• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیشنل کنسٹرکشن کمپنی بند کرنے کے کابینہ کمیٹی کے فیصلہ پر عمل نہیں ہوسکا

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کے ذ یلی ادارے نیشنل کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ ( این سی ) کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ کابینہ کی ادارہ جاتی اصلاحات کی کمیٹی نے اسے بند کرنے کی سفارش کی تھی جس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا،14مئی کو ایس ڈی پی کے سپرد ، ایف ڈبلیو یا ایل این سی میں ضم کرنےکے آپشنز کی ناکامی پر بند کرنیکافیصلہ کیاگیاتھا،ڈاکٹر عشرت حسین کی زیر صدارت 23اپریل 2020کو کمیٹی کے 32ویں اجلاس میں میں این سی کے مستقبل کے بارے میں غور کیا گیا،اجلاس کو بریفنگ میں بتایاگیا کہ این سی کے 70فیصد تعمیراتی پراجیکٹس ایس ڈی پی کے ہیں،کمیٹی نے سفارش کی کہ این سی کو ایس ڈی پی کے سپرد کر دیا جا ئے یا اسے ایف ڈبلیو یا ایل این سی میں ضم کر دیا جا ئے، یہ تینوں آپشنز ناکام ہوئے تو کابینہ کمیٹی نے 14مئی 2020کے 35ویں اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ادارے کو بند کردیا جا ئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت ہا ئوسنگ کی بیوروکریسی اور این سی کے ایم ڈی نے وزیر ہائوسنگ و تعمیرات طارق بشیر چیمہ کو کابینہ کمیٹی کے فیصلہ کے بارے میں مکمل حقائق سے آ گاہ کرنے کے بجائے این سی کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہا ئوسنگ اتھارٹی میں ضم کرنے کی مہم چلادی اس کیلئے این سی کے کنٹریکٹ ملازمین کو بھی ریگو لر کردیاگیا تاکہ وہ ہا ئوسنگ اتھارٹی کے ملازم بن جائیں ، بعض افسروں نے ما لی فوائد بھی لئے ،یہ مہم اسلئے ناکام ہوگئی کہ ایس ای سی پی نے قانونی رائے دیدی کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت کسی کمپنی کو ایک اتھارٹی میں ضم نہیں کیا جا سکتا،ہائوسنگ اتھارٹی ملازمین نے بھی اسلام آ باد ہائیکورٹ میں انضمام کافیصلہ چیلنج کردیا جس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ نے انضمام کے فیصلہ کو موخر کر دیا۔

ملک بھر سے سے مزید