• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیاء مہنگی، مہنگائی اور ادائیگیوں کا عدم توازن پاکستانی معیشت کیلئے خطرہ، محکمہ خزانہ

اسلام آباد (مہتاب حیدر) وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوگئیں ، مہنگائی اور ادائیگیوں کا عدم توازن پاکستانی معیشت کیلئے خطرہ ہے ، وبائی امراض کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور لاک ڈاؤن پالیسیوں سے نجی خدمات سے متعلق کاروبار پر اثر پڑسکتا ہے۔

افراط زر کی شرح میں کمی کا رجحان ہے جو 8.4سے گھٹ کر7.7؍ فیصد ہوجائے گی ، خوراک کی منڈیوں کی کارکردگی بڑھانے کیلئے حکومتی کوششیں جاری ہیں ، سامان اور خدمات میں تجارتی خسارہ 3؍ ارب ڈالر تک مستحکم ہوسکتا ہے ، ٹیکس وصولی 42.5فیصد بڑھ گئی۔ 

وزارت خزانہ نے پاکستان کی معیشت کے لیے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کسی ملک کی گھریلو افراط زر اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ 

اگست 2021ء کے ماہانہ معاشی نقطہ نظر میں وزارت خزانہ نے کہا کہ وبائی امراض کا خطرہ اب بھی موجود ہے، حکومت نے اندرونی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے ساتھ اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسیوں پر عمل کیا ہے جس کا خصوصی طور پر دیگر نجی خدمات سے متعلق کاروبار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ 

وزارت کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات خاص طور پر خوراک سے متعلق اسٹرٹیجک ذخائر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے اقدامات یقینی طور پر متعلقہ خطرات کو کم کریں گے۔ مزید یہ کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال پاکستان کو برآمدات کے ذریعے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ 

حالیہ مہینوں میں سال بہ سال افراط زر کی شرح میں کمی کا رجحان ہے۔ توقع ہے کہ کسی بڑے غیر متوقع افراط زر کی شورش کی عدم موجودگی میں آنے والے مہینوں میں اس کے نیچے آنے والے رجحان کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے مہنگائی اگست میں مستحکم ہو سکتی ہے ۔ 

اگر اگست میں مہنگائی کی کوئی نئی تحریک نہیں آئے گی توسال بہ سال مہنگائی جولائی میں 8.4 فیصد سے گھٹ کر اگست میں 7.7؍ فیصد ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ گھریلو خوراک کی منڈیوں کی کارکردگی بڑھانے کیلئے حکومتی کوششیں اب بھی موجود ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی اور مضبوطی کی جا رہی ہے۔ 

اس طرح مجموعی طور پر اگست میں سال بہ سال افراط زر میں جولائی میں 7.6؍ تا 9.2؍ فیصد کی حد میں حاصل کردہ سطح کے گرد اتار چڑھاؤ آنے کی توقع ہے۔ 

بیلنس آف پیمنٹ (BoP) ڈیٹا کے مطابق جون 2021ء میں اشیاء اور خدمات کی درآمدات میں اضافہ ہوا لیکن جولائی 2021ء میں معمول کی سطح پر لوٹ آئی۔ 

عام طور پر جون اور جولائی دونوں لیکن خاص طور پر جون مثبت موسمی اثرات کی خصوصیت رکھتے ہیں۔ یہ مثبت موسمی تسلسل اگست میں غائب ہونے کی توقع ہے۔ 

دوسری جانب دیگر عوامل جیسے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور معاشی نمو کی مسلسل بحالی درآمدات کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ 

توقع ہے کہ اگست 2021ء میں سامان اور خدمات کی درآمد تقریبا ً 6؍ ارب ڈالر ہو جائے گی۔ بی او پی کے اعداد و شمار کے مطابق درآمدات کے برعکس سامان اور خدمات کی برآمدات جون سے ستمبر کے دوران عام طور پر منفی موسم کا تجربہ کرتے ہیں۔ 

توقع ہے کہ اگست میں سامان اور خدمات میں تجارتی خسارہ تقریباً 3؍ ارب ڈالر تک مستحکم ہو سکتا ہے جبکہ ترسیلات زر کے حوالے سے توقعات کے ساتھ ڈھائی ارب ڈالرز مستحکم ہوسکتا ہے۔ اور دوسری ثانوی آمدنی اور بنیادی آمدنی کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے آنے والے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 0.5 ارب ڈالرز کی اعتدال پسند ماہانہ سطح پر خسارے میں رہے گا۔یہ توقعات کسی غیر متوقع منفی شورش کی عدم موجودگی پر منحصر ہیں جو بیرون ملک معاشی بحالی کی ممکنہ سست روی سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ 

مالی سال 2021 کے دوران مالی استحکام کی کوششیں ٹریک پر رہیں۔ مالی سال 2021 میں ٹیکس آمدنی میں 18.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 2022 جولائی میں ٹیکس وصولی 42.5 فیصد بڑھ گئی جو نئے مالی سال کی اچھی شروعات کی نشاندہی کرتی ہے۔ مالی سال 2022 کے لئے ٹیکس کلیکشن 5829 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

تازہ ترین