• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان سے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے ابھرتے خطرے سے نمٹنے کیلئے روس اور چین متحد

افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے روس اور چین متحد


ماسکو / کابل / انقرہ ( نیوز ایجنسیز) روس اور چین افغانستان سے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے ابھرتے خطرے سے نمٹنے کیلئے متحد ہوگئے ہیں ، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور چین کے صدر شی جن پنگ نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور افغانستان کی خودمختاری کے احترام پر اتفاق کیا ، دونوں صدور نے کہا کہ افغانستان کی تمام جماعتیں کھلا اور جامع سیاسی فریم ورک بنائیں، دہشت گرد گروپوں سے رابطے ختم کئے جائیں۔ 

افغانستان سے غیرملکی افواج کے 31؍ اگست تک انخلاء کو مکمل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں اور سیکڑوں امریکی فوجیوں کا پہلا دستہ بھی کابل سے روانہ ہوگیا۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ڈیڑھ ہزار امریکی فوجی و سویلین رہ گئے تاہم انخلاء آپریشن میں 31؍ اگست کے بعد توسیع نہیں کریں گے ۔ 

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ 20برس میں حاصل فوائد کے ’تحفظ‘ کی خاطر طالبان سے بات کرنے کیلئے تیار ہے تاہم طالبان کو کوئی غیر مشروط پیشکش نہیں کی جائے گی۔ ادھر کابل ائیرپورٹ پر 10ہزار سے زیادہ افراد انخلاء کے منتظر ہیں جبکہ طالبان نے ڈالر اور نوادرات باہر بھیجنے پر پابندی لگادی، ترک افواج نے افغانستان سے نکلنا شروع کردیا ہے ۔ 

طالبان کمانڈر قاری فصیح الدین نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے صوبے پنج شیر میں پیش قدمی جاری ہے اور احمد شاہ مسعود کے گھر اور وادی کی اہم چوٹیوں پر قبضہ کرلیا۔ تاہم احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے کہا کہ طالبان کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مرنا پسند کروں گا۔ 

دوسری جانب برطانوی ریڈیو کو انٹرویو میں پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا ہے کہ اُن کا اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ، خواتین کی تعلیم جاری ہے، وہ کام پر بھی جا سکتی ہیں، کچھ افغان کابل ایئرپورٹ پر ہونے والی افراتفری کو بغیر دستاویزات ملک سے باہر جانے کیلئے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، لوگ طالبان سے خوش ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق روسی صدرولادیمیرپیوٹن نے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، افغانستان سے دہشتگردی کے خدشات اور منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک کے سربراہان کا افغانستان کی خودمختاری اوراستحکام کا احترام کرنے پراتفاق ہوا ہے۔ 

روسی صدر ولاد یمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی مداخلت روکنے کیلئے چین کیساتھ کام کرنے کیلئے تیارہیں۔چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تمام جماعتیں کھلا اور جامع سیاسی فریم ورک بنائیں،دہشتگردگروپوں سے رابطے ختم کیے جائیں۔

شی جن پنگ نے زور دیا کہ چین افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔چین افغانستان کے داخلی اُمور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔ 

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان نے 31؍اگست کو انخلا کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ وہاں سے جانا چاہتے ہیں ان کی مدد کرنے کی امریکی کوششیں اس تاریخ کو ختم نہیں ہوں گی۔ 

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ہزار امریکی شہری یا شاید اس بھی زیادہ اب بھی افغانستان میں ہو سکتے ہیں اور انتظامیہ ان کا سراغ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، اس وقت توجہ امریکی شہریوں اور دوسروں کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے، ہمیں طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں کیونکہ زیادہ تر ملک ان کے کنٹرول میں ہے۔ 

امریکی فوج کے میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کے آپریشن کی توجہ اب بھی اس بات پر ہے کہ ’محفوظ اور مؤثر انداز میں جتنے زیادہ لوگوں کو نکالنا ممکن ہو، نکالا جائے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے 42 طیارے جن میں 37 سی 17 اور پانچ سی 130 شامل ہیں، نے گذشتہ روز افغانستان سے 11 ہزار 200 امریکیوں اور 48 اتحادی ممالک کے 7800 افغان اہلکاروں کو افغانستان سے نکالا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ سے ہر 39 منٹ میں ایک طیارہ ٹیک آف کر رہا ہے۔ 

میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا کہ اب بھی کابل ایئرپورٹ پر 10 ہزار سے زیادہ افراد اپنے انخلاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے امکان ظاہر کیا کہ مزید لوگ بھی ایئرپورٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ سیکڑوں امریکی فوجیوں کا پہلا دستہ بھی کابل سے روانہ ہوگیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے بھی امریکی فوجیوں کی روانگی کی تصدیق کی اور کہا کہ فوجی دستے کے جانے سے افغانستان میں امریکی مشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 

دوسری جانب برطانوی وزیرخارجہ کا کہناہے کہ افغانستان سےتقریباً تمام برطانوی شہریت رکھنے والے افراد کا انخلا ہوچکاہے اور طالبان کے کنٹرول کے بعد سے اب تک 9 ہزار سے زائد افراد کو برطانیہ پہنچایاگیا۔

تازہ ترین