• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائٹ ہائوس کے اُس کمرے میں جہاں 2001ء میں امریکی صدر بش نے افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تھا، گزشتہ دنوں امریکی صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہائوس کے اُسی کمرے میں بیٹھ کر کہا کہ ’’کابل پر طالبان کا جس تیزی سے قبضہ ہوا، اُنہیں اُس کی اُمید نہیں تھی۔‘‘ جوبائیڈن نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ نے افغان فورسز کی تربیت کی، اُنہیں ہر قسم کا اسلحہ فراہم کیا اور اُن کی تنخواہیں تک ادا کیں لیکن وہ لڑنا نہیں چاہتی تو امریکی فوج اُن کیلئے نہیں لڑسکتی۔‘‘ افغان دارالحکومت کابل پر طالبان کے آناً فاناً کنٹرول کو امریکی انٹیلی جنس کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیا جارہا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کچھ روز قبل تک یہ دعوے کرتے رہے کہ کابل پر طالبان کا قبضہ ناممکن ہے۔ ان کے بقول امریکی تربیت یافتہ افغان فورسز کی تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہے جو جدید اسلحہ سے لیس ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں طالبان کی تعداد صرف 75 ہزار ہے جو افغان فورسز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تاہم کچھ ہی روز بعد امریکی صدر کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

کابل پر طالبان کے قبضے سے بھارت میں 15 اگست کو یوم آزادی کی خوشیاں سوگ میں بدل گئیں اور پورے ملک میں صف ماتم بچھ گئی اور وہ اشرف غنی جو بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان پر الزام تراشیاں کرتا تھا، دم دبا کر بھاگ گیا۔ امریکہ کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ سے کہا تھا کہ بھارت نے افغانستان کے انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بے شمار لائبریریاں قائم کی ہیں جس پر ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ ’’ان لائبریریوں میں جاتا کون ہے؟‘‘آج بھارت کی 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ضائع ہوگئی جبکہ اس کی لائبریریاں جہاں پاکستان مخالف مواد تھا، سنسان پڑی ہیں اور نریندر مودی کی افغانستان کے بارے میں پالیسیاں بھارتی میڈیا کی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

کابل پر قبضے کے بعد دنیا کی نظریں طالبان پر مرکوز تھیں مگر طالبان ترجمان کی پریس کانفرنس میں ان کے غیر روایتی رویے اور اعلانات نے دنیا کو حیرت زدہ کردیا جو طالبان کی سوچ میں تبدیلی کی عکاسی کررہے تھے۔ طالبان نے افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ کرنے، اپنے دشمنوں سمیت سب کیلئے عام معافی، خواتین کو شرعی حقوق دینے، انسانی حقوق کی پاسداری کرنے، میڈیا کی آزادی، افغانستان میں مضبوط اسلامی حکومت تشکیل دینے اور اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے اعلان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مستقبل کا افغانستان 20 سال قبل ان کی افغان حکومت سے یکسر مختلف ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں ان اعلانات پر عمل ہوتابھی ہے کہ نہیں اور جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوگی تو کیا دنیا طالبان حکومت کو تسلیم کرے گی؟ ایسی اطلاعات ہیں کہ چین، روس، ترکی اور ایران، پاکستان کے ساتھ ایک ہی پیج پر ہیں۔امریکہ پہلے ہی یہ واضح کرچکا ہے کہ طالبان حکومت کو صرف اسی صورت تسلیم کیا جائے گا جب وہ ملک میں انسانی حقوق کو یقینی بنائے گی۔

طالبان نے 20 سال بعد وہ کچھ حاصل کرلیا جس کا کچھ ماہ قبل تک تصور نہیں کیا جاسکتا تھا جبکہ امریکی کٹھ پتلی افغان حکومت بغیر کسی مزاحمت کے افغانستان کو طالبان کے حوالے کرکے فرار ہوگئی۔ امریکہ نے 20 برس میں افغانستان پر 2 کھرب ڈالر (2000 ارب ڈالر) خرچ کئے، 3 لاکھ افغانوں پر مشتمل فوج تشکیل دی اور اسے دنیا کا جدید ترین اسلحہ دیا جس میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ٹینکس اور دیگر دفاعی سازو سامان شامل تھا۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت جس کے پاس طالبان سے لڑنے کی پوری صلاحیت موجود تھی، اس نے بنا کسی مزاحمت کے افغانستان کے انتظامی معاملات طالبان کے حوالے کیسے کردیے؟ شاید امریکہ کو پورا یقین تھا کہ امریکی تربیت یافتہ افغان فورسز اس کی کٹھ پتلی حکومت جسے بھارتی پشت پناہی بھی حاصل تھی، کو قائم رکھے گی مگر شاید امریکہ یہ بھول گیا کہ کسی ملک کی فوج بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تشکیل دی جاتی ہے نہ کہ اپنے لوگوں کو فتح کرنے کیلئے۔ امریکہ کی یہی غلطی اس کی افغانستان میں شکست کا باعث بنی اور جب طالبان نے کابل کا رخ کیا تو امریکہ کی وہ تربیت یافتہ افغان فورسز جن پر امریکہ کو بہت مان تھا، نے اپنے ہی عوام پر اسلحہ اٹھانے سے انکار کردیا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل جنہیں افغان جہاد کا تخلیق کار کہا جاتا ہے، نے اپنی وفات سے قبل ایک ملاقات میں مجھے بتایا تھا کہ ’’امریکی فوجی چاکلیٹی فوجی ہیں جو افغانستان میں نہیں ٹھہرسکیں گے اور پگھل جائیں گے۔‘‘ آج اُن کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور امریکیوں کو افغانستان میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نائن الیون کے بعد امریکی صدر بش اکثر یہ دعویٰ کیاکرتے تھے کہ ’’امریکہ، طالبان کیلئے زمین تنگ کردے گا‘‘ تاہم طالبان کا یہ کہنا تھا کہ ﷲ کا فرمان ہے کہ’’ میری زمین وسیع ہے‘‘، دیکھتے ہیں کس کا وعدہ پورا ہوگا۔ آج 20 سال بعد اللہ کا وعدہ پورا ہو گیا اور افغانستان کی سرزمین امریکیوں کیلئے بیگانہ ہوگئی۔

تازہ ترین