• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: ہارون مرزا۔۔۔راچڈیل
سیکیورٹی خدشات کو جواز بنا کر بغیر کھیلے پاکستان سے نیوزی لینڈ ٹیم کی واپسی سے اگلے ماہ انگلینڈ اور آئندہ سال آسٹریلیاکے دورہ پاکستان پر بھی مایوسی کے بادل منڈلانے لگے ہیں، نیوزی لینڈ کی پاکستان میں سیریز ختم ہونے کے بعد نہ صرف انگلینڈ بلکہ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کی طرف سے بھی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اگر نیوزی لینڈ ٹیم کی واپسی کو جواز بنا کر انگلینڈ نے آئندہ ماہ پاکستان آنے سے انکار کر دیا تو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو بھی پاکستان میں میچ نہ کھیلنے کا جواز میسر ہوگا جو پاکستان کیلئے کسی صورت نیک شگون نہیں ،پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان لاہور میں پانچ ٹوئنٹی 20میچز کی سیریز کھیلے جانے سے قبل راولپنڈی میں تین ون ڈے میچ طے تھے مگرنیوزی لینڈ کے سیکورٹی ایڈوائزر کی مشاورت سے اچانک میچ کھیلنے کا ارادہ ملتوی کر دیا گیا جس سے نہ کرکٹ شائقین سخت مایوسی اور غم وغصے کا شکار ہیں، 2009میں لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردوں کی طرف سے حملے بعد پاکستانی اسٹیڈیم ویران ہو گئے تھے، طویل عرصہ بعد آہستہ آہستہ کرکٹ کی بحالی کا سفر شروع ہوا اور بین الاقوامی ٹیموں نے پاکستان کا رخ کیا، نیوزی لینڈ کی ٹیم کے بعد انگلینڈ آسٹریلیااور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں نے بھی پاکستان میں میچ کھیلنے کا اعلان کر رکھا ہے مگر سیکورٹی الرٹ کو جواز بنا کر حالات کو مشکوک بنایا گیا، این زیڈ سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا ہے کہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے ایک دھچکاسے کم نہیں جو شاندار میزبانی کیلئے تیاریاں مکمل کر چکا تھا مگر کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے زیادہ اہم ہے، وزیر اعظم پاکستان نے دورہ نیوزی لینڈ کے دوران اپنے ہم منصب سے ذاتی طو رپر بات کی اور انہیں بتایا تھا کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین انٹیلی جنس سسٹم موجود ہے، آنے والی کرکٹ ٹیم کے لیے کسی قسم کا کوئی سیکورٹی خطرہ نہیں ہوگا، سیکورٹی حکام نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے قیام کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے پوری طرح مطمئن ہیں مگر اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی نے شائقین کو بددل کر دیا ہے ۔نیوزی لینڈ نے پاکستان میں کرکٹ میچ کھیلنے کا ارادہ ترک کیے جانے کے بعد جون 2022 تک انٹرنیشنل ہاکی ایونٹس بھی کھیلنے سے انکار کر دیا ہے، نیوزی لینڈ میڈیاکے مطابق ٹیم کسی ہاکی ایونٹ کی میزبانی یا اس میں شرکت نہیں کرے گی، نیوزی لینڈ ہاکی فیڈریشن نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی پر مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کون سی دنیا میں رہ رہا ہے اس فیصلے پر کیویز کو آئی سی سی میں دیکھیں گے ،نیوزی لینڈ کے فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی مجھے پاکستان مداحوں اور کھلاڑیوں کے لیے بہت افسوس ہورہا ہے، نیوزی لینڈ ٹیم کا پاکستان سے بنا کھیلے جانے کا یکطرفہ فیصلہ کیا گیا، نیوزی لینڈ کا تفصیلات شیئر نہ کرنا بھی افسوسناک ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میاں داد نے نیوزی لینڈ کے دورہ پاکستان ختم کرنے کو سازش قرار دیا ہے، سابق کوچ و کپتان نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی بہت بہتر ہے یہاں پی ایس ایل کا کامیاب انعقاد ہوا جس میں کئی غیرملکی کھلاڑی بھی آئے لیکن نیوزی لینڈ نے وہ کام کیا جو سمجھ سے بالاتر ہے آگے جا کر پتہ چلے گا کہ معاملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اچانک سے سیریز کے منسوخ ہونے کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہے وزیراعظم پاکستان کی یقین دہانیوں کے بعد نیوزی لینڈ کیلئے انکار کرنے کا جواز نہ تھا، حالات جیسے ہوں بھی ہوں نیوزی لینڈ ٹیم کی واپسی نے کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جن کا جواب سامنے آنا انتہائی ضروری ہے ۔
یورپ سے سے مزید