• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے بعد ایران کی نظریں مشرق پر

تہران (اے ایف پی) ایران نے چین اور روس کے بلاک (شنگھائی تعاون تنظیم) میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیا ہے، اب اس کی نظریں مشرق پر ہیں کیوں کہ اس کے ذریعے ایران کو مغربی پابندیوں کا سدباب کرنے اور عالمی مارکیٹوں تک رسائی میں مدد ملے گی۔ آٹھ رکنی گروپ میں بھارت بھی شامل ہے۔ اصلاح پسندوں کا نمائندہ اخبار اعتماد، کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت سے ایران دنیا کی بڑی مارکیٹوں سے جڑ جائے گا۔ گزشتہ برس ایران کو شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت اس لیے نہیں ملی تھی کیوں کہ تاجکستان نے اسے مسترد کردیا تھا ۔ ایران کے عالمی تعلقات کے ماہر فیاض زاہد کے مطابق ماسکو اور بیجنگ نے تہران کی رکنیت کی توثیق اس لیے کی کیوں کہ انہیں امید ہے کہ جوہری مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین، روس اور بھارت سب ہی ایران سے اقتصادی پابندیوں کو ختم کرنے کا انتظار کررہے تھے تاکہ وہ ایران میں سرمایہ کاری کرسکیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں دنیا کی آبادی کی تقریباً 40فیصد نمائندگی ہے، جو کہ عالمی سطح پر 20 فیصد سے زائد جی ڈی پی کا حامل ہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے شنگھائی تعاون تنظیم میں اپنے خطاب میں پابندیوں کو اقتصادی دہشت گردی قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں خطے کی ترقی اور ہم آہنگی میں بڑی رکاوٹ ہیں لہٰذا شنگھائی تعاون تنظیم کو ایسا طریقہ کار ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہےجو ان پابندیوں پر مجموعی ردعمل دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ممالک کی مارچ 2021میں ختم ہونے والے مالی سال میں دو طرفہ تجارت 28ارب ڈالرز رہی تھی۔ اب دنیا نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ یک طرفہ طریقہ کار اور بالادستی ناکام ہوچکی ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید