• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں کسی 1 گروپ کی حمایت نہیں کر رہے: فواد چوہدری

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی واضح ہے، ہم وہاں امن چاہتے ہیں، ہم افغانستان میں کسی ایک گروپ کی حمایت یا اسے مضبوط نہیں کر رہے۔

پاک افغان یوتھ فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ ایسا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں تمام افغان گروپ مل بیٹھ کر متفقہ حکومت بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ واحد راستہ ہے جس سے مستحکم افغان حکومت اور پرامن معاشرہ بنایا جا سکتا ہے، ہم افغانستان میں امن کیلئے جو کر سکتے ہیں کر رہے ہیں، مگریہ مشکل کام ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپر پاورز اپنی کارروائی کر کے چلی جاتی ہیں اور نتائج ہمیں بھگتنا پڑتے ہیں، پاکستان اور افغانستان نے سپر پاورز کی کارروائیوں کے نتائج بھگتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے لیے ایک مضبوط مستقبل تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، خطے کا مضبوط معاشی مستقبل ایک مستحکم اور پرامن افغانستان پر منحصر ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی معیشت مستحکم افغانستان کے گرد گھومتی ہے، ہم وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مضبوط مواصلاتی روابط کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مضبوط مواصلاتی روابط کے لیے وزیرِ اعظم عمران خان نے ازبکستان کا دورہ کیا، ازبکستان کے ساتھ ہم نے ریلوے ٹریک کے معاہدے پر بھی دستخط کیئے ہیں۔

فواد چوہدری نے خطاب میں کہا کہ ازبکستان کے ساتھ ریلوے ٹریک منصوبہ پشاور سے مزار شریف اور پھر تاشقند تک جائے گا، ہم افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک ٹرکوں کے ذریعے تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرامن افغانستان سے ہی وسطی ایشیائی ریاستوں اورخطے میں مواصلاتی رابطے ممکن ہو سکتے ہیں، افغانستان سے آئے نوجوانوں نے وزیرِ اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے یہ بھی بتایا کہ وزیرِاعظم عمران خان سے افغانستان کے وفد کی ملاقات کا پروگرام پشتو اور دری سب ٹائٹلز کے ساتھ آن ایئر ہوا، وزیرِ اعظم نے افغان صحافیوں اور نوجوانوں سے پاک افغان مستقبل کے بارے میں بات کی۔

قومی خبریں سے مزید