کابل(جنگ نیوز، اے ایف پی)20سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے امریکا کا انخلاء مکمل،طالبان کا پھر دور شروع، 5طیارے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو لیکر کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ سےروانہ ہوگئے،جس پر طالبان نے خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی ۔پیر کوداعش کی جانب سے کابل ایئر پورٹ پر 5راکٹ حملے بھی کئے گئے تاہم امریکی حکام کا موقف ہے کہ ہوائی اڈے پر داغے جانیوالے راکٹ ڈیفنس سسٹم نے تباہ کر دیئے ،ادھر امریکی صدر بائیڈن کاکہناتھاکہ افغانستان سے انخلا میں بد نظمی کےذمہ دارجوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی ہیں، کابل ایئر پورٹ استعمال کرنے کا مشورہ فوج نے دیا، دوسری جانب پنٹاگون نےکہاہےکہ کابل ایئرپورٹ کو خطرہ حقیقی ہےاور ہم خطرناک وقت سے گزر رہے ہیں۔جیو نیوز کےمطابق افغانستان سے امریکا کا انخلاء آپریشن مکمل، امریکا کے آخری 5 طیارے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو لیکر کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ سےروانہ ہوگئے، جس کے بعد امریکا میں قبضے میں موجود آخری افغان علاقہ بھی طالبان کے کنٹرول میںآگیا اور طالبان کے کابل ایئرپورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیاہے، بعد ازاں طالبان کی جانب سے خوشی میں کابل پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔غیرملکی میڈیاکےمطابق پیر کی صبح کابل ایئرپورٹ پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے جن کے بارے میں حکام نے کہا ہے کہ ہوائی اڈے پر داغے جانیوالے متعدد راکٹ ڈیفنس سسٹم نے تباہ کر دیئے ، حکومتی انتظامیہ کے سیکورٹی حکام کا کہناتھا کہ یہ راکٹ کابل کے شمال سے ایک گاڑی سے داغے گئے،مقامی رہائشیوں کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے دفاعی نظام سے راکٹ حملوں کو روکنے کی آوازیں بھی سنی گئیں ، ان کے مطابق ایئرپورٹ خودکار دفاعی نظام کے چھرے بھی سڑکوں پر گرے جس سے یہ علم ہوتا ہے کہ کم از کم ایک راکٹ حملے کو ناکام بنایا گیا ۔شہر کے شمال میں جہاں حامد کرزئی ایئرپورٹ واقع ہے، عمارتوں کے عقب سے فضا میں دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ ادھر امریکی صدر جوبائیڈن نے کابل میں بدانتظامی اورناکامی کا ملبہ جنرل مارک ملی پرڈال دیا۔