• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں 5ستمبر کو ’چیریٹی کا عالمی دن‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے مختلف تقریبات، سیمینارز، واکس اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر کے بے سہارا اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ 2012ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بیماروں اور ناداروں کی مدد کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دینے والی عظیم سماجی کارکن مدر ٹریسا کے یوم وفات یعنی 5ستمبر کو ’ورلڈ چیریٹی ڈے‘ منانے کی منظوری دی۔

صدقہ و خیرات اور سخاوت یا انسانی ہمدردی کے تحت مالی طور پر کی جانے والی امداد چیریٹی کہلاتی ہے۔ یہ حقیقی سماجی تعلق قائم کرتی ہے اور ایک جامع اور زیادہ لچکدار معاشرے کی تشکیل میں معاون ہوتی ہے۔ چیریٹی بحرانوں سے پیدا ہونے والے بدترین اثرات کو کم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے صحت کے شعبے، تعلیم، ہاؤسنگ اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں عوامی خدمات کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ ثقافت ، سائنس ، کھیلوں کی ترقی اور ثقافتی و قدرتی ورثے کے تحفظ میں بھی معاون ہوتی ہے۔ پسماندہ افراد کے حقوق کو بھی فروغ دیتی ہے اور تنازعات کی صورت میں انسانیت کا پیغام پھیلاتی ہے۔

ستمبر2015ء میں اپنائے جانے والے پائیدار ترقی کے ایجنڈے برائے2030ء میں اقوام متحدہ نے تسلیم کیا کہ غربت کو اس کی تمام اقسام اور جہتوں بشمول انتہائی غربت کا خاتمہ سب سے بڑا عالمی چیلنج اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ایجنڈا مضبوط عالمی یکجہتی کے جذبے کا بھی مطالبہ کرتا ہے، خاص طور پر غریب اور کمزور لوگوں کی ضروریات پر توجہ مرکوز کرنا۔ یہ متنوع نجی شعبے کے کردار کو بھی تسلیم کرتا ہے، جس میں مائیکرو انٹرپرائزز، کوآپریٹیوز، ملٹی نیشنلز، سول ایجنسیاں اور مخیر تنظیمیں شامل ہیں تاکہ نئے ایجنڈے کے نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔

ہمارے دین میں چیریٹی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور مسلمانوں کو زکوٰۃ، صدقات، خیرات، عطیات وغیرہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ معاشرے میں معاشی پریشانی کا شکار، مصیبت زدہ، بے گھر اور بے سہارا افراد کی مالی مدد ہوسکے۔ چیریٹی کرنے والے کو خود بھی کسی مستحق کی مالی مدد کرنے سے دلی سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ 

اس کے علاوہ اپنے سے کمتر اور غریب لوگوں کو دیکھنا اور ان کے مسائل سننا، شکر گزاری اور خود کو حاصل نعمتوں کی قدر کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ گھر کے افراد کی چیریٹی کرنے کی عادت سے گھر کے بچوں کو بھی ترغیب ملتی ہے اور یہ نیک کام نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔

زندگی کا اصل مقصد دوسروں کے کام آنا ہی ہے۔ دولت اور وسائل ایک حد تک انسانی ضروریات پوری کرتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان چیزوں کی اہمیت کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ اگر ہم نظر دوڑائیں تو دنیا کی نامور شخصیات اپنی عظمت، دولت اور بے انتہا مصروفیات کے باوجود دوسروں کی مدد کرنے اور انہیں آگے بڑھانے میں ہچکچاہٹ کامظاہر ہ نہیں کرتیں۔ 

ہر کوئی جانتا ہے کہ بل گیٹس، کرسٹیانو رونالڈو اور اوپرا ونفرے جیسی شخصیات بہت سے چیریٹی کے کام کرتی ہیں لیکن کئی معروف لوگ ایسے بھی ہیں جومنظر عام پر نہیں آتے۔ یہ نامور شخصیات شعور بیدار کرنے اور مستحق افراد کی مدد کرنے کے لیے بڑا دل رکھتی ہیں اور میڈیا کی زینت بنے بغیر خاموشی سے اپنا کام کرگزرتی ہیں ۔

آج کے پُرآشوب دور میں ہر شخص مسائل کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں آبادی کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ لوگ بنیادی حقوق حاصل کرنے سے بھی محروم ہیں، جن میں صحت، تعلیم، لباس، رہائش اور خوراک شامل ہے جبکہ رہی سہی کسر کووِڈ-19نے پوری کردی ہے۔ اس وبا کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد مالی مسائل کا شکار ہوئی۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے لوگ تلخیوں اور پریشانی کا شکار ہو گئے۔ ایسے میں کئی افراد ایسے ہیں جو اس مشکل گھڑی میں بھی انسانیت کا درد رکھتے ہیں اور دیگر لوگوں کے دکھ درد سمیٹنے اور ان میں آسانیاں بانٹنے کے لیے عملی طور پراپنے جان و مال سے کام کرتے ہیں۔

ایک دوسرے کے کام آنا انسانیت اور عبادت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوان فلاحی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہمیں اپنی آمدنی کا کچھ حصہ بطور چیریٹی بیمار، بے سہارا، یتیم، غریب، مسکین اور بے گھر افراد کی مدد کرنے پر خرچ کرنا چاہیے۔ ہم نہ صرف خود بھی ایسے لوگوں سے مالی تعاون کریں بلکہ دوسرے لوگوں میں بھی شعور و آگاہی پیدا کریں تاکہ معاشرے کے نادار لوگوں کی دادرسی ہوسکے اور وہ کارآمد شہری بن کر ملک و قوم کی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرسکیں۔ 

ہم اپنی چیریٹی یتیم بچوں کو تعلیم و تربیت اور مفت کتابیں فراہم کرنے، بیماروں کے لیے ادویات اورخون کے عطیہ کا بندوبست کرنے، غریب گھرانوں کے گھر راشن ڈلوانے، کنواں کھدوانے اور دیگر فلاحی کاموں پر خرچ کریں۔ جو لوگ مالی طور پر چیریٹی نہیں کرسکتے ، انھیں چاہیے کہ وہ فلاحی کاموں کے لیے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کریں۔