• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: ’’چونڈہ‘‘1965ء کی جنگ کی وجہ سے کافی معروف قصبہ ہے، یہاں اکثر مساجد میں ایک مسئلہ باعث نزاع ہے کہ نمازی بالکل کم سن بچوں 3 تا 4 سال عمرکو نماز کے لیے ساتھ لے آتے ہیں اور پہلی صف میں بچے کو اپنے ساتھ کھڑا کرلیتے ہیں، جب نماز شروع ہوتی ہے تو کوئی بچہ رورہا ہوتا ہے ،کوئی نمازیوں کے آگے صف میں دوڑ رہا ہوتا ہے، کوئی دوسرے بچے سے لڑ رہا ہوتا ہے، روز نمازیوں کی توتکار ہوتی ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اگر اس مسئلے کا حل کسی بھی دینی کتاب میں دیا گیا ہے تو اس کتاب کا نام اور ملنے کا پتا عطا فرماکر عنداللہ ماجور ہوں، کیونکہ اب ہر بندہ حوالہ مانگتا ہے، پھر بھی ماننا اس کی مرضی پر منحصر ہے۔(پروفیسر منور سعید قادری ،چونڈہ،تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ )

جواب: ایسے بچوں کو ،جنھیں مسجد کے آداب کا شعور نہ ہو، مسجد میں لانا شرعاً منع ہے، چہ جائیکہ انھیں صف کے درمیان کھڑا کیا جائے، تین چار سال والے بچوں کو تو ہرگز صفوں کے درمیان کھڑا نہیں کرنا چاہیے،بلکہ انھیں مسجد میں لانا بھی نہیں چاہیے۔حدیث پاک میں ہے:

ترجمہ:واثلہ بن اسقعؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اپنی مسجدوں کو (بے شعور) بچوں، دیوانوں ،خرید وفروخت کے معاملات، باہمی جھگڑوں ، شوروغوغا، حدود قائم کرنے اور تلواریں سونتنے سے بچاکر رکھو۔(سنن ابن ماجہ:750)

اگرچہ دین کی اصولی تعلیمات یہی ہیں کہ باجماعت نماز میں پہلے بالغوں کی صفیں ہوںاور پھر بچوں کی، لیکن آج کل نماز اور آدابِ نماز کی تربیت کے لیے ہم اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ لڑکپن کی عمر کے باشعور بچوں کوصفوں کے درمیان کھڑا کیا جائے تاکہ نماز کے دوران وہ باادب رہیں ، نماز کی ادائیگی کا طریقہ سیکھیں ، کوئی شرارت نہ کرے ، لیکن امام کے بالکل پیچھے دائیں بائیں یا پہلی صف میں ایسے بچوں کو نہ کھڑا کیا جائے ،کیونکہ رسول اللہ ﷺنے ایک طویل حدیث میں فرمایا: ترجمہ:(باجماعت )نماز میں میرے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو بالغ ہوں اور عقلمند ہوں، پھر وہ جو(عقل ودانش میں)اُن کے قریب ہوں۔ (سنن دارَقطنی:1085)آپ ﷺنے یہ ہدایت اس لیے فرمائی تاکہ امام کے پیچھے کھڑے ہونے والوں میں سے بوقت ضرورت کوئی اُن کی نیابت کا اہل ہو۔

(2)رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ترجمہ:تمہاری اولاد جب سات سال کی ہوجائے ،تو انھیں نماز( پڑھنے)کا حکم دو اور وہ دس سال کے ہو جائیں (اور پھر بھی نماز نہ پڑھیں )تو انھیں (ادب سکھانے کے لیے معمولی)مارپیٹ کرو اور اُن کی خواب گاہیں الگ کرو۔(سنن ابودائود: 495) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ چھ سال کے بچوں کو نماز سکھائی جائے ، گھروں پر انھیں نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا جائے اور تربیت دی جائے اور جب وہ سات سال کے ہوجائیں توانھیں باجماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد بھیجا جائے اور یقیناً وہ اتنے باشعور ہوجاتے ہیں کہ آدابِ نماز کا خیال رکھیں، مسجد میں اصلاح کے لیے درس یا وعظ کا سلسلہ ہوتو اُسے بھی سمجھ سکیں، ہمیں دین کی حکمت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ نوٹ: اس حوالے سے ہمارا ایک تفصیلی فتویٰ ہمارے فتاویٰ کے مجموعہ تفہیم المسائل ،جلد:11،ص:125تا130 میں موجود ہے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk