• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
انڈو پاک میں عورت سماجی طور پر ایک برائی کی علامت ہے۔ مرد بذات خود برا نہیں ہے اسے عورت برائی کی جانب راغب کرتی ہے۔ داستانوں میں عورت چڑیل ہے بھوتنی اور ڈائن ہے۔ مرد کو گمراہ کرتی ہے مرد جنسی طور پر برا نہیں ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو اسے شیطانی اداؤں اور پرکشش عریانیت سے گناہ کی طرف دھکیلتی ہے۔ یہ عورت کے بارے میں وہ تصورات ہیں جو انڈو پاک کی پرانی داستانوں اور Mytholigiesمیں بھرے پڑے ہیں اور آج عمومی طور پر سماج میں عورت کا ایک گھناؤنا نقش چھوڑتے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ یہ تصورات ایسے معاشرے کے ہیں جہاں سب کچھ مرد کے کنڑول میں ہے۔ گھروں میں شوہر بھائی، والدین سب اپنے اپنے انداز میں مختلف طریقوں سے لڑکیوں یا عورتوں کو گھریلو تشدد سے لے کر ونی، کاروکاری، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے کے واقعات اور جبری شادی جیسے ہتھکنڈوں سے عورت کو ڈرا دھمکا کےکر رکھتے ہیں۔ وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو یوں محسوس کرتی ہےکہ گویا وہ ایسی جگہ پر آگئی ہے جو اس کے لئے نہیں ہے۔ مرد اسے ایسے دیکھتے اور آواز کستے ہیں جیسے جنگل سے کوئی جانور شہر میں گھس آئے۔ مرد کی نگاہیں ایسے اٹھتی ہیں کہ وہ آنکھوں سے ہی ریپ کے عمل سے گزر جاتا ہے۔ اگر تمام ہتھکنڈے عورت کو کنٹرول نہ کرسکیں یا مرد پر کوئی آنچ آنے لگے تو عورت کے کردار پر گندگی اچھالنا سب سے آسان کام بن جاتا ہے۔ جب عورت پر تشدد ہوتا ہے تو مردوں کا معاشرہ اس مرد کے تحفظ کیلئے میدان میں اتر آتا ہے۔ اس فکر میں ہوتا ہے کہ مرد کی مردانگی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوجائے۔ کوئی مذہب کی کتاب بغل میں لئے نت نئی توجیحات بنانا شروع کردیتا ہےاور اپنی کتابوں سے عورت کے اعلیٰ مقام کے حوالے سے دینا شروع کردیتا ہے اور تو کوئی اخلاقیات کی علم اٹھا کر سارے اخلاقی ضابطے اس عورت پر لاجھاڑتا ہے۔ گستاخ، بے حیا، بد زبان، بدکردار، آزاد منش، عیاش، آوارہ، مغرب زدہ جیسے تمغے تو فورا سجا دیئے جاتے ہیں۔ انڈو پاک کی ان تمام مشترکہ خصوصیات کے ساتھ آج صرف اسلام آباد میں ہونے والے کئی واقعات کی ایک کڑی ہے۔ نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر نے عدالت میں پیشی کے دوران ایک صحافی کو بتایا کہ نور اس کے ساتھ بے وفائی کررہی تھی۔ ایک صحافی اس سے سوال کرتاہے کہ کیا وہ آپ کی گرل فرینڈ تھی ؟۔ سوشل میڈیا کے تماش بین ذہن کے لوگ مقتولہ نور مقدم کے بارے میں اس کے کردار کے بارے میں سوال اٹھا اٹھا کے مزے لے رہے ہیں۔ یہی مردوں کے معاشرے کی خصوصیات ہیں کہ مقتولہ کے جان سے جانے اور قتل کی نوعیت پر قاتل کو لعن طعن کرنے کی بجائے ایسےسوالات اٹھاؤ کہ مقتولہ بدکرار ثابت ہوجائے۔ مثلا وہ اکیلی اس کے پاس کیا کرنے گئی تھی ؟۔ وہ اس کے گھر میں کیوں ٹھہرتی تھی۔ یعنی اگر لڑکی کسی مرد دوست کے گھر جائے تو فرینڈ کو لائسنس مل گیا کہ وہ اس وقت عورت کے ساتھ زیادتی کرے یا قتل تک کر ڈالے۔ ہر صورت میں ذمہ دار اور قصوروار عورت ہی ٹھہرتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان جرائم کی روک تھام کیلئے سخت سے سخت قانون ہونا چاہیے۔ حالانکہ قوانین تو ہیں لیکن نہ ان کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ ہی عملدر آمد۔ اس لئے کہ سوسائٹی کا عورت کے بارے میں مائنڈسیٹ ہی ایسا ہے۔ مرد کئی کئی عورتوں سے شادی کا عام پرچار کرتے پھرتے ہیں۔ علماء کئی کئی عورتوںکو بیویاں بنانے کو برائی کے خاتمے کا علاج سمجھتے ہیں۔ مرد نے پورا ایک کلچرل ڈھانچہ ہی ایسا کھڑا کرلیا ہے جس میں سارے کھیل کے اصول و ضوابط مرد ہی طے کرتا ہے۔ عورت تو قتل ہوجائے تو قصوار، ریپ ہوجائے تو جرم دار، جنسی ہراسگی کا شکار ہوتو عورت بدکردار، گھر سے اکیلی نکلے تو آوارہ، ملازمت کی خواہش کرلے تو بدی کی شوقین، تعلیم حاصل کرنی چاہے تو آزادی پسند، الغرض ہر حق مانگنے والی فقط قصوروار ہے۔ یہ جسٹس سسٹم ہی ایساہے جہاں عورت کو مرد کی ہر زیادتی کو سہنا ہے۔ اگر عدالت میں جائے تو اسے زیادتی کے گواہ چا ہئیں، یعنی جب اس پر زیادتی ہورہی ہو یا اس کی عصمت دری ہورہی ہو تو اسے گواہوں کی ضرورت ہے۔ یعنی زیادتی ہونے سے پہلے اسے گواہوں کاازخود بندوبست کرنا ہوگا، یہ مضحکہ خیز قانونی پوزیشن ہے۔ اس وقت تو پاکستان میں عورتوں اور کمسن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل و غارت، ان حدوں کو چھورہی ہے۔ جہاں یہ احساس شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ پاکستان عورت کےلئے کسی طرح بھی محفوظ ملک نہیں ہے حتیٰ کہ اسمبلیوں میں بھی ہماری جو خواتین پہنچتی ہیں۔ ان کے ساتھ بھی ان کے ہم منصب ایسا طرز تکلم قائم کرتے ہیں کہ ان خواتین کو احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ ایسی غلط جگہ پر آگئی ہیں جو ان کیلئے نہیں ہے۔ عدالتوں سے لے کر تفتیشی اداروں تک، کلرک سے لے کرسیکریٹری تک، عام ارکان اسمبلی سے لے کر وزیر اعطم تک سبھی اس مائنڈ سیٹ کا اظہار کرچکے ہیں کہ ریپ ہونے اور قتل ہونے کی ذمہ دار عورت ہی ہے، وہ کم لباس پہنتی ہے جس کی وجہ سے مرد کا خود پر کنٹرول ختم ہوجاتا ہے۔ ایسے مائنڈ سیٹ سے لیس اداروں سے بھلا عورت کو کسیے تحفظ مل سکتا ہے، ننھی بچیاں کیسے اس درندگی سے محفوظ کی جاسکتی ہیں۔ بچی پید ہونے سے لے کربوڑھی ہونے تک حتیٰ کے قبر میں بھی اس مردانہ حیوانیت سے محفوظ نہیں ہے۔ تو کیا ایسا معاشرہ عورت کیلئے اس کے تحفظ اور حقوق کے لئےکسی قسم کی پریکٹس جاری کرسکتا ہے۔ یہ سب بیمار معاشرے کی نشانیاں ہیں جہاں با لآخر عورت کو ہی اپنے لئے اٹھنا ہے اپنی طاقت کو منظم کرنا ہے مرد کی ہراسگی کا منہ توڑ جواب دینا ہے اور ہونے والی ہر زیادتی پر احتجاج ضرور کرنا ہے۔
یورپ سے سے مزید