آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاناما لیکس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا جو بھی منطقی نتیجہ نکلے گا ، اس کے بارے میں ہر کوئی اپنے اپنے اندازے قائم کر رہا ہے لیکن آج کل جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ کسی بھی صورت اچھا نہیں ہے ۔ اس وقت صرف اور صرف سیاسی قوتیں اور سیاست دان ہی بدنام ( Discredit ) ہو رہے ہیں ۔ ان کے اعتبار اور ساکھ کو ہر لمحہ ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔سیاست دان اخلاقی طور پر بہت کمزور ہو رہے ہیں ۔ لوگ جمہوریت سے بیزار ہو رہے ہیں ۔ پاکستان جیسے نوزائیدہ جمہوری ملک کے لیے یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے ۔ اس صورت حال کو پاکستان کی تاریخ اور بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو مستقبل کا منظر نامہ کوئی زیادہ امید افزا نہیں ہے ۔ اس صورت حال پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی یہ بات صادق آتی ہے کہ ’’ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہماری قوم کے جمہوری ریکارڈ کا مطالعہ آگے بڑھتے ہوئے قدموں اور پیچھے کو دھکیل دینے والے واقعات کی ایک اداس داستان ہے ۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت اور اپوزیشن ابھی تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور ان الزامات میں پاکستان کے عوام پرپریشان کن انکشافات

ہو رہے ہیں ۔سیاست کے بادشاہوں کے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات خواتین کے اس جھگڑے کی صورت اختیار کر چکے ہیں ، جس میں خواتین ایک دوسرے کا کٹھاچٹھا کھول کر رکھ دیتی ہیں ۔ لوگوں کو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ سیاست دانوں کی اربوں اور کھربوں کی جائیدادیں ہیں ۔ چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے ۔ ان کے بچے ملک سے باہر ہیں ۔ ان کے کاروبار بھی اس ملک میں نہیں ہیں اور انہیں اس ملک کے مستقبل پر بھی یقین نہیں ہے ۔ امریکا اور یورپی ممالک کے مختلف شہروں کے امیر علاقوں میں مہنگے ترین ولاز اور فلیٹس ہیں ۔ ایک ایک فلیٹ کی مالیت اربوں روپے ہے ۔ آف شور کمپنیاں ہیں ۔ کسی نے کروڑوں کے قرضے معاف کرائے ہیں اور کسی نے اربوں روپے کے قرضے واپس نہیں کیے ہیں ۔ شاہانہ طرز زندگی ہے ۔ یہ محسوس ہو رہا ہے کہ سیاست میں حرص و ہوس کا غلبہ ہے ۔ سیاسی اخلاقیات مائل بہ پستی ہیں ۔ عام لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت اگر سیاست دانوں کو دولت مند بنانے کا نظام ہے تو ایسی جمہوریت سے آمریت بھلی ۔اس وقت کوئی بھی سیاست دان ایسا نہیں ہے ، جو حالات کا ادراک رکھتا ہو ۔ کوئی بھی سیاست دان ایسا نہیں ہے ، جو کم از کم اپنی کوتاہیوں کا اس طرح اعتراف کرے ، جو 17 ویں صدی میں پوپ پائیس دوئم ( Pope Pius II ) نے کیا تھا ۔ پوپ پائیس دوئم نے کارڈینلز کے نام اپنی اپیل میں کہا تھا کہ ’’ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی پرتعیش ہے ۔ ہم دولت جمع کرتے ، غرور کرتے ، موٹے تازے خچروں اور گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں ۔ ہم شکار کے لیے کتے پالتے ہیں ۔ اداکاروں اور حاشیہ نشینوں پر بہت خرچ کرتے ہیں اور عقیدے کے دفاع میں کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں ۔ ان باتوں میں کچھ حد تک سچائی بھی ہے ۔ بہت سے کارڈینلز اور ہمارے دربار کے حکام واقعی اس قسم کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے کہنا پڑے گا کہ ہمارے دربار کی شان و شوکت بہت بڑھ گئی ہے اور اسی لیے لوگ ہم سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ہماری بات نہیں سنتے ، چاہے ہم جائز اور درست بات ہی کیوں نہ کہہ رہے ہوں ۔ ‘‘ پاکستان کی تاریخ کے انتہائی نازک مرحلے پر سیاست اور سیاست دانوں کی ساکھ خراب ہو رہی ہے ، جب جمہوریت اپنی جڑیں بھی نہیں پکڑ پائی ہے ۔ پاناما لیکس کے معاملے کو حکومت اور اپوزیشن کے لوگ مزید الجھا رہے ہیں اور اس کا نقصان دونوں کو ہو رہا ہے ۔ 1990 ء کے عشرے والی صورت حال سے کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے ، جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ الزامات کی سیاست نہیں کریں گی کیونکہ اس سے نہ صرف سیاست دانوں بلکہ ملک کی بھی بدنامی ہوتی ہے ۔ اب تو پاناما لیکس کی تحقیقات کی ضرورت ہی نہیں رہی ہے ۔ تحقیقات کے بغیر سیاست دانوں کے ایک دوسرے پر الزامات سے ، وہ کچھ سامنے آ رہا ہے ، جو شاید تحقیقات کے دوران بھی سامنے نہیں آتا ۔ الزامات در الزامات اور سوالوں کے جواب میں سوالات ۔ یہی سلسلہ دراز ہوتا جائے گا اور سیاست دان وہاں پہنچ جائیں گے ، جہاں وہ جمہوریت تو کیا اپنی دولت کا تحفظ بھی نہیں کر سکیں گے ۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سب سیاست دانوں نے دولت ناجائز طریقے سے کمائی ہے اور بغیر ثبوت کے ایسا کہنا بھی نہیں چاہئے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اتنی یا اس سے زیادہ دولت اور لوگوں کے پاس بھی ہو گی ، جو سیاست میں نہیں ہیں لیکن سیاست دانوں کی بے پناہ دولت اور اثاثوں کے بار ے میں انکشافات سے عوام اور سیاسی قیادت میں دوری پیدا ہو رہی ہے ۔بس یہی بات تشویش ناک ہے ۔ لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکنوں میں بھی مایوسی پھیل رہی ہے اور انہیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس قدر دولت مند لوگ ان کی بھوک اور افلاس ختم نہیں کر سکتے ۔ ایک سیاسی خلاء پیدا ہو رہا ہے ۔ ارب اور کھرب پتی سیاست دان یہ بات نہیں سمجھ رہے ہیں ۔ بلوچستان اور سندھ میں لیکس کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، جو پنجاب تک بھی وسیع ہو سکتا ہے ۔ سیاست کے اس قدر گندا ہونے کے بعد جمہوریت اگر بچ جاتی ہے تو آگے بڑھتے ہوئے قدموں اور پیچھے کو دھکیل دینے والے واقعات کی ایک اداس کن جمہوری جدوجہد کی داستان بھی تبدیل ہو جائے گی اور یہ ایک معجزہ ہو گا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں