• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان کے بعدیوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی فوج کے عراق سے بھی کُوچ کرنے کے دن قریب آچکے ہیں۔چند یوم قبل عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے بھی اپنےملک سے امریکی ودیگر غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں اب امریکا یا کسی اور ملک کی فوج کی ضرورت نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ عراق کی سکیورٹی فورسز اب کسی بھی غیر ملکی فوج کی مددکے بغیر ملک کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اب ہمیں اپنی سرزمین پر کسی بھی غیر ملک کی فوج کی ضرورت نہیں ہے۔عراق سے امریکا یا غیر ملکی افواج کا انخلاہماری ضرورت کے تحت ہوگا۔ ہم نے داعش کے خلاف آپریشن میں بھی قابلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔عراقی وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ہم واشنگٹن میں داعش کے خلاف جنگ کے ضمن میں مذاکرات کریں گے۔

مصطفیٰ الکاظمی کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیاہے جب اگلے ہفتے اُن کا امریکا کا دورہ متوقع ہے، جہاں اُن کی امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات ہوگی جس میں عراق سے امریکی فوج کے انخلا کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت عراق میں ڈھائی ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

ادہر گزشتہ برس کے اواخر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں موجود امریکی فوجیوں میں سے تین ہزارکو واپس بلانے کا حکم دیا تھا۔عراقی وزير اعظم کے بہ قول دہشت گردتنظیم داعش کے خلاف لڑائی ميں ان کے ملک کو لڑاکا مشن کے ليے اب امریکی فوجی دستوں کی مزيد ضرورت نہیں رہی ہے اور عراقی فوجی خود اپنے ملک کا دفاع کر سکتے ہيں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عراق ميں موجود امریکی فوجی دستوں کی کسی اور ملک منتقلی کا دار و مدار آئندہ ہفتے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں ميں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

اس سے قبل امریکی ایوان نمایندگان نے عراق میں فوجی طاقت کے استعمال کے لیے2002کابِل منسو خ کرنے کے لیےگزشتہ ماہ نیا قانون بھاری اکثریت سے منظورکیاتھا۔یاد رہے کہ امریکانے 2002میں منظور کردہ بِل کے تحت عراق میں اپنی فوج اتاری تھی۔ اس ضمن میں امریکا کے بہت سے قانون سازوں، بالخصوص ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ 2002 کے بِل کی منظوری ایک غلطی تھی۔ادہر بعض ریپبلیکنز اس بات سے متفق ہیں کہ ایسے قوانین کو اتھارٹی سے ہٹادیناچاہیے۔ بعض امریکی قانون سازوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے2001کی قرارداد ، جو گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد منظورکی گئی تھی، پر بھی غور کیا جاناچا ہیے ۔

اس قانون کی منسوخی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ایسا ہونےسے پوری دنیا میں امریکی فوجی کارروائیوں پر اثر نہیں پڑے گا۔ادہر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری فوجی سرگرمیاں صرف 2002 کی اجازت پر منحصر نہیں ہیں۔2002کی اجازت صدام حسین کی حکومت کے خلاف دی کی گئی تھی ، جس میں عراق کو لاحق خطرے کے خلاف ،امریکی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے اور عراق سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں نافذ کرنے کے لیے طاقت کے ضروری اور مناسب استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔

اس بارے میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن کانگریس کے ساتھ ایک محدوداور مخصوص فریم ورک کے ساتھ اختیار کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے کام کرنے کے پابند ہیں جسے یقینی بنانےکے لیے وہ امریکیوں کو دہشت گردی کے خطرات سے بچاتے رہیں گے۔ تاہم امریکی سینیٹ میں اکثریت کے راہ نما،چک شمر کا کہناہے کہ عراق میں طاقت کااستعمال ختم کرنے والی قانون سازی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکاوہ ملک چھوڑ رہا ہے۔

لیکن عراق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ دسمبر 2019میں بغداد میں امریکی سفارت خانے پرہزاروں مظاہرین اور ملیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کےپرتشدداحتجاج اورسفارت خانےکےاحاطےمیں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کرنےکے واقعےکے بعدسے امریکا میں عراق کے ضمن میں پالیسی تبدیل کرنے کی باتوں میں شدت آگئی تھی۔ پھر گزشتہ برس کے آغاز میں امریکانے بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں عراقی ملیشیا کےکمانڈر ابو مہدی المہندس اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایاتھا۔ اس حملے کے بعد عراق میںپُرتشدّد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے مطالبات میں شدت آ گئی تھی۔اس حملےکے بعدعراقی قانون سازوں نے ملک سےامریکی اوراتحادی افواج کو باہر نکال دینے کے بارے میں پارلیمان میں ایک قرارداد منظور کی تھی۔

اگرچہ گزشتہ سال مئی میں وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے عراقی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سےدونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں نسبتاً بہتری آئی ہے، لیکن بعض جماعتیں، بالخصوص پارلیمان میں ایرانی حمایت یافتہ، فتح گروپ،اب بھی امریکی افواج کی واپسی کے مطالبے پر مصر ہے۔عراقی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت عراق سے افواج کے انخلا کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اصل سوال اس کے وقت اورداعش کی جانب سے ممکنہ خطرے کے حوالے سے ہے۔

یہ بات درست ہے کہ داعش وہاں اب بھی سرگرم ہے۔اس کی تازہ مثال بغداد میں عید الاضحی سے محض چند گھنٹے قبل ہونے والا بم کا ہول ناک دھماکاہے۔داعش نے بیس جولائی کواس ضمن میں دعوی کیا کہ اس کے ایک خود کش بم بارنے بغداد کے مصروف ترین بازار میں دھماکا کیا۔ داعش نے اس حوالے سے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک پیغام پوسٹ کر کے بتایا کہ اس کے ایک رکن نے دھماکہ خیز مواد کی بیلٹ پہن رکھی تھی جس نے خود کو بازار میں اڑا لیا۔مسلمانوں کے مقدس تہوار عید الاضحیٰ سے محض چند گھنٹے قبل جب بغدادکے مصروف ترین حویلات بازار میں لوگ خریداری کررہےتھے اس وقت یہ خود کش دھماکا کیا گیا تھا جس میں تیس افرادہلاک اور ساٹھ سے زاید زخمی ہوئےتھے جن میں سے بعض کی حالات نازک تھی ۔

یہ رواںبرس بغداد کے گنجان آباد مشرقی علاقے کے ایک بازار کو نشانہ بنائے جانے کا تیسرا واقعہ تھا۔اس سے قبل جون میں صدر سٹی ہی کے ایک اور بازار میں بم کے دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئےتھے۔ علاوہ ازیں اپریل میں صدر سٹی ہی میں ہونے والے بم کے دھماکے سےچار افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ اس دھماکے لیے ایک کارمیں بارودی مواد بھر کر اسے بازار میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ اس واردات کو بغدادمیں حالیہ برسوں میں ہونے والے بم کے دھماکوں میں سے ایک بڑا حملہ قراردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ دھماکا دس اکتوبرکو ہو نے والےوفاقی انتخابات سے تقریباً دو ماہ پہلے ہوا ہے۔

داعش کو2017میں میدان جنگ میں شکست ہونے اوراس کے زیر قبضہ علاقے ہاتھ سے نکل جانے سے قبل بغداد میں تقریباً روزانہ بم کےبڑے دھماکے ہونا ایک معمول تھا۔اب اگرچہ داعش کے بچے کھچے عناصر کےبکھر جانے کے بعدبم کےدھماکوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، تاہم اب بھی گاہے بہ گاہے بڑے دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔رواں برس جنوری کے مہینے میں وسطی بغدادکے ایک پرہجوم کاروباری علاقے میں دو خودکش دھماکوں سے تیس سے زاید افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

دوسری جانب کچھ عرصے سے عراق میں امریکی فوج کے مراکز،قافلوں اور تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بڑھتے ہوئے حملوںاور عراق میں ایک مرتبہ پھر امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال نے امریکاکی پالیسی بنانے والوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ اسی فکر کے تحت رواں برس سولہ جنوری کو امریکاکےاس وقت کے قائم مقام وزیر دفاع کرسٹو فر ملر نےاعلان کیا تھا کہ امریکانےعراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد گھٹا کر پچّیس سو کر دی ہے۔ یہ وہ ہدف ہے جو ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال کے اواخر میں عراق کے لیے مقرر کیا تھا ۔ 

صدر ٹرمپ کے عہدے کی میعاد ختم ہونے سے پانچ روز قبل ملرنےاپنےایک بیان میںکہاتھاکہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میںکمی اس بات کی نشان دہی ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز کی اہلیت میں اضافہ ہو چکاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت پہلے یہ طے کیا تھا کہ جب عراقی افواج آئی ایس آئی ایس کے خلاف لڑنے کے قابل ہو جائیں گی تو ہم وہاں اپنی فوج کی تعداد میں کمی کر دیں گے۔ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق مشرق وسطیٰ کے علاقے میں بڑی فوجی کارروائیوں میں امریکی فوج کی شمولیت میں کمی لانے کے ہمارے منصوبوں سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش کی شکست یقینی بنانے کے لیےامریکی اور اتحادی افواج عراق میں مقیم رہیں گی ۔ امریکی اور عراقی حکومت اس بات پر متفق ہیں کہ داعش بہ دستور ایک خطرہ ہے جس کی وجہ سے امریکی اور اتحادی افواج کی موجودگی ضروری ہے۔یاد رہے کہ پینٹاگان کے اعداد و شمار کے مطابق 2003 سے امریکی اتحاد کے تحت عراق میں صدّام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے حملے کے بعد سے اب تک ساڑھے چار ہزار سے زاید امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں اور زخمی ہونے والوں کی تعدادبتّیس ہزار سے زیادہ ہے۔

مصطفیٰ الکاظمی کا یہ مطالبہ نیا نہیں ہے ۔ اکّیس اگست 2020کو بھی انہوں نے امریکا سے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا جب وہ امریکا کے دورے پر گئے ہوئےتھے۔اس وقت امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں ہونے والی ملاقات میں انہیں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکی فوج بہت جلد اُن کے ملک سے واپس بلالی جائے گی۔ اس موقعے پر عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سمیت دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیاتھا۔ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا کہ کسی موقعے پر ہمیں یقینی طور پر عراق سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانا ہے۔ 

اُن کا کہنا تھا کہ امریکا پہلے ہی عراق میںاپنے فوجیوں کی تعداد بہت کم کر چکا ہے۔ تاہم انہوں نےفوجیوں کی واپسی کی حتمی تاریخ نہیں بتائی تھی۔ البتہ انہوں نے صحافیوں کے ایک سوال پر کہاتھا کہ ہم اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب ہمیں عراق میں رہنےکی ضرورت نہیں ہو گی۔ صحافیوں نے جب مسلسل صدر ٹرمپ سے عراق سے فوج کے انخلا کے سوال پر اصرار کیا تو وہ کمرے میں موجود وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے مخاطب ہوئے تھے۔جس پر پومپیو نے کہا تھاکہ جب تک امریکا، عراق میں اپنا مشن مکمل نہیں کر لیتا اس وقت تک وہاں فوجی موجود رہیں گے۔

امریکی اور اتحادی افواج کے عراق سے انخلا کے علاوہ بھی خِطّے میںایک پیش رفت کا امکان پیدا ہوا ہے۔ اٹِّھائیس جون کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی،اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے بغداد میں منعقدہ سربراہی کانفرنس میں شرکت کی اور اسے ’’غیر معمولی علاقائی چیلنجز کے درمیان ایک واضح پیغام‘‘ قرار دیاتھا۔اس سہ فریقی سربراہی کانفرنس میں سکیورٹی، معیشت، توانائی، سرمایہ کاری کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ اور مشرق وسطی کے بحران سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیاگیا تھا۔

تین عشروں میں کسی مصری صدر کا عراق کایہ پہلا دورہ تھا۔1990میں اس وقت کے عراقی صدر صدّام حسین کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مصر اور عراق کےدرمیان تعلقات منقطع ہوگئےتھے۔تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دونوں ملکوں کے عہدے داروں نے ایک دوسرے کے ملک کےدورے بھی کیے ہیں۔ 

دوسری طرف اردن کے شاہ نے آخری مرتبہ2019میں عراق کا دورہ کیا تھا جو دس برسوں کے دوران اُن کا بغداد کا پہلا دورہ تھا۔ تینوں رہنماوں نےشام کے بحران، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم اور یمن میں تصادم جیسے علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ توانائی کے شعبے میں تعاون بہ شمول اردن کے راستے عراق اور مصر کے درمیان گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے امکانات پر بھی بات کی گئی۔واضح رہے کہ فی الوقت عراق گیس اور بجلی کی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک ایران پر انحصار کرتا ہے۔

اس سلسلے کا پہلا سہ فریقی اجلاس گزشتہ برس عمان میں ہوا تھا اور دوسرا اجلاس اپریل میں منعقد ہونا تھا، مگر مصر میں ٹرین کے تباہ کن حادثے کے بعد اسے موخر کردیا گیاتھا۔ اس دوسرے اجلاس میں گوکہ کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوا، تاہم اس ملاقات کو بڑی حد تک خطے میں ایران کے اثرات کم کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

عراق اور افغانستان کے علاوہ خِطّے کے دیگر ممالک ، مثلا پاکستان، چین اور روس کو بھی افغانستان کے ساتھ عراق میں داعش کے ممکنہ خطرےپر تشویش ہے۔ افغانستان میں طالبان کے لیے بھی داعش کی موجودگی لمحہ فکریہ ہو سکتی ہے۔ان دونوں ممالک سے امریکی فوج کے انخلاکےبعدداعش اپنی جڑیں مزید مضبوط کر سکتی ہے ۔ اگرچہ امریکی فوج عملی طورپرعراق میںکوئی منظّم کارروائی نہیں کر رہی ہے،لیکن امکان ہے کہ انٹیلی جنس سے متعلق معلومات کے حصول کے لیےکچھ نہ کچھ امریکی فوج عراق میں رہ سکتی ہے۔