• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فردا … راجہ اکبردادخان
پی ٹی آئی حکومت کے تین سال مکمل ہوچکے ہیں ،یہ اس جماعت کا وفاقی سطح پر پہلا حکومتی دورانیہ ہے، ملکی حالات یہ نہیں کہہ رہے کہ ملک مستحکم انداز میں چل رہا ہے، ریاست نے جمہوری نظام کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے 2018 کے انتخابات غیر یقینی اور شدید اندرونی خلفشار کے ماحول میں منعقد کروا دیئے، جہاں کئی بار ایسا احساس ہوا کہ سویلین نظام لپیٹ دیا جائے گا، انتخابات کے نتیجے میں کئی جماعتوں کے سہارے عمران خان وزیراعظم بن گئے۔ 22 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں بننے والی حکومت پی ٹی آئی قیادت کے ماضی کے اعلانات کے ہاتھ یرغمال بنی چلی آرہی ہے اور ان وعدوں کا عشر عشیر بھی تاحال پورا نہیں ہوسکا اور اگلا انتخاب سر پر آن پہنچا ہے، حزب اختلاف میں رہتے ہوئے آسمان سے تارے توڑ لانے کی باتیں ہر جماعت نے ماضی میں بھی کی ہیں اور آئندہ بھی ایسے دعوے ہوتے رہیں گے لیکن پی ٹی آئی نے اقتدار کے حصول کیلئے یہ کچھ بھی کہا جو ناقابل یقین تھا مثلاً ایک کروڑ نوکریوں کی بات، 50لاکھ نئے گھر بنادینے اور عام آدمی کی زندگی میں بہتریاں لانے کے وعدے ایسے اعلانات تھے جنہوں نے نہ ہی جلد پورا ہونا تھا اور نہ ہی معاشی حالات ایسے اقدامات کی اجازت دینے کیلئے تیار تھے، جانے والے اپنے بیانیہ میں مستحکم معیشت، مضبوط توانائی اور مناسب افراط زر کی بات کرتے ہوئے گئے، افراتفری کے عالم میں ایک ایسی حکومت وجود میں آگئی جس کے بیشتر ارکان ناتجربہ کار تھے اور یہ ناتجربہ کاری مختف شکلوں میں عیاں ہو رہی ہے، حکومت سنبھالتے ہی وزیراعظم نے اپنے بیانات کی روشنی میں ایسے اقدامات اٹھانے شروع کردیئے جو معاشی اور سیاسی سیٹ اپ میں ٹھیک طرح فکس نہ ہوسکے جس کے نتیجہ میں بیورو کریسی نے ہر نئے انیشیئٹو کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنی شروع کردیں، عمران خان جس طرح ہر چیز کو بدل کر رکھ دینے کیلئے پُرعزم تھے بیورو کریسی بھی اسی طرح پُر عزم تھی اور ہے کہ پرانا نظام جس میں ہر کوئی اپنی جگہ مضبوط ہے (ادارے مضبوط ہوں یا نہیں، فکرنہیں) کسی بھی لحاظ سے کمزور نہ ہو پائے، وقت گزرنے کے ساتھ ان تین برس میں کئی ایسے مقام بھی آئے جہاں اعلیٰ ترین بیورو کریسی، کئی صوبوں کی پولیس فورسز نے مرکزی حکومت کے احکامات ماننے سے انکار کردیا،مرکز میں کمزور حکومت ایسے باغیانہ رویوں پر متعلقین سے نہ ہی باز پرس کرسکی اور نہ بیوروکریسی میں تبدیلیاں لاکر سروس ڈیلیوری کو بہتر بناسکی، پی ٹی آئی بحیثیت جماعت اپنے قائد کی طلسماتی شخصیت کی مرہون منت ہے، اس جماعت کو 2018 میں اقتدار ملنا ایک حادثہ نہیں بلکہ یہ نتیجہ ہے اس خراب سیاسی اور معاشی کارکردگی کا جس سے ملک پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں گزارا، عوام کی اکثریت نچلے اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، انہیں غرض اس سے ہے کہ ان کے گھریلو اخراجات قابل برداشت حد تک چلیں، ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت کے حوالوں سے اچھی پالیسیوں پر عمل ہو رہا ہو، ملک میں استحکام ہو اور پاکستان کا نام اوپر اٹھا رہا ہو، عمران خان کی سیاسی زندگی میں ان تمام حوالوں سے ان کا بیانیہ معتدل اور مثبت شکل میں سامنے آتا رہا چنانچہ عمران خان کی سیاسی ناپختگی کے باوجود لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ان پر یقین کرنے کیلئے تیار ہوگیا اور لوگ عمران طلسم کے اسیر ہوگئے، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی پاکستانی قوم کا حصہ ہے اور حکومت کی یہ خوش قسمتی ہے کہ موجودہ حکومت کو جس طرح مقتدر حلقوں سے مدد ملی ہے اس کی ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی، بین الاقوامی معاملات پر عسکری قیادت جس طرح سول حکومت کے ساتھ کندھا ملائے چل رہی ہے اس سے پاکستان کا وقار بھی اوپر اٹھا اور دنیا کو خبر ہوئی ہے کہ پاکستان میں حکومت کے دونوں ہاتھ اور قدم ایک ہی سمت اٹھ رہے ہیں، ہماری کامیاب افغان پالیسی، علاقائی ممالک سے اچھے تعلقات اور کشمیر پر بھارتی مظالم کی تفاصیل چند اچھی مثالیں ہیں، وزیراعظم ملک کے اندر اب تک مہنگائی، افراط زر پر عدم کنٹرول اور بیروزگاری جیسے اہم ترین مسائل پر قابو نہیں پاسکے ہیں،پنجاب میں نہ ہی بیورو کریسی کسی اہل انداز میں کام کررہی ہے اور نہ ہی سیاسی سیٹ اپ میں شامل لوگ صوبہ کو در پیش مسائل سے نمٹنے میں رہنمائی فراہم کررہے ہیں،عمران خان کی یہ سوچ کہ لوگوں کو کام کرنے کیلئے وقت دینا چاہئے جیسا کہ وہ صوبائی وزرائے اعلیٰ کے حوالہ سے کررہے ہیں ایک اچھی سوچ ہے تاہم بحیثیت ایک ٹیم کپتان کھیل کو اپنی طرف موڑنا بھی ان ہی کی ذمہ داری ہے، ہاف ٹائم سے کم وقت رہ گیا ہے اعلانات کی حد تک ان کی صوبائی حکومتیں بھی کسی سے پیچھے نہیں تاہم اربوں روپوں کے پراجیکٹس واضح انداز میں ڈیلیور کرتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں، آزاد کشمیر اور جی بی انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی پر زیادہ اعتبار نہ کیا جائے، اس حساب سے اگر دیکھا جائے تو پچھلے ایک سال کے دوران تمام ضمنی انتخابات مسلم لیگ ن جیت چکی ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ کن مشکلات سے گزر رہی ہے حالیہ کنٹونمنٹ انتخابات میں بھی (ن) لیگ نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے، پی ٹی ائٓی ان کے ووٹ کم نہیں کرسکی ،حکومت تین سال سے پی ٹی آئی کررہی ہے اور انتخابات (چاہے وہ محدود نوعیت کے ہی ہیں) اپوزیشن جماعتیں حکومتی سطح کی کامیابیاں لے اڑیں تو سب ٹھیک نہیں ہے، آخری سال تو جلسے جلوسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس لئے پاکستانی عوام کے ایک بڑے حصہ کے مان کی خاطر وزیراعظم کو قیمتوں کو کم سطح پر لانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ لوگ سراٹھا کر آپ کو 2023 کے انتخابات میں بھی کامیابی دلوائیں۔پچھلے انتخابات میں آپ کی جماعت کو کامیابی وعدوں اور دلکش نعروں کی بنا پر ملی، اس بار لوگ آپ کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے ووٹ دیں گے۔ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اپ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس طبقہ کیلئے وزیراعظم ایک ایماندار شخص اور باوقار لیڈر ہے جو ایک مستحکم پاکستان پر یقین رکھتا ہے، ہمارا نظام سیاست اتنا کرپٹ ہے کہ اسے بہتر کرنے کے لئے ایک ہی جماعت کی کم از کم دو لگاتار کامیابیاں درکار ہیں، قوم نے ایک بار پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر جس طرح کامیاب کیا ہے اس سفر کو جاری رہنے کی ضرورت ہے جو اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب اگلا الیکشن بھی یہی جماعت جیتے جس افراتفری سے صوبوں اور مرکز میں حکومتیں چلائی جارہی ہیں آثار یہی ہیں کہ وزیراعظم کی جماعت مشکلات میں دھنستی جارہی ہے اور اگر اگلے ایک سال کے دوران بڑے معاشی اہداف مثلاً قیمتوں پر کنٹرول اور افراط زر پر قابو نہیں پایا جاتا تو 2023 کےانتخابات جیتنا مشکل ہو جائے گا۔
یورپ سے سے مزید