھے جو چینی ساختہ ہیں لیکن ان کی تزئین اسلامی انداز کی ہے۔ برصغیر زلزلوں کے حوالے سے حساس خطہ ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھنبھور میں وقفے وقفے سے زلزلے آتے رہے ہیں اور 280 عیسوی میں یہ شہر تباہ ہوگیا تھا، بعد میں اس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ 

تاہم بارہویں صدی میں یہ شہر اپنی تباہی کے آخری دور میں داخل ہوگیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب دریائے سندھ کا ڈیلٹا تہ نشین ہونا شروع ہوا تو مقامی افراد نے برتن بنانے شروع کردیے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تجارت ختم ہورہی تھی، خشک سالی نے اس جگہ کا رخ کیا ، دریا نے اپنا رخ بدل لیا تو لوگوں نے اس علاقے کو چھوڑ دیا اور بھنبھور شہر خلیج میں تہ نشین ہوتا چلا گیا۔