• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات

روشنیوں کے شہر کراچی میں نہ رکنے والی لوٹ مار، قتل کی وارداتوں کے عذاب سے شہری پہلے ہی پریشان اور خوف زدہ تھے ،لیکن اب تواتر کے ساتھ بچوں کے اغوا اور زیادتی کےبعد قتل کر دینے کے بڑھتے ہوئے رحجان نے جہاں متاثرہ خاندانوں پرغم کے پہاڑ گرادیے، وہیں شہریوں کوغم وغصے اور مزید خوف ہراس میں مبتلا کردیا ہے، جس نےقانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاَ کراچی پولیس کی کارکردگی پربھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے،جوکسی المیے سے کم نہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ہی روز میں کورنگی میں 2بچیوں اور ناظم آباد میں طالبہ کے اغواکا کیس رپورٹ ہوا، لیکن دل دہلا دینے اور دلخراش واقعہ زمان ٹاؤن تھانے کی حدود کورنگی میں پیش آیا۔ 

جہاں کورنگی مکان نمبر 724جی ایریا کے رہائشی مقامی فیکٹری کے لفٹ آپریٹرعبدالخالد کی کمسن6سالہ بچی ماہم کو رات اندھیرے میں اغوا کرنے کے بعد جنسی تشدد کا نشانہ بناکرقتل کر دیا، یہ سفاک درندہ مقتولہ کا پڑوسی اور رکشہ ڈرائیور ہے ،جو فرار ہونے سے قبل ہی سہراب گوٹھ سے گر فتار کر لیا گیا ۔ اس وحشی درندے نے اپنا جُرم بھی قبو ل کر لیا ہے اور اس کا ڈی این اے بھی میچ ہو گیا ہے۔ مقتولہ بچی ماہم کے والدعبدالخالد نے پر نم آنکھوں سے دلخراش واقعے کی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ منگل کی شب بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث بچی باہر کھیلنے گئی تھی کہ لاپتہ ہوگئی ،جب بجلی آگئی اور بچی گھر نہیں پہنچی تو، اس کی تلاش شروع کردی۔ 

بچی کی گمشدگی کی رپورٹ زمان ٹاؤن تھانے میں کرادی، رات بھر ماہم کی تلاش جاری رکھی، لیکن تمام کوششیں ناکام رہیں۔بچی کا باپ خالدجب متعلقہ تھانے گیا تو کہا گیا 24 گھنٹے بعد آنا ،تب رپورٹ درج ہوگی۔ ہم نے مساجد سے بھی اس کی گمشدگی کے اعلانات کرائے، لیکن کچھ بھی کار گر ثابت نہ ہوا۔ اہل خانہ کا کہنا ہےکہ اگر پولیس بروقت بچی کی تلاش شروع کردیتی توشاید سانحہ پیش نہیں آتا ۔ مقتولہ ماہم 3 بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔

صبح سویرے جب معصوم پری ماہم کی تشدد شدہ لاش سرکاری اسکول کے ٹی ایس 10 جی ایریاغوث پاک روڈ کے قریب بنی کچرا کنڈی سے ملی تو ماں باپ پر غشی کے دورے پڑ گئے ۔غم زدہ والدین کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہم غریب ہیں، اس لیے ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ ہماری بیٹی توواپس نہیں آئے گی،لیکن اب ہمیں صرف اور صرف انصاف چا ہیے، تاکہ کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ایسا ظلم اور بربریت نہ ہو سکے۔

لاش کی اطلاع پرعلاقے میں کہرام مچ گیا، خوف ہراس پھیل گیا، سیکڑوں علاقہ مکین جمع ہو گئے ۔ مذکورہ علاقے کی فضا آج بھی سوگوارہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ پولیس حسب معمول میڈیا میں خبر چلنے کے بعد آئی، ضابطے کی کارروائی کےبعد معصوم بچی کی لاش جناح ہسپتال منتقل کی ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایم ایل او نے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ، شدید تشدد اور گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق کردی ۔ میری بیٹی کی تشدد زدہ لاش کچراکنڈی سے ملی۔غم سے نڈھال ماہم کے ورثا نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ بیٹی کی گمشدگی پر پولیس نے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا، رپورٹ درج کرانے کے لیے جب متعلقہ تھانے گئے تو پولیس اہل کاروں نے کہا کہ آپ لوگ ذہنی مریض ہیں، ہمارا وقت خراب نہ کریں، تھانے سے چلے جائیں اوربچی کو ڈھونڈیں، مل جائے گی ۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی ایسٹ ثاقب اسماعیل میمن نے6 سالہ کمسن بچی ماہم واقعے کی تفتیش میںہونے والے پیش رفت سےمتعلق بتایا کہ6 سالہ کمسن بچی کو ماہم اغوا کرکے تشدد اورزیادتی کا نشانہ بنانے کا کیس حل ہو گیا ہے۔ زیرحراست ملزم کا ڈی این اے میچ کرجانے پرملزم کوباقائدہ گرفتار کرلیا گیا، گرفتار ملزم بچی کا محلہ دار اوررکشہ ڈرائیور ہے۔ یہ واقعہ رونما ہونے کے فوراً بعد ایک پولیس کے اعلیٰ افسران پرمشتمل ٹیم تشکیل دی گئی جس نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ پورے علاقے کواسکین کیا، جوشواہد دستیاب تھے، ان کی مدد سے ملزم کا خاکہ تیارکیا گیا اورعینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں ٹارگٹ زیروئنگ کی گئی۔ 

پولیس نے علاقے کی جیوفیسنگ بھی کرائی اور دیگر ٹیکنیکل سپورٹ حاصل کی گئیں۔ پولیس نے ڈی این اے نمونے حاصل کیے اور ایک ملزم کوگرفتارکیا اوجس نے دوران تفتیش اعتراف جرم بھی کر لیا ہے اور ملزم کا ڈی این اے نمونہ حاصل کر کے جامعہ کراچی میں واقع لیبارٹری بھجوایا اورجو مقتولہ بچی کے کپڑوں سے حاصل کیے جانے والےڈی این اے سے میچ ہوگیا۔

ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ گرفتار ملزم ذاکرعرف انٹول متاثرہ خاندان کا محلے داراورایک دوسرے کے ساتھ شناسائی ہے، بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتےبھی ہیں،انہوں نے بتایا کہ جس علاقے سے کمسن بچی کواغوا کیا گیا، وہاں روزانہ بجلی کی فراہمی معطل ہو تی ہے اور گرفتار ملزم اندھیرے اور بچی کے ساتھ مانوسیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لےکرگیا اور بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، بچی ملزم کوجانتی تھی، اس لیے ملزم نے بچی کو قتل کردیا۔

گرفتار ملزم کے خلاف سب سے بڑا اور سائنسٹیفکٹ ثبوت ڈی این اے کا میچ ہونا ہے اورایک عینی شاہد نے ملزم کو بچی کی لاش کو پھینکے ہوئے دیکھا ہے ،گواہاں کے سامنے ملزم کی شناخت پریڈ بھی کروائی جائے گی۔ گرفتار ملزم نےجس طرح کا رویہ اپنایا، وہ ایک ذہنی بیماری کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی ایجوگیٹ کرنا چاہیےکہ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کیا ہے اوروالدین کی بھی ذمے داری ہے کہ نقل و حمل پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ ایسے لوگ ان کے قریب نہ آسکیں ۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ جب یہ افسوس ناک واقعہ ہوا، تو پولیس اہل کاروں کا روایہ غیر مناسب تھا، اگر تھانے میں پولیس افسران مناسب طریقے سے ری ایکٹ کرتے تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی اور اسی وجہ سے ایس ایچ او زمان ٹاؤن اور ڈیوٹی افسر کو معطل کیا اور15 پولیس کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایامزیدکہ پولیس کو ملزم پراس وجہ سے شک ہوا کہ کئی سال پہلے ملزم کا اسی طرح کے ایک واقعے پر علاقے میں جھگڑا ہوا تھا،اسی وجہ سے اس کی نشاندہی ہوئی۔ بچوں کی گمشدگی کے واقعات کو سنجیدہ لیا جاتا ہے اور اب ماہم کیس کے بعد مزید سنجیدہ لیا جائے گا۔ اس طرح کے جتنے بھی مقدمات درج ہوئے ہیں، ان کی تفتیش اے وی سی سی کو منتقل ہو جاتی ہے۔ ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ گرفتار ملزم شادی شدہ اور4بچوں کا باپ ہے۔ رکشہ چلاتا ہے۔ مقتولہ بچی کے والد نے بتایا کہ اگر تمام پولیس افسران اسی طرح اپنا کام کریں تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے، ہماری بیٹی تو چلی گئی ہے ، اب کسی کی بھی بیٹی کے ساتھ ایساواقعہ نہ ہو ۔

یاد رہے چند سال قبل پنجاب کے ضلع قصور میں بھی ننھی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرکے اس کی لاش کو کچرا کنڈی میں پھینکا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر بچی کی تصاویر تیزی سے وائرل ہوئی تھی۔ بعد ازاں ننھی زینب کے قاتل عمران کو گرفتار کیا گیا، ڈی این اے میچ ہونے پر اس کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مقتولہ ماہم کے غریب خاندان کو انصاف کون دے گا ؟اب ماہم کے غم زدہ اہل خانہ کی آنکھیں عدالت سے انصاف کی متلاشی ہیں، کیوں کہ اب یہ معاملہ عدالت میں چلے گا۔ عدلیہ بھی اس درندہ صفت سفاک قاتل کو کڑی سے کڑی سزا دے۔ بہ حیثیت معاشرہ کا فرد ہونے کے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اپنے ارد گرد نظر رکھنا ہوگی، تاکہ آئندہ اس قسم کے اندوہناک واقعات پیش نہ آئیں ، آج کے بعد کوئی دوسری زینب اور ماہم ان جیسے درندوں کی بھینٹ نہ چڑھ سکے۔

دوسری جا نب معاشرے کی بے راہ روی کی مثال بھی سامنے آئی ہے ۔جب رضویہ تھانے کی حدود سرسید گرلز میں امتحان دینے کے لیے آنی والی لیاقت آباد نمبر 6کی رہائشی 20سالہ طالبہ رمشا انور دختر نوارالدین کی گمشدگی کی خبریں سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی تھیں، اس سلسلےمیں رمشا کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ صبح امتحان دینے میرے ساتھ کالج گئی تھی،جہاں اس نے مجھے اپنا موبائل فون دیتے ہوئے کہا کہ میں خود گھر آجاوں گی،لیکن وہ نہ آئی۔ رمشا کی والدہ شوگر کی مریضہ ہیں اور ان پر غشی کے دورے پڑرہے ہیں۔

اس حوالے سے رمشا کا وڈیو بیان بھی وائرل ہو گیا ہے، جس کے مطابق وہ عاقل اور بالغ ہے، اس نے شامیر ولد محمد لطیف سے باہمی رضامندی کورٹ میں نکاح کیا ہے اور نکاح نامہ بھی موجود ہے۔لڑکی کے مطابق اسے تھانہ رضویہ کی جانب سے پیش ہونے کی مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ شامیر کا کہنا تھا کے ہم نکاح کرچکے ہیں، جس کی کاپیاں تھانہ رضویہ اور ایس ایس پی آفس میں جمع کروائی جا رہی ہیں۔شاہ میر کے مطابق ہمارے وڈیو بیان کو حتمی سمجھا جائے ہم نے شادی کی ہے کوئی گناہ نہیں کیا۔ لڑکی کے اہلخانہ اور پولیس کی جانب سے انھیں حراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔تاہم رمشاء کے والدین نے اس شادی کو قبول نہ کرتے ہوئے شاہ میر کے خلاف اغواء کا مقدمہ تھانہ رضویہ میں درج کرا دیا ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز اورنگی ٹاؤن کی میں رمشا کے بھائیوں نے 15سے20 افراد کے ساتھ دھاوا بول دیا تھا، جس کے خلاف مومن آباد تھانے میں باقاعدہ درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ زمان ٹاون تھا نے کی حدود کورنگی مکان نمبر 50بی کی رہائشی 11سالہ لڑکی شمرابھی اس روز لاپتہ ہوگئی، جس دن کمسن ماہم اغواہوئی تھی، جس کی گمشدگی کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں در کرادی گئی تھی ، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ شمراواپس گھر آگئی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید