• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم صاحب، آپ نے کئی مواقع پر شوگر انڈسٹری کو کارٹیل کہا، آپ کو مس گائيڈ کیا گيا، آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن

کراچی (نیوز ڈیسک) آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو لکھےگئے خط میں کہا ہےکہ وزیراعظم صاحب ، آپ نے کئی مواقع پر شوگرانڈسٹری کو کارٹیل کہا، آپ کو مس گائيڈ کیا گيا ہے، ملاقات کا موقع فراہم نہیں ہو رہا، شوگر انڈسٹری کے خلاف جاری منظم مہم کے بارےمیں آگاہ کرناچاہتے ہیں ۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہےکہ چینی کی قیمتوں میں کمی کیلئےگنے کی خریداری میں مڈل مین کاکردارختم ، کسانوں کو چیک کے ذریعے ادائیگیوں اور گنےکی تیار فصل پرکرشنگ شروع کرنے کی تجاویزدی تھیں تاہم انہیں نظر انداز کر دیا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ مڈل مین کو فری ہینڈ ملا،گنا 350 سے 450 روپے فی من فروخت ہوتا رہا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ملک میں چینی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جون، جولائی 2020 میں شوگر ایڈوائزری بورڈ کو چینی درآمد کرنے کا بار ہا کہا لیکن تجویز نظراندازکردی گئی ، شوگر ایڈوائزری بورڈ کی غفلت کے باعث حکومت پاکستان کو ریونیو کی مد میں 10 ارب روپےکا نقصان ہوا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق وفاقی وزیر حماد اظہر کے ساتھ غلط بیانی سےگنے کی کرشنگ 20 روز پہلے کروائی گئی جس کے باعث ایک لاکھ 67 ہزار 530 ٹن کم چینی پیداہوئی اور ریکوری بھی 10 فیصد کے بجائے 7 فیصد رہی۔ 2016-17 میں شوگر انڈسٹری سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگتی رہی ،اس وقت ایک ارب ڈالر کا فارن ایکسچینج کمایا جا سکتا تھا لیکن ایسانہ کیاگیا , شوگر ایڈوائزری بورڈ کی غلفت کے باعث سر پلس چینی پر ساڑھے 15 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑی۔ آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے نام خط میں کہاہےکہ شوگر ملز کی خود مختار آڈیٹر کے ذریعے انکوائری کروائی جائے، وزیراعظم صاحب ، آپ نے کئی مواقع پر شوگرانڈسٹری کو کارٹیل کہا، آپ کو مس گائيڈ کیا گيا ہے۔

اہم خبریں سے مزید