• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ۔۔۔ مریم فیصل
اس قدر جشن منایا جارہا ہے جیسے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نہیں بلکہ پاکستان اپنے مخالف دشمن ملک سے جنگ جیتا ہے ۔ ہر طرف یہی سنائی دے رہا ہے کہ پاکستان پر برطانیہ کی جانب سے لگائی جانے والی سفری پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں ۔ خوشی کی بات تو ہے کیونکہ گزشتہ سال اور رواں سال سے پاکستان جانے کے انتظار میں بیٹھے تارکین کا انتظار بالآخر ختم ہوا ہے اور اب وہ بغیر مہنگے داموں ہوٹل میں قرنطینہ اور پی سی آر ٹیسٹ کے پاکستان پہنچ کر سیدھا اپنے گھر کا رخ کر سکتے ہیں ۔ یہ بہت بڑا ریلیف ہے کیونکہ ویسے ہی برطانیہ سے پاکستان تک کا سفر کوئی سستا نہیں پڑتا، سفری اخراجات ہی اتنا زیادہ ہوتے ہیں اوپر سے کورونا کی وجہ سے ہوٹل کا قیام اور ٹیسٹ سب مل ملا کر اگلی پچھلی تمام جمع پونچی ختم ہوجاتی ہے، بہت مہنگا سفر پڑ جاتا تھا اس لئے بچوں والےخاندانوں نے کورونا کے دور میں صبر کرنا بہتر سمجھا ویسے بھی وبا کے دور میں ملازمتوں اور کاروبار کی جو بد حالی ہوئی ہے اس کے بعد تو سب ہی زیادہ سے زیادہ بچت کر کے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی برے وقت میں کام آسکے ۔ ریڈ لسٹ والا معاملہ تو فی الحال ختم ہوا لیکن کیا یہ ایسا ہی ہے جیسا ہم سمجھ رہے ہیں کیونکہ چار اکتوبر سے برطانیہ میں سفر کے لئے نیاسسٹم متعارف کروایا جائے گا جسے ٹیئر سسٹم کہا جائے گا اور اس کے تحت ملکوں کو دو ٹیئرز میں تقسیم کیا جائے گا یعنی ایک وہ ممالک جو ہائی رسک ہوں گے اور ان ممالک سے آنے والوں پر ہوٹل قرنطینہ اور ٹیسٹ کی شرط برقرار رہے گی اور جو ممالک کم رسک کی فہرست میں شامل کئے جائیں گے ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی ،اب چار اکتوبر کو یہ معلوم ہوگا کہ پاکستان کس لسٹ میں شامل کیا جائے گا، برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ ممالک میں اسی لئے شامل کیا تھا کیونکہ برطانوی حکام کے مطابق پاکستان کے پاس ٹیسٹنگ کی سہولت بھی کم ہے اور کورونا ایس او پیز کی پابندی بھی نہیں کی جاتی، اس لئے جو کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اس سے دوگنا کیسز پاکستان میں موجود ہیں ،حالانکہ اس پر کافی شور بھی ہوا لیکن پھر برطانیہ نے سیاسی کھیل کے پہلو کو مٹانے کے لئے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال کر ان آوازوں کو دبا دیا تاکہ برطانیہ پر دوغلی پالیسی کا الزام نہیں لگایاجاسکے اور دیکھا جائے تو صورتحال بھی یہی ہے یعنی کم ٹیسٹنگ اور ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ۔ اس لئے اس بات کا امکان موجود ہے کہ نئے سفری سسٹم میں پاکستان کو پھر سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور اس وقت تو دنیاکی سیاست میں بھی کافی ہلچل ہے ،برطانیہ کا سیکورٹی معاہدہ ،نیوزی لینڈ کی ٹیم کا اچانک دورہ ختم کرنا، یہ سب آنے والے وقت میں پاکستان کے لئے اچھے حالات کا اشارہ نہیں دے رہے ، اس لئے بہت زیادہ ہڑ بڑی میں پاکستان جانے والوں کو ہم تو یہی مشہورہ دیں گے کہ جہاں اتنا صبر کیا وہاں کچھ اور صحیح ۔
یورپ سے سے مزید