• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاسوسی کی تاریخ بہت پُرانی ہے۔ وقت کے ساتھ اس کے انداز تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ یہ چوں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دورہے لہذا جاسوسی کے لیے بھی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔ چناں چہ رواں ماہ کے چند یوم میں اس ضمن میں ایسی دو خبریں سامنے آئیں جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی نے جاسوسی کا کام کتنا آسان کردیا ہے۔ پہلی خبر آسٹریا سے اٹھارہ جولائی کو آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بیس سے زاید امریکی اور کینیڈین سفارت کار پراسرار دماغی بیماری(ہوانا سنڈروم ) کا شکار ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ افراد کو چکر آنے،سماعت میں کمی، توازن کھونے اور بھولنے کی علامات محسوس ہوئی تھیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری مائیکرو ویوو لہروں سے متاثر ہونے کے باعث ہو سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل یہ علامات2016اور2017کے دوران کیوبا کے شہر ہوانا میں امریکی سفارت خانے میں تعینات اہل کاروں میں سامنےآئی تھیں۔ امریکی سفارتی عملےکے متاثر ہونےکے بعد واشنگٹن نے کیوبا پر صوتی حملے (Sonic Attack) کا الزام لگایا تھا جسے کیوبا نے مسترد کر دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں مبینہ صوتی حملے سے ملتی جلتی بیماری ویانا میں سامنے آئی ہے جس سے امریکی اور کینیڈین سفارت خانوںمیں کام کرنے والےمتعدد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری خبر اس کے اگلے روز آئی تھی جو پہلی خبر سے بہت بڑی تھی۔اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کے ایک ادارے کےتیار کردہ سافٹ ویئر،پیگاسس کے ذریعے دنیا بھر کی پچاس ہزار اہم شخصیات کے موبائل فونز کی جاسوسی کی گئی ہے۔ اب فونز کی ہیکنگ کایہ معاملہ دوسرا وکی لیکس بن گیا ہے اور اس ضمن میں ہوش ربا انکشافات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ یہ بھانڈا اسرائیلی ، امریکی اور برطانوی اخبارات میں شایع ہونے والی چشم کشا رپورٹس میں پھوڑا گیا تھا۔

ان رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک ’’پیگاسس ‘‘سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں جو انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے طاقت ور جاسوسی کاسافٹ ویئر قرار دیا جاتا ہے اور اسے استعمال کرنے کا مقصد انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنوں، سیاست دانوں، صحافیوں اور سیاسی حریفوں کی جاسوسی کرنا ہے۔ یہ انکشافات واشنگٹن پوسٹ، گارجین، لی مونداور دیگر اداروں کے اشتراک سےسامنے آئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت میں زیر نگرانی رہنے والےفون نمبرز کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ 

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سمیت سیکڑوں فون نمبرز پاکستان سے تھے۔ اگرچہ اخبار کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہے کہ بھارت کی جانب سے عمران خان کےفون نمبر کی نگرانی کی کوشش کام یاب رہی یا نہیں۔لیکن پاکستان نے بھارتی ریاست کی پشت پناہی میں جاری جاسوسی کی کارروائیوں کو ایک ذمے دار ریاست کے طرزِ عمل کی عالمی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری شدہ بیان میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت کو انصاف کےکٹہرے میں لائے۔

چوتھی قبلِ مسیح سے جاری سفر

جاسوسی کی تاریخ چوتھی صدی قبل مسیح میں چینی ماہر ’’ین زو‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ قدیم یونان میں ہینی بال نے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے اسے ہتھیار کے طو رپر استعمال کیا۔ چنگیزخان نے اسے ایک سائنس کا درجہ دیا اور ہر پچّیس میل کے فاصلے پر جاسوسوں کی چوکی ’’پونی‘‘ کے نام سے قائم کی(انیسویں صدی کی امریکی جاسوس ایجنسی کو پونی ایکسپریس کا نام اسی مناسبت سے دیا گیا تھا )۔1640 میں اولیور کرامویل نے اپنے بادشاہ چارلس اوّل کو شکست اسی بنا پر دی کہ اُس کا جاسوسی کا جال نہایت مضبوط تھا۔

پہلی اوردوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی ، فرانس،امریکا ، برطانیہ ،جاپان وغیرہ نے بڑے پیمانے پر جاسوس استعمال کیے۔انہوں نے اس کام کے لیے جدید تیکنیک اور آلات کے علاوہ کئی اقسام کے کوڈزبھی استعمال کیے۔ یہ کوڈز لکھنا اور انہیں ڈی کوڈ کرکے پڑھنا ایک سائنس کے درجے تک پہنچایا گیا۔اس ضمن میں ’’مورِس کوڈ ‘‘ کو بہت شہرت ملی۔ اردو کے سری ادب میں ابنِ صفی مرحوم نے اسے اپنے جاسوسی ناولوں کے ذریعے متعارف کرایا۔

ہزاروں برس سے کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے تاہم جنگِ عظیم اوّل میں انہیں پہلی مرتبہ خفیہ معلومات اکٹھا کرنےکے لیے باقاعدہ استعمال کرنا شروع کیا گیا۔ جنگِ عظیم دوم میں برطانوی انٹیلی جینس کی برانچ، ایم آئی14(ڈی)، نے 'خفیہ کبوتر سروس کا آغاز کیا۔ اس کے تحت مقبوضہ یورپ کی فضاؤں میں ایک کنٹینر میں بند کبوتروں کو پیراشوٹ کی مدد سے چھوڑا جاتا۔ 

ان کے جسم سے ایک سوال نامہ بندھا ہوتا تھا۔ ایک ہزار سے زاید کبوتر جوابی پیغامات لیے واپس آئے۔ ایک پیغام میں جرمن ریڈارا سٹیشن اور وی ون راکٹ کے منصوبے کی تفصیلات بھی موجود تھیں۔ لیوپولڈ ونڈکٹیو نامی مزاحمتی گروپ کے ایک پیغام میں بارہ صفحات کی انٹیلی جینس رپورٹ تھی جو بہ براہ راست چرچل کو بھیجی گئی تھی۔

جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی مشترکہ انٹیلی جینس کمیٹی کے تحت بنائی گئی’’ پیجن سب کمیٹی‘‘ نے سرد جنگ میں کبوتر استعمال کرنے کے امکان کا جائزہ لیا۔ مگر بعد ازاں برطانیہ نے اس نوعیت کے آپریشنز بند کر دیے۔ مگر اسی دوران سی آئی نے کبوتروں کی طاقت کو جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

سی آئی اے کا آپریشن ٹکانا1960کی دہائی میں کیے گئے کام کا نچوڑ تھا۔منظر عام پر لائی گئیں سی آئی اے کی متعلقہ دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ ایجنسی نے ایک پہاڑی کوّے کو ناقابلِ رسائی عمارتوں سے چالیس گرام تک وزنی اشیا لانے اور لے جانے کی تربیت دی تھی۔ اس کام کے لیے سرخ لیزر لائٹ ہدف پر پھینکی جاتی، جہاں موجود ایک مخصوص لیمپ پرندے کی راہ نمائی کرتا۔

دماغ پڑھنے کی کوشش اورمصنوعی ذہانت

سانک اٹیک کے بارے میں اگرچہ امریکا اور برطانیہ میں مختلف پہلووں سے کافی تحقیق ہوئی ہے، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں حکومتیں تحقیق کے بارے میں عوام کو کُھل کر معلومات فراہم نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ ان حالات میں صوتی حملے کے بارے میں کئی طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔ان میں سے دو زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں ۔ پہلی رائے کے مطابق یہ انسانی دماغ پڑھنے کی کوشش ہے۔

دوسری رائے رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کسی کا دماغ مفلوج کرنا مقصود ہے۔اولذّکر رائے کے مطابق شاید اس طرح سفارت کاروں یا جاسوسوں کی رہایش گاہ یا دفاتر میں کسی آلے کے ذریعے پلس ریڈیو فریکوئنسی انرجی بھیج کر مذکورہ افراد کے دماغ سے نکلنے والی سوچ کی لہریں پڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے(واضح رہے کہ انسان جب کچھ سوچتا ہے تو اس کے دماغ سے کچھ خاص تعدّدیا فریکوئنسی کی لہریں خارج ہوتی ہیں) یا اس مقام پر ہونے والی گفتگو سننے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔

دماغ سے خارج ہونے والی لہریں پڑھنے کی کوششیں کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس ضمن میں سائنس دانوں کو کچھ حد تک کام یابی بھی ہوئی ہے۔چناں چہ2013میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کمپیوٹر استعمال کرنے کے لیے مائوس ایک بنیادی آلہ ہے جس کی مدد سے اسکرین پر مطلوبہ کام کیا جاتاہے، لیکن اب یہ ٹیکنالوجی پرانی ہو چکی ہے۔

اب یہ ممکن ہوچکا ہے کہ سر پرمخصوص ہیڈ فون لگالیں توآپ کا دماغ بہ راہ راست مائوس کا کام کرے گا۔ اس کا سادہ سااصول یہ ہے کہ اس میںہیڈ فون میں نصب سینسر دماغ سے نکلنے والی فریکونسی کو پڑھتا ہے اور پھر اس کی ہدایت کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اس ضمن میں کیے جانے والے تجرباتکے دوران دس منٹ کی آزمایشی مشق میں مختلف لوگوں نے اپنے دماغ سے مختلف کھیل کھیلے تو نتائج صد فیصد رہے۔

پھر 2014میں یہ خبر آئی تھی کہ اگر آپ اپنے فیورٹ گیم کھیلتے وقت بٹنوں پر انگلیاںچلا چلا کر تھک گئے ہیں تو آپ کے لیے خوش خبری ہے کہ اب آپ کو ایساپلے اسٹیشن ملنے والا ہے جس میں بغیر ہاتھ ہلائے ہی گیمز بہترین طریقے سے کنٹرول کرسکیں گے۔اُس وقت بتایا گیا تھا کہ مائنڈپلے نامی نئی ٹیکنالوجی سے ایسا سسٹم تیار کیا گیا ہے جس میں آپ سوچ کے ذریعے ہی گیم کے کردار کنٹرول کرسکیں گے۔

اس مقصدکےلیےآپ برین بینڈ کہلانے والی ایک پٹّی کو سرپر لپیٹ کر اپنے کمپیوٹر یا گیم سے دماغ کے ذریعے رابطہ کرسکیں گے۔ یہ سسٹم آپ کے دماغ کی سوچ پڑھ کر گیم کو اسی طرح کنٹرول کرے گا جیسے آپ چاہتے ہیں۔ بس برین بینڈ پہنیے اور یہ سوچیے کہ گیم میں موجود آپ کا کمانڈو بندوق نکال کر دشمنوں کو نشانہ بنارہا ہے۔

اب جہاں جہاں آپ کا دھیان جائے گا وہاں وہاں دشمن کے فوجی ڈھیر ہوتے جائیں گے، لیکن خبردار اپنے ذہن کو اِدہر اُدہر مت بھٹکنے دیجیے گاورنہ گولی آپ کے کمانڈو کو بھی لگ سکتی ہے۔آج کی دنیا میں آنکھ کے اشارے سے بھی بہت سے کام کرنا ممکن ہوگیا ہے ۔ اگرچہ ابھی یہ سب کچھ عام لوگوں کے ہاتھ میں نہیں آیا ہے، لیکن یہ سب کچھ ممکن ہوچکا ہے۔یہ سب مصنوعی ذہانت کا کمال ہے ۔

صوتی حملے کے ضمن میں امریکا کےجاسوسی کے ادارے،سی آئی اے کے ایک سابق اعلی افسر پولیمرو پولوس کے تجربات بہت چشم کشا ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ لڑنے والی سی آئی اے کی ٹیم کے ایک اعلیٰ افسر کی حیثیت سے عراق، شام اور افغانستان میں کئی برس گزارے تھے۔ 

ان کے خیال میں ماسکو میں انہیں ایک شب خفیہ ’’ مائیکرو ویوو ہتھیار‘‘ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔2016کے امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے بعد سی آئی اے کی قیادت نے انہیں تیار رہنے کے لیے کہا تھا اور پولیمروپولوس جیسے آزمودہ افسران کی خدمات پھر سے حاصل کی گئی تھیں۔ وہ بالآخر یورپ اور یوریشیا میں خفیہ آپریشنز کے قائم مقام سربراہ بننے والے اور ماسکو کی کارروائیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کرکام کرنے والےتھے۔ اُنہیں تحقیق اور تفتیش کے لیےجوذمّے داریاں تفویض کی گئی تھیں اُن میں سے ایک انگلستان کے شہر سالزبری میں 2018 میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپل کو زہر دیے جانے کا واقعہ بھی تھا۔ دسمبر2017میں انہوں نے ماسکو کا سفر کیاجس کے آغاز میں ہی وہ بیمار ہوگئے۔ امریکا واپس آنے کے بعد اُن کا سر چکرانے کی شکایت تو ختم ہوگئی ،لیکن دیگر علامات آج بھی برقرار ہیں۔ اُن کے بہ قول مسلسل تین برس تک ان کے سرمیں درد ہوتا رہا جو کبھی کم نہیں ہوا۔

انہیں ہوانا سنڈروم کا شک ہواکیوں کہ 2016 میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں کئی سفارت کاروں نے بھی ایسی ہی علامات کا ذکر کیا تھا۔ ان کے علاوہ چند کینیڈین سفارت کاروں کو بھی ایسی ہی شکایات تھیں۔ بعض اوقات تیز آواز کا اچانک غلبہ ہوتا تھا جس کی وجہ سے شدید درد ہوتا تھا ،لیکن دوسروں کو سر پر دباؤ محسوس ہوتا جس کے نتیجے میں چکر آنے لگتا اور سر درد کی کیفیت محسوس ہونے لگتی تھی۔ یہ حرکت کسی خاص جگہ سے کسی خاص سمت میں محسوس ہوتی تھی۔ یہی علامات بعد میں 'ہوانا سنڈروم کہلائیں۔ہوانا میں امریکی سفارت خانے کا ابتدا میں خیال تھا کہ اسے کسی 'صوتی حملےکا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ہوانا میں امریکا کے سفارتی عملے کے ساتھ جو کچھ ہواتھا اس کےبارے میں پہلا مکمل جائزہ دسمبر2020 میں امریکی نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز کی جانب سے سامنے آیا۔ اگرچہ طبّی معلومات ٹکڑوں میں آ رہی تھیں، لیکن ایک کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ علامات ’’پلس ریڈیو فریکوئنسی انرجی ‘‘کے اثرات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے زہر اور نفسیاتی بیماری جیسے دیگر امکانات کو مسترد کر دیاتھا۔

اس نوعیّت کے بعض واقعات کیوبا یا روس کے علاوہ دیگر ممالک، مثلاً چین،آسٹریلیا،پولینڈ اور جارجیا میں بھی پیش آچکے ہیں۔ایک امکان یہ ہے کہ منفرد افراد کو نقصان پہنچانا کسی بڑے مقصد کا ضمنی نتیجہ ہے۔ایسا سرد جنگ کے زمانے میں خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے لیے مائیکروویوز والے الیکٹرانک کے آلات کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ روس پر کام کرنے والے سی آئی اے کے سابق افسر جان سیفر کے مطابق 'روسی سکیورٹی سروسز ماسکو میں امریکی سفارت خانے پر مرتکز مائیکرو ویوواور الیکٹرانک کی لہروں کی بھر مار کر دیتی تھی۔ اس کے پاس ایسی گاڑیاں بھی تھیں جو لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے شہر کے گرد چکر لگا سکتی تھیں۔

’’دی تھنگ‘‘ سے موبائل فون اور اُس کی جاسوسی تک

یہ چار اگست 1945کی بات ہے۔اُس وقت تک دوسری عالمی جنگ کا یورپی باب بند ہوچکا تھا اور امریکا اور سوویت یونین اپنے مستقبل کے تعلقات پر غور کر رہے تھے۔ امریکی سفارت خانے میں سوویت یونین کی ینگ پائینیئر آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکوں کے ایک گروہ نے اُس روز دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر ایک تحفہ پیش کیا ۔ اُنہوں نے روس میں امریکی سفیر ایویرل ہیری مین کو ہاتھ سے تیار کردہ امریکی مہر کا ایک طغرہ پیش کیا جسے بعد میں صرف ’’دی تھِنگ‘‘ کہا جانے لگا تھا۔

ظاہر ہے کہ سفارتی عملے نے لکڑی سے بنی اس آرایشی شئے کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی ہوگی کہ کہیں اس میں خفیہ آلات تو نصب نہیں ہیں۔ مگراُس میں توکوئی تارتھا اور نہ ہی بیٹری لہذا عملے نے سوچا ہوگا کہ اس سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ چناں چہ ہیری مین نے اسے مطالعے کے کمرے میں نمایاں مقام پر آویزاں کر دیاتھاجہاں سے اس کے ذریعے اگلے سات برس تک روسی ان کی گفتگو سنتے رہے ، مگر سفیر کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑی۔

انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ آلہ بیسویں صدی کے ذہین ترین دماغوں میں سے ایک، لیون تھیری مین،نے بنایا تھاجو اپنے نام پر موجود انقلابی برقی آلہ موسیقی کے لیے مشہور تھے جو بغیر چھوئے بجایا جا سکتا تھا۔ بعد میں ان کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ روسی حکام نے انہیں خفیہ طورپر کسی کی گفتگو سننے والے دیگر آلات کے ساتھ ’’دی تھِنگ‘‘ ڈیزائن کرنے کے لیے مجبور کیا تھا۔

یہ بھانڈا اس وقت پھوٹاجب امریکی ریڈیو آپریٹرز نے پایا کہ امریکی سفیر کی گفتگو ہوا کی لہروں پر نشر ہو رہی تھی۔ ریڈیو کی لہریں کہاں سے نشر ہورہی ہیں، یہ جاننے کے لیے جب سفارت خانے کی تلاشی لی گئی تو کوئی خفیہ آلہ نہیں مل سکاتھا۔چناں چہ دی تھنگ کا راز مزید کچھ عرصے تک راز ہی رہا۔ دراصل سفیر کی گفتگو سن سکنے والا آلہ ’’دی تھنگ‘‘ کے اندر تھا۔یہ ایک انتہائی سادہ سا اینٹینا تھا جس پر چاندی کی جھلی چڑھا کر مائیک بنا دیا گیااور چھوٹےسے خانے میں چھپا دیاگیا تھا۔ 

اس میں کوئی بیٹری تھی اور نہ ہی توانائی فراہم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود تھا، کیوں کہ دی تھنگ کو اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔جب کے جی بی کے اہل کار امریکی سفارت خانے کی جانب ریڈیائی لہریں پھینکتے تویہ آلہ فعال ہوجاتا تھا۔ یہ اپنی جانب آنے والے سگنلز سے توانائی حاصل کرتا اور گفتگو واپس نشر کردیتا۔ جب سوویت سگنل بند ہوجاتا تو یہ آلہ بھی خاموش ہوجاتا تھا۔

آج اپنی جانب آنے والے ریڈیائی سگنلز سے فعال ہو کر معلومات واپس بھیجنے والے آلے کا تصوّر اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ریڈیو فریکوئنسی آئیڈینٹی فکیشن (آر ایف آئی ڈی) ٹیگز تقریباً ہر جگہ ہی استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ ہمارے پاسپورٹ، کریڈٹ کارڈ،بعض لائبریریز کی کتابوں،پارسلز میں، فضائی سفر کرنے والے مسافروں کا سامان ٹریک کرنے کے لیے اور دکانیں سامان چوری ہونے سے بچانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی طیاروں نے آر ایف آئی ڈی کی ہی ایک صورت استعمال کی تھی۔ ریڈارجب کسی طیارے پر لہریں پھینکتا تو ٹرانسپونڈر کہلانے والا آلہ ریڈار کی جانب ایک سگنل واپس بھیجتا جس سے یہ مطلب لیا جاتا کہ 'ہم تمہارے ساتھی ہیں، ہمیں مار مت گرانا۔ مگر جب سلیکون سے بننے والے سرکٹس کا حجم کم ہونے لگا تو ایسے ٹیگز کا تصوّر بھی عام ہوا جنہیں آپ طیارے سے کہیں کم قیمت کی اشیاپر بھی لگا سکتے ہیں۔بار کوڈز کی طرح آر ایف آئی ڈی ٹیگز کو بھی کسی شئے کی فوراً شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آگے چل کر جلد ہی آر ایف آئی ڈی کے بارے میں سارا جوش و خروش چمک دمک والی مصنوعات کی جانب مڑ گیاجن میں2007میں متعارف ہونے والے اسمارٹ فون،اسمارٹ واچ،اسمارٹ تھرمواسٹیٹ، اسمارٹ ا سپیکر، یہاں تک کہ ا سمارٹ کارزبھی شامل ہیں۔

آج جب ہم انٹرنیٹ آف تھنگز کی بات کرتے ہیں تو آرایف آئی ڈی کی بات نہیں کرتے بلکہ ان ڈیوائسز کی بات کرتے ہیں۔ یہ اتنی پے چیدہ انجینئرنگ والی دنیا ہوگی جس میں آپ کا ٹوسٹر بلاوجہ آپ کے ریفریجریٹر سے رابطے میں ہوگا اور ریموٹ کنٹرولڈ اشیا آپ کی ان عادات کے بارے میں بھی معلومات رکھتی ہوں گی جنہیں ہم نہایت ذاتی نوعیت کی سمجھتے ہیں۔

ایسے دور میں رہنے کی وجہ سے ہمیں ان باتوں پرشاید زیادہ حیران نہیں ہونا چاہیے کہ کون کون اور کیسے کیسے ہماری جاسوسی کررہا ہے یا کرسکتا ہے۔ممتاز ماہرِ سماجیات شوشانہ زوبوف اسے سرویلینس کیپٹل ازم یا 'جاسوسی پر مبنی سرمایہ داری کہتی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ اس دور میں لوگوں کی ذاتی زندگی پر نظر رکھنا ایک مقبول کاروباری ماڈل ہے۔

خلوت اب خلوت نہیں رہی

آج انٹرنیٹ،اسمارٹ فون، کمپیوٹراورٹیلی کمیونی کیشن کے جدید سائنسی آلات نے دنیا کے ہر حکم راں سمیت عام شہریوں کو بھی ان کی ’’پرائیویسی‘‘ سے محروم کر دیاہے۔ماہرین کے مطابق فیس بُک، ٹوئٹر، وٹس ایپ وغیرہ اور ٹیلی کمیونی کیشن کے مختلف ادارے امریکی نظام کو اتنی معلومات فراہم کر دیتے ہیں کہ کسی بھی عام شہری کی زندگی کے نجی لمحات سے لے کر اُس کی عادات و مزاج، پسند و ناپسند بلکہ نقطہ نظر اور سوچ کے بارے میں اچھا خاصا خاکہ تیار ہو جاتا ہے۔ 

آج کے دور کا انسان یہ نہیں سوچتا کہ اطلاعات اور مواصلات کی جدید ایجادات اور سہولتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے شوق میں وہ اپنے فون اور کمپیوٹر پر اپنے بارے میں معلومات کا ڈھیر خود لگا رہا ہے۔ اس ضمن میں اگر مزید تصدیق اور یقین کرنا ہو تو صرف امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے چند برسوں میں شایع ہونے والی چند رپورٹس توجّہ سے پڑھنے پر آپ کو بہ خوبی اندازہ ہو جائے گا کہ193ممالک کے حکم راں، سرکاری اہل کار اور پالیسی بنانے والے افراد تو جاسوسی کے سائبر نظام کی لپیٹ میں ہیں ہی، لیکن عام، بے ضرر اور کسی قسم کی سیاست یا مکتبہ فکر سے لاتعلق شہری بھی اپنی عادات، سوچ ، تحریر اور ذاتی تفصیلات سمیت جاسوسی اور معلومات اکٹھا کرنے کے عالمی خفیہ نظام کی لپیٹ میں ہے۔ اس ضمن میں ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی چھ جولائی2014کی اشاعت میں نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے بارے میں شایع شدہ تفصیلات میں کیےگئے بعض انکشافات پڑھےجاسکتے ہیں، جو آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔

آج کے دور کا بہت بڑا خطرہ اس ٹیکنالوجی کی جانب سے ہے جس نے حیرت انگیز رفتار سے ترقی کی ہے اور ہماری زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں ۔ ہمارا اشارہ ا طلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کی جانب ہے۔اس ٹیکنالوجی نے اس شعبے میں تھوڑی سی بھی مہارت رکھنے والے فرد کے لیے دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر کسی بھی خاص و عام کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور اُن کی گفتگو ریکارڈ کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ چناں چہ آج کسی بھی ملک اور اس کےعوام کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اس ضمن میں ماہرین کی جانب سے انٹرنیٹ اور موبائل فون کو بہت خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان کے ذریعے آج دنیا بھر میں کسی بھی شخص کی چوبیس گھنٹے نگرانی یا جاسوسی کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ اور یہ حقیقت خطرے کی سطح میں مزید اضافہ کر دیتی ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کرنے والے کو اپنی جاسوسی ہونے کے بارے میں شک تک نہیں ہوتا، لہٰذا وہ خلوت اور جلوت میں بے دھڑک ان کا استعمال جاری رکھتا ہے اور انہیں استعمال کرتے ہوئے ہر طرح کی گفتگو اور افعال کرتا رہتا ہے۔ اس دوران اسے ذرہ برابر یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ دنیا کے کسی کونے میں اس کی گفتگو اور افعال ریکارڈ کیے جا رہے ہیں جنہیں کسی بھی وقت اس کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے اور ان کی مدد سے اسے بلیک میل کرکے کوئی بھی کام کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔

پہلے عمومًا ریاستی ادارے جاسوسی کرتے تھے، لیکن نئی ٹیکنالوجی نےعام آدمی اور نجی و تجارتی اداروں کے لیے بھی یہ کام کرنا ممکن بنا دیا ہے۔کچھ عرصہ قبل فیس بک کی انتظامیہ کے خلاف یہ الزام سامنے آیاتھا کہ اس نے اپنے صارفین کے بارے میں معلومات امریکا کی ایک سیاسی شعبے کی کنسلٹنسی کمپنی کیمبرج اینالیٹکا (سی اے) کو فراہم کی تھیں۔ تقریباً پانچ کروڑ سے زاید صارفین کا ڈیٹا لیک کرنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد فیس بک کے خلاف امریکا میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا اورصارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والے ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے فیس بک کی انتظامیہ کے خلاف ڈیٹا لیک کرنے کی اطلاعات سامنے آنے کے فوراً بعد کارروائی شروع کر دی تھی۔