• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماڈل کورٹس، سوا دو سال میں 2لاکھ سے زائد مقدمات کے فیصلے

راولپنڈی (نمائندہ جنگ) ملک بھر کی ماڈل کورٹس کے ججز کورونا اور لاک ڈاؤن کے باوجود جلد اور فوری انصاف کی فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، یکم اپریل 2019 سے قائم ہونے والی ماڈل کورٹس نےکل 690 دنوں میں 208930 مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے زیرسماعت کیسز میں 375253 گواہوں کی شہادتیں بھی قلمبند کیں، اس دوران وکلاء برادری، پولیس، محکمہ جیل خانہ جات، کیمیکل لیبارٹریز اور دیگر معاون اداروں کا کردار بھی مثالی رہا۔ پاکستان بھر کی ماڈل کورٹس نے 30 جولائی 2021 تک مجموعی طور پر 208930 مقدمات کے فیصلے کئے ، ماڈل کریمینل ٹرائل کورٹس نے قتل کے 16469اور منشیات کے 35311مقدمات کا فیصلہ سنایا اور 228143 گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کئے جن میں اسلام آباد میں قتل کے 211 اور منشیات کے476، پنجاب میں قتل کے 5994 اور منشیات کے17477، خیبر پختونخوا میں قتل کے 3788 اور منشیات کے 8544، سندھ میں قتل کے 5551 اور منشیات کے 7572 جبکہ بلوچستان میں قتل کے 925 اور منشیات کے 1242 مقدمات شامل ہیں۔دوسری طرف ماڈل سول ایپلٹ کورٹس نے اسلام آباد میں 486 دیوانی، 386 نگرانی، 398 فیملی اور 285 رینٹ، پنجاب میں 18849 دیوانی، 10405 نگرانی، 13419 فیملی، 739 رینٹ، خیبر پختونخوا میں 4851 دیوانی، 2622 نگرانی، 2806 فیملی اور 268 رینٹ، سندھ میں 3911 دیوانی، 2163 نگرانی، 2319 فیملی، 1577 رینٹ جبکہ بلوچستان میں 362 دیوانی، 229 نگرانی، 106 فیملی اور ایک رینٹ اپیل کا فیصلہ کیا گیا۔ ماڈل مجسٹریٹس عدالتوں نے مجموعی طور پر 91008مقدمات کے فیصلے کر کے کل 147110 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے، اسلام آباد میں 1194، پنجاب میں 63258، خیبرپختونخوا میں 12137، سندھ میں 12796 اور بلوچستان میں 1623 مقدمات کے فیصلے ہوئے۔
اسلام آباد سے مزید