• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان کی افغان باشندوں سے پاکستانی شناختی کارڈ برآمد کرنے کی خبریں بے بنیاد

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی ) سرکاری ذرائع نے سوشل میڈیا پر طالبان کی افغان باشندوں سے پاکستانی شناختی کارڈ کی برآمد کرنے کی خبروں کو قطعی طور پر بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ درحقیقت یہ کارڈ دیگر برآمدشدہ دستاویزات لنڈی کوتل کے پولیس سٹیشن میں موجود ہیں جہاں کے کانسٹبل (محرر) ایاز خان نے متعلقہ افراد کی شناخت کے لئے ان دستاویزات کی تصاویر اپنے فیس بک پر اپ لوڈ کی تھیں جو اس وقت بھی پولیس اسٹیشن لنڈی کوتل کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ میڈیا میں افغان طالبان کی جانب سے سپین بولدک ، قندھار میں ان کارڈ کی برامدگی ظاہر کی گئی خبر سراسر جھوٹ پر مبنی ہے ترجمان کے مطابق2007سے پہلے شناختی کارڈ کاغذی کارروائی پر مبنی روایتی نظام ۲کے تحت بنائے جاتے تھے۔ پرانے نظام کے تحت بعض غیر ملکی افراد، دھوکہ دہی اور جعلی کاغذات کی بنیاد پر شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے تاہم 2007 کے بعد نادرا میں ڈیجیٹل بائیومیٹرک نظام متعارف کیا گیا اور نئے شناختی کارڈ اسی نظام کے تحت جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کاغذی کارروائی کی بنیاد پر بنوائے گئے جعلی کارڈز کی تنسیخ پر جب متعلقہ افراد نے نادرا سے رجوع کیا تو یہ کارڈ منسوخ کر دئیے گئے اور ڈیٹابیس کو تمام غلطیوں سے پاک کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر افغان کمانڈر کے پاکستانی شناختی کارڈ کی جو تصویریں گردش کر رہی ہیں وہ دراصل 2002 میں روائتی نظام کے تحت بنوایا گیا جسے 2007میں متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل بائیومیٹرک نظام کے تحت 2008 میں منسوخ کر دیا گیا۔

ملک بھر سے سے مزید