• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم اپنی گزشتہ تحریروں میں پوٹھوہار خطے کے کئی قلعوں روہتاس، پھروالہ، روات، اور گری وغیرہ کا ذکر کرچکے ہیں، آج کی ہماری تحریر قلعہ سنگھنی کے بارے میں ہے۔ راولپنڈی سے آگے گوجرخان سے تقریباً 25کلومیٹر دور دو چھوٹی ندیوں کے سنگم پر نہایت ہی خوبصورت جگہ، پہاڑ کی چوٹی پر سنگھنی قلعہ واقع ہے۔ یہاں سے کئی دیہات کا طائرانہ نظارہ کیا جاسکتا ہے، جن میں سوئی چیمیاں اور ڈھوک لاس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ڈھوک لاس کی بات کریں تو یہ گاؤں سترہویں صدی کے ایک قدیم قبرستان کے حوالے سے اپنی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں قبروں کو کنجور کے پتھر سے بنایا گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ یہ قبریں قلعے میں تعینات مغل سپاہیوں کی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خستہ حال مقبرہ بھی ہے، جو غالباً مغل ناظم کا ہے جو سنگھنی اور اردگرد کے دیہاتوں کا انتظام سنبھالنے کا ذمہ دار تھا۔

سنگھنی قلعے کی تعمیر کے حوالے سے متضاد آراء پائی جاتی ہیں، کچھ کا خیال ہے کہ یہ قلعہ مغلوں نے تعمیر کروایا تھا، جس پر بعد میں ڈوگروں نے قبضہ کرلیا تھا جبکہ بعض روایات کے مطابق اسے کشمیر کے ڈوگروں نے بنوایا تھا۔ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ جب یہ علاقہ 1814ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی میں آیا توسنگھنی کے مقام پر اس قلعے کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ناصرف علاقے کو کنٹرول کیا جاسکے بلکہ ٹیکس وصولی میں بھی سہولت ہو۔ اس طرح سکھ دورِ حکومت میں اس قلعے کا کردار دفاعی سے زیادہ انتظامی تھا۔ پنجاب پر انگریزوں کے قبضے کے بعد اس قلعے کو جیل کیمپ کے طور پر استعمال میں لایا گیا۔ تاہم، سنگھنی قلعہ بظاہر اپنی اہمیت کھو کر اب ایک خاموش داستان بن چکا ہے۔

بلند فصیلوں کے حامل اس قلعے کےتین اطراف قدرتی خندقیں کھدی ہوئی ہیں، جن میں پانی بہتا ہے۔ تاہم، ایک جانب سے ہریالی کے بیچوں بیچ چلتا پگڈنڈی نما راستہ قلعے کے اندر داخل ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور لوگوں کو وہاں سے قلعے تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ 200سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود قلعے کے دروازے پر ابھی تک چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ قلعہ کا مرکزی دروازہ مشرق کی طرف سے کھلتا ہے، جہاں سے ٹکل گاؤں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہیں سے سیڑھیاں اُوپر قلعے کے اندر لے جاتی ہیں۔ اس کو تعمیر کرنے میں پہاڑی پتھر کا استعمال کیا گیا ہے۔

سنگھنی قلعے میں پانچ برج ہیں، جن میں اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں موجود ہیں۔ کونوں پر تعمیرشدہ چاروں برج ایک ہی سائز کے ہیں جبکہ پانچواں برج قدرے چھوٹا ہے۔ یہ برج قلعے کی حفاظت اور اور گردونواح پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ قلعہ کی دیواروں میں کہیں کہیں دراڑیں نظر آتی ہیں مگر مجموعی طور پر اس کی دیواریں آج بھی اچھی حالت میں ہیں۔ ان دیواروں میں بےشمار روشندان بنے ہوئے ہیں جبکہ ہوا کی آمدو رفت اور بندوق سے نشانہ لگانے کے لیے سوراخ بھی بنے ہوئے ہیں۔

قلعہ کے صحن کے ایک کونے میں فرش میں چوکور سوراخ موجود ہے، جہاں سے نیچے نہر بہتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سوراخ کو نیچے بہتے پانی کو قلعے میں لانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ قلعہ کے نیچے موجود نہریں گرمیوں کے موسم میں تیراکی اور ٹھنڈک کے لیے ایک بہترین جگہ مہیا کرتی ہیں کیونکہ سورج کی روشنی یہاں تک نہیں پہنچتی۔ یہاں آنے والے لوگ ان نہروں میں نہاتے ہیں۔ اس قلعے میں کوئی خاص عمارت، بیٹھک، دیوان یا محل نہیں ہے کیونکہ اسے تعمیر کرنے کا مقصد محض علاقے پر اپنا اثرو رسوخ برقرار رکھنا تھا۔ اس لیے اگر یوں کہا جائے کہ یہ ایک قدیم زمانے کی پولیس چوکی ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ سپاہی وغیرہ غالباً قلعے کے برجوں کے اندر ہی قیام پذیر رہتے ہوں گے۔

قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی سامنے صحن اور صاحبزادہ عبدالحکیم کا مزار نظر آتا ہے، جہاں زائرین کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صاحبزادہ عبدالحکیم ڈوگرا راج کے دوران ایران کے راستے عراق سے یہاں دین کی تبلیغ کرنے آئے تھے۔ ڈوگرا سپاہیوں نے انہیں سنگھنی میں داخل ہونے نہیں دیا تھا کیونکہ یہ علاقہ اس وقت ریاست آزاد جموں و کشمیر کے ڈوگروں کے زیرِ تسلط تھا۔ انہیں علاقہ بدر کر کے چکڑالی میں رہنے پر مجبور کیا گیا، جہاں کئی لوگ ان کے مرید بن گئے، ان کا نام دیگر علاقوں میں پھیلتا چلا گیا اور وہ پوٹھوہار ریجن کے تمام علاقوں میں مشہور و معروف ہوگئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے مریدوں نے مزار تعمیر کیا جو پوٹھوہاری طرزِ تعمیر کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔

اس میں داخل ہونے کے لیے تمام سمتوں سے تین محرابی دروازے تعمیر کیے گئے ہیں۔ مزار ماربل سے تعمیر کردہ ہے، اس کی تعمیر اور نقش و نگاری میں انتہائی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مزار پر ایک گنبد اور اس کے کونوں پر چار مینار تعمیر کیے گئے ہیں۔ گنبد کی بنیاد کو کاشی کے کام والی ٹائلز سے سجایا گیا ہے۔ مزار کا گنبد قلعے کی فصیل کے اوپر سے نظر آتا ہے۔ راہداری کی دیواروں پر جدید سیرامکس کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ مزار کے اندرونی حصے کو شیشے کے کام سے سجایا گیا ہے۔ ٹائلوں اور شیشے کا کام مزاروں کے جدید پوٹھوہاری طرزِ تعمیر کا بنیادی جزو ہے۔ صاحبزادہ عبدالحکیم کے مریدوں نے مزار کے بالکل قریب ایک مسجد بھی بنوائی تھی۔ مزار اور قلعے کا خیال صاحبزادہ عبدالحکیم کے عقیدت مند رکھتے ہیں۔