• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے اہم مسائل میں سے ایک خوراک ہے جو عوام کو سستی، حسبِ ضرورت اور بغیر کسی مشکل کے ملنی چاہئے۔ اس کے حل کی کوشش، فرض کی ادائیگی اور صدقہ جاریہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالی اس کے حل میں مدد کرنے کی توفیق دے۔ آمین! ضرورت مند کے کھانے کا اہتمام کرو اور جنت میں گھر بنائو۔ قرض لینے سے عوام کو خوراک اورانرجی سستی نہیں ملے گی۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کتنا ڈالرجمع ہوگیا ہےیا ہماری خارجہ پالیسی کیسی ہے؟ انکوخوراک اوربجلی 3 یا 4 روپے فی یونٹ، حسبِ ضرورت اور بغیر کسی مشکل کے ملنی چاہئے۔اللہ تعالی نے اس کے حل کیلئے پاکستان میں ذرائع دیے ہیں یعنی ڈیمز۔ خوراک اور توانائی کو سستی اور وافر مقدار میں ہم اپنے ملک میں پیدا کریں اورعوام کویہ حسبِ ضرورت،سستی اوربغیر کسی مشکل کے ملیں۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 2کروڑ ایکڑ زمین آسانی سے آباد ہو سکتی ہے۔ خوراک وافرمقدار میں پیدا ہوگی۔ ڈیمز سے خوراک کے علاوہ بجلی بطور بائی پڑوڈکٹ پیدا ہوگی۔ لاگت تقریباً 2روپے فی یونٹ ہوگی۔ تھرمل بجلی کئی گنا مہنگی ہے۔ زمین سیراب ہوگی تو کئی دیہات آباد ہو جائیں گے اور بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
(ڈاکٹر چراغ محمد خان)