لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ٹاک ٹاکر خاتون کو ہراساں کرنے کے واقعے میں پولیس نے مزید 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
لاہور پولیس کے ذرائع کے مطابق خاتون کو ہراساں کرنے کی ویڈیو میں نظر آنے والے حذیفہ کو لاہور کے علاقے کوٹ عبدالمالک سے گرفتار کیا گیا ہے۔
لاہور پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ 18 سالہ حذیفہ کی نشاندہی پر مزید 2 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تینوں ملزمان کے نام شاہ زیب، عکاس اور حذیفہ ہیں۔
لاہور پولیس کے ذرائع کے مطابق دیگر 4 ملزم ہارون، وہاب، بلال اور احمد کی تلاش جاری ہے، چاروں حذیفہ کے رشتے دار ہیں اور بنوں سے گریٹر اقبال پارک آئے تھے۔
لاہور پولیس کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں حذیفہ اور اس کے ساتھی موجود ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور میں مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو دست درازی، ہراسگی اور بدتمیزی کا نشانہ بنانے کا واقعہ 14 اگست کے روز پیش آیا تھا۔
یومِ آزادی کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم سے ہوئی دست درازی کا خوفناک واقعہ 3 روز بعد سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آیا۔
سیکڑوں نوجوانوں نے ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور اس کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کپڑے پھاڑ دیئے جبکہ پولیس واقعے سے بے خبر رہی۔
فوٹیجز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔