• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واشنگٹن اپنی غلطیوں کا الزام افغانوں پر نہ لگائے، امریکی جریدہ

کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع مضمون میں لکھا گیا کہ دنیا کا کامیاب ترین معاشرے کا حامل امریکا کیوں کمبوڈیا اور ویت نام سے لے کر افغانستان اور عراق تک غیر ملکی مہم جوئیوں پر اتنا زیادہ خون اور خزانہ خرچ کرتا ہے اور کیوں واضح ناکامی کا منہ دیکھتا ہے؟ امریکی واقعات اور شخصیات میں وضاحتیں تلاش کرتے ہیں۔ 

دراصل، ان ناکامیوں کی گہری ساختی وجوہات ہیں جوکنٹرول، کلچر اور کمپرومائز میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ امریکی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت اس کی قوت ارادی اور کر گزرناہے۔ جب امریکی کسی مقصد کی تان لیتے ہیں جیسے انسان کو چاند پر بھیجنا، وہ مکمل کنٹرول سے پوری طاقت سے بڑھتے ہیں۔ 

جب وہ اپنی سرزمین پر کام کرتے ہیں تو حیرت انگیز، لیکن غیر ملکی سرزمین پر تباہیاں پیدا کرتے ہیں۔سن1973 میں جنگ زدہ کمبوڈیا میں امریکی سفارت کار خاتون ہر صبح واشنگٹن سے واضح ہدایات حاصل کرتی کہ کمبوڈیا کو اپنی تباہ معیشت کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ اور انہیں کہا جاتا کہ وہ خود جا کرکمبوڈین وزیر معیشت کو ہدایات دیں چونکہ واشنگٹن کے پاس دنیا کے بہترین ماہرین معاشیات تھے، سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن اس نے کمبوڈین حکومت کو کسی قسم کی ایجنسی یا اپنی قسمت پر کنٹرول سے بھی محروم کر دیا۔ 

چنانچہ جب امریکہ چلا گیا تو بے بس حکومت گر گئی۔اسی طرح، تین لاکھ کی بڑی افغان فوج75ہزارطالبان کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی تھی کیونکہ ان کی ٹریننگ امریکی کمانڈرز نے کی تھی وہی فیصلہ کرتے کہ کب اور کیسے لڑنا ہے۔ کمبوڈین حکومت کی طرح افغان فوج کا بھی اپنی قسمت پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ لہذا، جب امریکی کنٹرول منظر سے ہٹا، سب کچھ منہدم ہوگیا۔ 

مستقبل کے مؤرخ افغان کے اس تضادپہلو پر تبصرہ کریں گے۔ امریکہ افغانستان کی تعمیر اورجمہوریت کی پرورش کے لیے وہاں گیا۔ لیکن 20 سال تک افغانستان کا موثر کنٹرول سنبھال کر کیا چھوڑا ۔ دوسرا مسئلہ ثقافت کاہے۔ امریکیوں نے افغان صدر اشرف غنی کی حکومت کو جائز سمجھا کیونکہ یہ امریکی جمہوری اصولوں کے تحت منتخب ہوئی تھی۔ 

گزشتہ قومی انتخابات میں 97لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز اور تین کروڑ سولہ لاکھ آبادی میں سے 18لاکھ افغانوں نے ووٹ دیا۔ اس کے برعکس، جب اقوام متحدہ کے مشن جس کی قیادت الجزائر کے سفارت کار لخدار براہیمی کررہے تھے2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک افغان حکومت دوبارہ بنانے کی کوشش کی تو ابراہیمی نے افغان تاریخ اور ثقافت کی گہرائی تک پہنچ کر ایک لویا جرگہ بلایا.

اقوام متحدہ اسے کنٹرول نہیں کر سکی۔ لیکن لویا جرگہ کے عمل سے بننے والی حکومت غنی کی نام نہاد جمہوری طور پر منتخب حکومت سے زیادہ قانونی حیثیت کی حامل تھی۔یہ حیرت کی بات ہے کہ امریکہ نے بیرون ملک اپنی کامیاب مہم جوئیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ 

1945 میں جاپان کے قبضے کے بعد، اس وقت کے جاپانی شہنشاہ ہیروہیتو کو جنگی مجرم کے طور پر مقدمہ چلانے کے بجائے تخت پر رکھنا ایک شاندار فیصلہ تھا، عہدے پر ان کے تسلسل نے جاپانیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ثقافت کا احترام کیا گیا۔ 

افغان سیاسی نظام کی تعمیر نو کے لیے افغانستان میں تعینات امریکیوں نے افغان ثقافت کا بہت کم احترام کیا۔ تیسر ی وجہ سمجھوتہ ہے۔ غیر ملکی سرزمین پر چلتے وقت، سمجھوتہ کرنا اور مقامی اداروں کو قبول کرنا عقل مندی ہے۔ 

عراق ایک تباہ کن فیصلوں کی وجہ سے ناکام رہا جس کی وجہ سمجھوتہ کرنے سے انکار تھا، عراقی معاشرے کے دو ستون فوج اور بعث پارٹی کا مکمل خاتمہ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب امریکہ نے جرمنی پر قبضہ کر لیا، تو وہاں امریکی فوجی کمانڈ نے فوری طور پر نازی ازم کو ترک کرنے سے انکارکر دیا، یہ سمجھنے کے بعد کہ اسے تمام منتظمین کی ضرورت ہے جو ملک کو افراتفری میں اترنے سے روک سکے۔ 

اس لیے وہاں کافی تجربہ کار نہیں تھے۔امریکہ کی بے پناہ طاقت اس کا سب سے بڑا اثاثہ اور سب سے بڑی کمزوری بھی۔واشنگٹن کبھی بھی سمجھوتہ کرنے کے کسی دباؤ میں نہیں۔ یہاں ایک سادہ سی مثال ہے افغانستان ایک قدیم معاشرہ ہے جس کا ایک ہمسایہ ایران ہے۔ 

ہزاروں سال ایک ساتھ رہنے کے بعد، ایرانی تاریخ اور ثقافت میں بہت زیادہ حکمت ہونی چاہیے کہ افغانستان کے ساتھ کیسے رہنا ہے۔ کسی بھی امریکی انتظامیہ کے لیے سب سے عام بات یہ تھی کہ وہ ایرانیوں کے ساتھ دیگر مسائل پر اپنے اختلافات کو الگ کر دے اور کم از کم ان سے افغانستان میں ایک مضبوط اور آزاد سیاسی ادارہ بنانے کے بارے میں بات کرے۔ اور ایران نے بہت اچھا تعاون کرتاکیونکہ اسے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان سے امریکہ سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ 

اس کے باوجود ایران کے ساتھ سمجھوتے کا تصور واشنگٹن میں ناقابل تصور ہے۔ اگر امریکہ افغانستان اور دیگر جگہوں پر کی گئی بنیادی ساختی غلطیوں کو سمجھنے میں ناکام رہا تو وہ ان کو دہراتا رہے گا۔ پھر بھی سنجیدہ نظر ثانی کے چند ا شارے ہیں۔

اس کے بجائے، واشنگٹن میں بہت سے لوگ افغانوں کو اس تباہ کن ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، خاص طور پر کرپشن کی طرف انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ لیکن کرپشن طلب اور رسد دونوں کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر امریکہ نے ڈالروں کے ناقص سونامی میں افغانستان کو نہ ڈبویا ہوتا تو کرپشن نہ ہوتی۔ 

2008 کی ایک خاتون مصنفہ کلیئر لاک ہارٹ نے افغانستان کی کرپشن پر ایک کتاب میں لکھا کہ اگرچہ امداد اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں اور این جی اوز کی طرف سے دی گئی تھی، لیکن زیادہ تر رقم امریکہ سے آئی تھی۔ لیکن وہ امداد افغانیوں کی زندگی کو بہتر بنانے پر خرچ نہیں ہوئی۔ مستقبل کے تاریخ دان حیران ہوں گے کہ کس طرح امریکی ٹیکس دہندگان نے افغانستان میں دس کھرب ڈالر خرچ کیے جس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ چھوٹی سی کہانی واضح کرتی ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ 

کہانی کو ان گنت ایجنسیوں اور ٹھیکیداروں سے ضرب دیں تو ہر کوئی اپنا حصہ لے رہا ہے،اس لیے امریکیوں کے لیے ان افغانوں کو مورد الزام ٹھہرانا ایک بہت بڑی غلطی ہوگی، جو واشنگٹن میں کی گئی غلطیوں کا شکار تھے۔

اہم خبریں سے مزید