• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اہم چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے، امریکی صدر، ناکامی ان کا مقدر ہے، چین

واشنگٹن،بیجنگ(جنگ نیوز، خبر ایجنسیاں ) امریکی صدر بائیڈن کی زیر صدارت پہلا کواڈ سربراہی اجلاس وائٹ ہائوس میں ہواجس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن اور جاپانی وزیر اعظم یوشی ہیداسوگاشریک ہوئے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے کواڈ رکن ممالک کے طلباء کے لیے امریکا میں نئی’’فیلوشپ‘‘کا اعلان کیااور ساتھ یہ بھی کہاکہ ہم اہم چیلنجز کا مقابلہ کرنےکیلئے اکٹھے ہوئے ہیں،اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نےکہاکہ نیا اتحادکے ذریعے مضبوط دوستی کا بیج بو دیاگیاہے، آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن کاکہناہےکہ دیکھ لیں جمہوریت ایسے کام کرتی ہیں۔

دوسری جانب ترجمان وزارت خارجہ ژاؤ لیجیان کاکہناہےکہ ناکامی انکا مقدر ہے،معاشی زبردستی کا صدر دفتر واشنگٹن ہے۔گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے’’کواڈ ‘‘گروپ کے رکن ممالک کے طلباء کے لیے امریکا میں ’’اسٹیم پروگراموں‘‘ میں اعلیٰ درجے کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ایک نئی’’فیلوشپ‘‘کا اعلان کیا ہے۔

کواڈ رہنمائوں کی سمٹ میں اپنے افتتاحی ریمارکس میں امریکی صدربائیڈن نے کہا کہ یہ جمہوری شراکت داروں کا ایک گروپ ہے جو ایک عالمی نقطہ نظر رکھتے ہیں اور مستقبل کے لیے ایک مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

یہ جمہوری شراکت دار ہمارے دورکے اہم چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ جب ہم 6ماہ پہلے ملے تھے ، ہم نے آزاد اور کھلے ہندانڈو پیسفک کے مشترکہ اور مثبت ایجنڈے کے لیے ٹھوس وعدے کیے تھے۔آج مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ ہم بہترین پیش رفت کر رہے ہیں۔

بائیڈن نے کہا کہ کواڈکورونا ویکسین کی عالمی سطح پر سپلائی بڑھانے کے لیے بھارت میں ایک ارب کورونا ویکسین تیار کرنے کے راستے پر ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی واشنگٹن میں امریکا ، جاپان اور آسٹریلیا کے رہنماؤں کے ساتھ کواڈ میٹنگ میں شریک ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں تمام رہنماؤں کی میزبانی کر رہے ہیں۔

ذرائع اور سرکاری اعلانات کے مطابق ،جمعے کو ہونیوالی سمٹ میں 5G ٹیکنالوجی ، آب و ہوا کی تبدیلی ، اہم انفرااسٹرکچر ، سپلائی چین اور علاقائی سلامتی جیسے مختلف موضوعات پر بات کی گئی۔

قبل ازیں گزشتہ روز ہی مودی اور امریکی صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی براہ راست ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات بشمول تجارت ،کورونا، آب و ہوا کے چیلنجز اور انڈو پیسفک میں استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر مودی نے اپنے افتتاحی ریمارکس میں کہا کہ دو طرفہ سربراہی کانفرنس اہم تھی، بھارت اور امریکا کے درمیان مزید مضبوط دوستی کے لیے بیج بودیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں پختہ یقین ہے کہ چار ممالک کا گروہ ایک ’’عالمی بھلائی کیلئے قوت‘‘ کے طور پر کام کرے گا اور انڈو پیسفک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں امن اور خوشحالی کو یقینی بنائے گا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کواڈ سربراہی اجلاس میں کہا کہ ہماری گروپ بندی ظاہر کرتی ہے کہ جمہوریت کیسے کام کرتی ہے، ہم پہلے ہی بہت کچھ کر چکے ہیں۔ ہمارے پاس نہ صرف ویکسین کی خوراکیں ہیں بلکہ ہم ان کی فراہمی اور انتظام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب جمعہ کو بیجنگ میں بریفننگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ امریکا کی زیر قیادت چار ملکی اتحاد کی تقدیر میں ناکامی لکھ دی گئی ہے،جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر سفارتکاری تعمیری نہیں ہو سکتی، معاشی زبردستی کا صدر دفتر واشنگٹن میں ہے۔

کواڈ اتحاد دوسرے ممالک کو نشانہ نہ بنائے، ہماری ترقی کو مثبت انداز میں دیکھا جائے،جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر سفارتکاری بالکل بھی تعمیری نہیں، پہلی بات چین دھمکیاں نہیں دیتا اور نہ ہی تجارتی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ چین اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ 

تیسری بات یہ کہ چین مختلف ممالک میں کمپنیوں کو بلاوجہ دباتا نہیں، کسی بھی صورت میں معاشی زبردستی کا الزام چین پر عائد نہیں کیا جا سکتا، چین کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ’چین علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہےاور چاہتا ہے کہ اختلافات کی صورت میں ان ممالک سے مذاکرات جاری رہیں اور مناسب حل تلاش کیا جائے۔ 

ادھرپاکستان نے امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے سکیورٹی معاہدے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم صرف ایسے ہی وسیع ،جامع اور کثیرالجہتی تعاون کی حمایت کرتے ہیں جو کھلے اور شفاف اصولوں پر مبنی ہو۔

اہم خبریں سے مزید