• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ 2021ءکے بعد عسکریت پسندی میں اضافہ کیوں ہوا تو اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت برسراقتدار آئی۔ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے سے پاکستانی طالبان کا مورال بھی بلندہوا اور انکے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی کہ اگر ہم امریکہ اور نیٹو جیسی قوت کو شکست دے سکتے ہیں تو پاکستانی فوج کی کیا حیثیت ہے۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر اشرف غنی کی جیلوں سے جوہزاروں طالبان رہا ہوئے ان میں ساڑھے چار ہزار ٹی ٹی پی کے لوگ بھی تھے ۔ تیسری وجہ یہ بنی کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ٹی ٹی پی کے سلیپنگ سیلز دوبارہ فعال ہوگئے۔ چوتھی وجہ یہ بنی کہ پہلے انہیں چھپنے کیلئے صرف چند پہاڑ میسر تھے لیکن اب انہیں پورا افغانستان میسر آگیا۔پہلے وہ سرحدی علاقوں کے پہاڑوںاور غاروں میں رہ رہے تھے لیکن اب وہ افغانستان کے شہروں میں رہنے لگے۔ پانچویں وجہ یہ کہ انہیں امریکہ کے چھوڑے ہوئے جدید ترین اسلحے میں سے خاطر خواہ حصہ مل گیا۔ ایک اور وجہ یہ بنی کہ اس عرصے میں مفتی ولی الرحمان کی صورت میں ایک بار پھر قبائلی محسود ٹی ٹی پی کے امیر بن گئے تھے جو نہ صرف پڑھے لکھے بلکہ جنگی حکمت عملی کے بھی کمال کی حد تک ماہر ہیں ۔ٹی ٹی پی جو اُن سے قبل مختلف گروہوں میں بٹ گئی تھی کو انہوں نے دوبارہ ایک چھتری تلے جمع کیا اور بڑی تعداد میں نئے گروہوں کو بھی اس میں شامل کیا۔

ٹی ٹی پی کی ایک اورخوش قسمتی یہ تھی کہ اس دوران پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی جو ٹی ٹی پی کیخلاف جنگ میں ڈرائیونگ سیٹ پر آنے کیلئے تیار نہیں تھی اور آپریشنوں کی مخالفت کرکے مذاکرات پر زور دے رہی تھی ۔ جنرل فیض حمید کی ایما پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے اسوقت کے وزیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کی قیادت میں ایک مرتبہ ایک وفد نے کابل جاکر ان سے بالمشافہ مذاکرات بھی کئے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا جبکہ عسکری قیادت میں تبدیلی کے بعد مذاکرات کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ۔ اس دوران عسکری قیادت کی یہ سوچ بن گئی کہ ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اسلئے تمام توانائیاں ٹی ٹی اے پر صرف کرنی چاہئیں ۔ٹی ٹی پی نے ایک حکمت عملی یہ بنائی کہ ماضی کی طرح بیک وقت پورے ملک میں کارروائیوں (اگرچہ وہ اسکی صلاحیت رکھتی ہے) کی بجائے تمامتر توجہ پختونخوا پر مرکوز رکھی اور ایک ضلع پر خاطر خواہ کنٹرول کے بعد وہ دوسرے ضلع کی طرف بڑھتی رہی ۔چنانچہ اس وقت صور تحال یہ ہے کہ صوبے کے چالیس میں سے تقریبا گیارہ اضلاع میں ٹی ٹی پی کا سکہ چلتا ہے ۔ اسی طرح وہ ان اضلاع سے متصل اضلاع میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بناتی ہے اور گزشتہ ماہ اس نے اپنی کارروائیوں کا سلسلہ بلوچستان کی پختون بیلٹ تک بھی دراز کیا۔مین اسٹریم میڈیا میں اسکا تذکرہ نہیں ہوتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں حد سے بڑھ گئی ہیں ۔ وہ ہر روز دن کے اختتام پر اپنی کارروائیوں کی ایک رپورٹ جاری کرتی ہے اور بمشکل کسی روز اسکی کارروائیاں دس سے کم ہوتی ہیں ۔ پھر وہ مہینے کے اختتام پربھی پورے مہینے کی رپورٹ جاری کرتی ہے چنانچہ یہاں میں اس کی گزشتہ ماہ یعنی ستمبر کی کارروائیوں کی تفصیل رقم کرتا ہوں تاکہ آپ کو اسکی سرگرمیوں کا اندازہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق ماہ ستمبر میں ٹی ٹی پی نے کل 334کارروائیاں کیں جن میں اسکے مطابق 213 ہلاکتیں ہوئیں اور 382 افرادزخمی ہوئے جبکہ 45افراد کو گرفتار یا اغوا کر لیا گیا۔جن اداروں کو اموات یا زخمی ہونے کے صورت میں نقصان اٹھانا پڑا ان میں فوج 202، ایف سی 188، پولیس اور سی ٹی ڈی 145جبکہ خفیہ اداروں یا امن کمیٹیوں کے 60افراد شامل تھے ۔اسی طرح جنوبی وزیرستان میں 98، شمالی وزیرستان میں 50، پشاور میں 43، ڈیرہ اسماعیل خان میں 26، کرم میں 18، ٹانک میں 18، بنوں میں 12، خیبر میں 11، اورکزئی میں8، باجوڑ میں7،ہرنائی میں 6، پشین میں5، مہمند میں5، چترال میں4، کرک میں 4 ، دیر پایاں میں 4، کوہاٹ میں 4، لکی مروت میں 3 ، دیر بالا میں2 ، ژوب میں 2، سوات میں ایک، مکران میں ایک، قلعہ سیف اللہ میں ایک اور جنوبی پنجاب میں ایک کارروائیاں کیں ۔حملوں کی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ماہ ستمبر میں 81لیزر حملے،57گوریلا حملے، 57 براہ راست حملے،37کواڈ کاپٹر حملے، 27 گرینیڈ یا بم حملے،25 ٹارگٹڈ حملے، 25 گھات حملے،17جوابی حملے، 6 میزائل حملے اور 2 استشہادی (خودکش) حملے کئے گئے ۔ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ میں مذکورہ حملوں کے نتیجے میں ہونیوالے نقصانات اور انکے ہاتھ لگنے والے سازوسامان کی تفصیل الگ سے دی گئی ہے ۔

ٹی ٹی پی کی مذکورہ ایک ماہ کی رپورٹ سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں عملاََ حکومتی رٹ کتنی رہ گئی ہے ۔ ٹی ٹی پی کیخلاف سیکورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بھی کسی ایک دن کیلئے نہیں رکیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں مطلوبہ عوامی تائید حاصل نہیں۔ فوج کی شہادتوں کا یہ عالم ہے کہ پشاور ہیڈکوارٹر میں قائم یاد گار شہدا کی لمبی چوڑی دیوار شہدا کے ناموں سے بھرگئی ہے اور اب اسکے ساتھ نئی دیوار تعمیر کی گئی ہے لیکن پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اس طرح سیکورٹی فورسز کی جنگ کو اون (Own) نہیں کررہی جس طرح کہ بلوچستان کی حکومت کررہی ہے ۔ وہ اسے ڈالروں کی جنگ قرار دیکر آپریشن کی حمایت سے گریزاں ہے ۔ اسکی وجہ بھی معلوم ہے کہ اگر پی ٹی آئی اس جنگ کو اپنائیگی تو پھر شاید اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو اے این کے ساتھ انکی حکومت میں ہوا تھا۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں بنیادی تنازع اسی سے متعلق تھا۔

وفاقی حکومت کا مطالبہ تھا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی سے متعلق اپنا بیانیہ تبدیل کردے لیکن اگلے روز وزیراعلیٰ نے کہہ دیا کہ وہ مر جائینگے لیکن فوج کے بیانیے کو نہیں اپنائیں گے ۔یہی وجہ ہے کہ مجھے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ عمران خان کی ملاقات یا لانگ مارچ وغیرہ پر مشاورت سے کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے لیکن دہشت گردی سے متعلق بیانیے کا جو تضاد ہے اسکو دور نہیں کیا جاسکتا ۔ اس وقت عسکری قیادت مزید کوئی مہلت دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتی جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی دہشت گردی کے معاملے پر ہمنوائی کیلئے تیار نظر نہیں آتی۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟، جلد سامنے آجائیگا لیکن جو بھی نتیجہ ہو اس کے نتیجے میں تلخی کم ہونے کی بجائے بڑھے گی۔

تازہ ترین