• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کے ہیرو

تحریر:قاری محمد عباس۔۔۔ہڈرز فیلڈ
کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے پُر جوش حامی ، نامورکشمیری حریت پسند رہنما ،جدوجہد آزادئ کشمیر کے عظیم ہیرو اور مربّی سید علی گیلانی کی وفات پر مقبوضہ کشمیر سمیت دُنیائے اسلام نہایت افسردہ ہے ،اپنی عوام اور اپنی جنت نظیر وادی کو آزاد کرانے کیلئے طویل ترین جدو جہد کرنے والا بے باک لیڈر ،جانثار و دلیر مجاہد ،شُجاع اور بہادر سفاک انڈین حکومت کی طرف سے گھر میں نظر بند حالت علالت میں 92سال کی عمر میں اپنی مظلوم قوم کو داغ مفارقت دے گئے، اس پیکر صبر و استقلال نے کبھی کسی آزمائش میں نہ اپنی قوم کو تنہا چھوڑا نہ حوصلہ ہارا نہ سر جھکایا ، وہ صحیح معنی میں ایک مرد مجاہد تھے۔ اُنہوں نے کشمیری عوام کے دلوں میں حب الوطنی اور جذبۂ جہاد کا ایسا جذبہ موجزن کیا کہ کہ آج کشمیر میں بچہ بچہ اپنے دلوں میں ذوق شہادت لئے ہوئے گیارہ لاکھ سے زائد مسلح غاصب فوج اور ناپاک ہندو ظالموں کے خلاف سینہ سپر ہے۔سید علی گیلانی ؒ جب بھی بات کرتے تو ایک کمانڈر کی حیثیت سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے سحر انگیز انداز میں موتی پرو تے ہوئے یہ پیغام دیتے کہ کامیابی و کامرانی کا پروانہ اللہ تعالی نے تمہارے ہاتھوں میں تھما دیا ہے اور غاصبوں ظالموں کیلئے شکست فاش مقدر کر دی گئی ہے۔اس منزل تک پہنچنے کے لیے ایثارو قربانی دینا جُزو لاینفک ہے۔ مقصود منزل کب حاصل ہو گی یہ ذات باری کے علم میں ہے، مگر بندۂ مومن کو اللہ تعالی کی ذات پر یقین مُحکم رکھنا چاہیے ان شاء اللہ وہ منزل ضرور آئے گی۔ سید علی گیلانی ایک باہمت، نڈر اور کشمیری عوام کے خیر خواہ اور ہمدرد رہنما تھے، پوری زندگی اپنی قوم کے غم و درد میں پوری وفا و اطاعت کے ساتھ نبھائی ، وہ بڑھاپے کے عالم میں بھی سفاک ہندو حکومت کی طرف سےکشمیری عوام پر ظُلم کو للکارتے ہوئے میدان کارزار میں رہے،سید علی گیلانی شدید جسمانی عوارض کا شکار ہونے کے باوجود تحریک آزادی کے روح رواں رہے۔ تمام تر بھارتی مظالم، تشدد، لالچ اور قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے ڈٹے رہے اور ان کے قدم کسی بھی لالچ اور دباؤ سے کبھی بھی نہیں ڈگمگائے،کشمیر کی تحریک آزادی کے سرکردہ رہنما سید علی شاہ گیلانی مسلسل جدوجہد آزادی کشمیریوں کے بھارتی قبضے کے خلاف ناقابل تسخیر عزم و استقلال کی علامت ہے۔سید علی گیلانی کا خواب اور مشن تب تک زندہ رہے گا جب تک مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ اپنا اظہار رائے اور حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتے،سید علی گیلانی نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں جان ڈالی اور بھارت کے فاشسٹ و مجروع چہرے کو دُنیا کے سامنے بے نقاب کیا،ظلم و تشدد اور طویل عرصہ قید و بند بھی انہیں ان کے مشن سے ہٹا نہ سکا،میں سمجھتا ہوں کہ علی گیلانی در حقیقت کشمیر میں تحریک آزادی حق خود ارادیت کا دوسرا نام ہے،سید علی گیلانی نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں، اُن میں سے سب سے زیادہ مشہور کتاب جو پاکستان سمیت دُنیا بھر میں بھی بہت مقبول ہوئی وہ ’رودادقفس‘ ہے علاوہ ازیں آپ نے بے شمار کتابچے مختلف موضوعات پر تحریر کئے جن کا مقصد جذبۂ آزادی کو زندہ و بیدار رکھنا اور کشمیری عوام کے جذبات کی آبیاری کرنا تھا ۔ رانسی جیل کی خوف ناک صعوبتوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا پا کر جب رہا ہوئے، تو ”مقتل سے واپسی“ کے نام سے دلوں کو دُہلا دینے والی کتاب لکھی۔ اور اس کے علاوہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے بارے میں آپ کی کتاب ’روحِ دین کا شناسا‘ دو جلدوں میں چھپی۔ یہ بھی ایک بے مثال روح پرور کتاب ہے۔انہوں نے بھارتی مظالم کے خلاف عملی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان سفاک ہٹلر نما درندوں کے ظُلم کو بھی دُنیا میں آشکارا کیا سید علی گیلانی ؒ کی زندگی بھارتی جیلوں میں اذیتوں میں گزری، آ پ وفات کے وقت بھی نظربند ہی تھے۔
یورپ سے سے مزید