• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خون سے خون کو صاف نہیں کیا جاسکتا ہاں یہ ممکن ہے کہ خون پر مزید خون بہایا جائے تو خون کے دھبے اتنی مضبوطی سے جم جائیں کہ ان کو حرف غلط کی مانند مٹانے کے لیے کئی برساتوں کی نہیں بلکہ عشروں، صدیوں کی برساتوں کی ضرورت درکار ہو۔ یہ المیہ ہی افغانستان میں دہرائے جانے کا امکان بتدریج پیدا ہورہا ہے۔ افغان طالبان کی افغانستان میں کامیابی کے بعد انہوں نے ایسےاقدامات کا عندیہ دیا کہ جس سے اس تصور کی تصویر میں رنگ بھرے جانے کی امید قائم ہونے لگی کہ کسی نوعیت کا انتقام یا ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ فلم کی ریل کی مانند چلانے سے اجتناب برتا جائے گا۔ حال ہی میں مگر ایک واقعہ نے اس تصور کو کاری ضرب لگائی ہے کہ فتح کی خوشی میں ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ جو مستقل بدامنی کو دعوت دینے کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کے بھائی روح ﷲ کا قتل اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔

امرﷲ صالح کا نام آتے ہی بلاشبہ ان کے پاکستان کے حوالے سے مخالفانہ بیانات اور معاندانہ اقدامات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں لیکن خیال کیجیے کہ اس وقت ہمارا موضوعِ بحث پاک افغان تعلقات نہیں بلکہ افغانستان کے حالات پر تجزیہ اس لئے ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں پر کسی بھی نوعیت کی بدامنی سے وطن عزیز براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ نہ صرف کہ کہ براہ راست متاثر ہوتا ہے بلکہ ہمارےدیگر پڑوسی ممالک میں بھی پاکستان کے حوالے سے مختلف نوعیت کے خیالات جنم لینے لگتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے خلاف مظاہرے تک ہونے لگتے ہیں اور بد قسمتی سے پاکستان کا دفتر خارجہ ویسے ہی اس سارے معاملے میں ایک مذاق بن چکا ہے۔ وطن عزیز کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں امکانی حد تک امن قائم ہو۔ امرﷲ صالح کے بھائی کے قتل کا واقعہ وادی پنجشیر میں جاری لڑائی کے وقت سامنے نہیں آیا بلکہ افغان طالبان کے پنجشیر کا کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا کہ ان کو قتل کیا جاچکا ہے۔ افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ وہ لڑائی میں مارے گئے جبکہ ان کے بھتیجے نے کہا ہے کہ ان کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش بھی ہم کو دفنانے کے لیے نہیں دی گئی بلکہ کہا گیا کہ اس کی لاش کو سڑنا چاہیے۔ اس بات سے قطع نظر کہ کس کا موقف درست ہے، اس قتل کے اثرات وہاں کے مقامی باشندوں پر بھی ہوں گے اور بہت گہرے ہوں گے بلکہ ممکن ہے کہ کسی مزاحمت کے استعارے کے طور پر بھی اس واقعے کا ذکر کیا جائے کہ لاش تک دفنانے نہیں دی گئی۔ اقتدار چاہے جتنا بھی مستحکم ہو اگر دل تسخیر نہ ہو ںتو صرف تلوار کی چمک اقتدار کی چمک کو ماند پڑنے سے نہیں روک سکتی۔ جب اموی سلطنت کی چولیں ہلنے لگیں تو آخری اموی خلیفہ مروان بن محمد بن مروان کے زمانے میں ضحاک نے کوفہ پر حکومت حاکمیت قائم کرلی۔ کوفہ پر قابض ہوتے ہی ضحاک نے خود سے اختلاف رکھنے والے تمام اہل کوفہ کو کافر قرار دے دیا وہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ ضحاک کوفہ کی جامع مسجد میں تلوار نکال کر بیٹھ گیا اور اعلان کر دیا کہ’’ کوفہ والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور لونڈیاں بنایا جائے۔‘‘ اس موقع پر امام ابو حنیفہ رحمتہ ﷲ علیہ نے ضحاک سے پوچھا کہ ان سے یہ سلوک کیسے حلال ہو گیا ؟ ضحاک نے کہا کہ یہ سب مرتد ہیں۔

امام ابو حنیفہ رحمتہ ﷲ علیہ نے ضحاک سے پوچھا کہ مرتد ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ کیا ان لوگوں کا پہلے کچھ اور دین تھا جسےترک کر کے مرتد ہونے کے بعد اب کوئی نیا دین انہوں نے قبول کیا ہے ؟ یا جس دین پر پہلے سے چلے آرہے ہیں وہی دین اس وقت بھی ان کا ہے؟ ضحاک چونک گیا اور بولا جو بات تم نے کی ہے ذرا دہراؤ۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ ﷲ علیہ نے دہرا دی۔ ضحاک سمجھ گیا اور بولا ہم نے غلطی کی اور اپنی تلوار میان میں رکھ لی لیکن جو خون وہ بہا چکا تھا اس کے اثرات زائل نہ ہو سکے۔ بات یہ ہے کہ جب کبھی کہیں بھی خون بہایا جاتا ہے جس سے اجتناب ممکن ہو تو ایسی صورت میں اس خون کے قصاص کے دعویدار بہت ہوتے ہیں خاص طور پر اگر وہ خون سیاسی عزائم کو پورا کرنے کا بھی باعث بن سکتا ہو۔ اگر افغان طالبان سے مزید اسی نوعیت کی غلطیاں سرزد ہوئیں تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔

افغان طالبان کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ تمام افغانیوں کے خیر خواہ ہیں، ’’ بہت احتیاط‘‘ کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے اور اگر کوئی دشمن لڑتے ہوئے بھی قبضے میں آ جائے تو اگر معاف نہیں کیا جاسکتا تو زیادہ سے زیادہ اس سے ایک جنگی قیدی کے علاوہ اور کوئی دوسرا رویہ روا نہ رکھا جائے۔ گوانتا نا موبے والا رویہ رکھنا بھی افغان طالبان کے شایان شان نہیں ہوگا۔ مجھے علم ہے کہ جنگی قیدی دو ممالک کے مابین ہوتے ہیں لیکن یہاں پر یہی رویہ افغان طالبان کے اپنے حق میں مفید ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو افغانستان کی تاریخ کے صفحات پلٹتے جائیں بظاہر بہت مضبوط حکومتيں مختلف وجوہات کی بنا پر ریت کا گھروندا ثابت ہوتی چلی گئیں کیوں کہ افغانستان میں حکومت اور شخصیات کی تبدیلی کا کوئی پرامن طریقہ کار نہ ماضی میں موجود تھا اور نہ اب ہے۔ مشورہ ہے کہ اپنے خلاف جذبات پھیلنے دینے کی بجائے محبت سے اپنے مخالفین کے دل جیت لیں۔ سب نہ بھی جیتے جا سکے تب بھی دشمن کم ضرور ہو جائیں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین