• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیمی بورڈز کیلئے تلاش کمیٹی کی خودمختاری ختم، چیئرمین کے انٹرویوز سے روکا جارہا ہے

کراچی(سید محمد عسکری) محکمہ بورڈز و جامعات نے تعلیمی بورڈز کی سطح پر تلاش کمیٹی کی خودمختاری ختم کرکے اسے غیر فعال کردیا ہے تاکہ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں میرٹ کے بجائے مرضی کے سفارشی چیئرمین، سکریٹریز اور ناظم امتحانات مقرر کرسکے۔ تلاش کمیٹی اب صرف جامعات کی حد تک خود مختار رہ گئی ہے جس کی وجہ جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کے پاس ہونا ہے جب کہ بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی صوبائی وزیر اسماعیل راہو کے پاس ہے۔ محکمہ بورڈز و جامعات نے تلاش کمیٹی کے امور میں مداخلت کرتے ہوئے 5؍ تعلیمی بورڈز کے چیئرمین کے عہدوں کیلئے ہونے والے انٹرویوز رکوادیئےہیں۔ایک ماہ قبل پانچ تعلیمی بورڈز کے چئیرمین کے عہدوں کے لیے ہونے والے انٹرویو سیکریٹری بورڈ و جامعات منصور عباس رضوی نے ملتوی کرائےاور تاحال ان کی جانب سے تلاش کمیٹی کو چئیرمین کے عہدوں کے لیے انٹرویو نہیں کرنے دیئے جارہے ہیں جب کہ آئندہ ماہ حیدرآباد بورڈ چئیرمین اور اس سے اگلے ماہ چار باقی چئیرمین کی توسیع شدہ مدت بھی ختم ہورہی اور ان کی جگہ تلاش کمیٹی کے زریعے مستقل چیرمین کے بجائے مرضی کے قائم مقام چئیرمین مقرر کرنے کا قوی امکان ہے۔ جنگ نے سیکریٹری بورڈ و جامعات منصور عباس رضوی سے چئیرمین کے عہدوں کے لیے انٹرویوز نہ کرنے اور تلاش کمیٹی کی خودمختاری ختم کرنے کی وجہ جاننے کی کوشش کی مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔

ملک بھر سے سے مزید