• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلشن اقبال میں یونیورسٹی روڈ اور سرشاہ سلیمان روڈ کے سنگم پر واقع ملکوتی حسن کی حامل ’’ سوک سینٹر‘‘ کی عمارت اب شہر کی پہچان بن چکی ہے۔ اس دل کش اور خوب صورت عمارت کا سنگ بنیاد 15 نومبر 1979 کوا س وقت کے گورنر سندھ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر زون سی لیفٹنٹ جنرل ایس ایم عباسی نے رکھا۔ 

یہ عمارت اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی ، زیڈ اے نظامی، چیف انجینئر محمد مدنی اور ایگزیکٹو انجینئر انور سعید مرحوم کی زیر نگرانی چار سال کی جدوجہد، محنت کے نتیجے میں مکمل کی گئی، کراچی میں سوک سینٹر کے قیام کی ضرورت ویسے بھی فوری اہمیت اختیار کرگئی تھی کیونکہ ٹریفک کے مسائل بڑھ رہے تھے اور متعلقہ دفاتر ایک دوسرے سے میلوں دور ہونے کی وجہ سے شہریوں کے لئے زحمت کا باعث بن رہے تھے۔

چنانچہ اس وقت کے گورنر سندھ کے احکامات کے تحت ادارہ ترقیات کراچی نے سوک سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا، اس منصوبے کے لئے اسکیم نمبر 24 کا پلاٹ نمبر ST-23 منتخب کیا گیا۔ جس کا کل رقبہ 273 ایکڑ تھا۔ سوک سینٹر کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ شہر میں کوئی ایسا ایک مرکزی مقام ہو ،جہاں شہریوں کو اپنے رومزرہ شہری و معاشرتی مسائل کے سدباب کے سلسلے میں ایک ہی عمارت میں تمام سہولتیں میسر آسکیں اور وہ مختلف مقامات پرپھیلے ہوئے درجنوں دوسرے اداروں کے چکروں سے نجات حاصل کرسکیں۔

سوک سینٹرکے منصوبے کے مطابق عمارت ایک مرکزی بلاک، دو فرنٹ بلاکس اور دو ایئر بلاکس پر مشتمل ہے، مرکزی بلاک گیارہ منزلوں پر مشتمل ہیں ۔ فرنٹ اور ایئر بلاکس سات سات منزلوں پر مشتمل ہیں۔ عمارت کے اندر چار سو گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ ہے۔

اس عمارت کو کراچی کے معروف آرکیٹیک جمیل احمد رزقی نے انتہائی مہارت کے ساتھ ڈیزائن کیا، ڈیفنس کی طوبی مسجد ( گول مسجد) سمیت متعدد عمارات جمیل احمد رزقی کی ہی ڈیزائن کردہ ہیں۔

سوک سینٹر کی عمارت سامنے سے اس طرح ڈیزائن کی گئی ہے کہ مسلم طرز تعمیر کی عکاسی کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آدھی سے زیادہ عمارت ہشت اضلاعی یا (Octagonal) انداز کی ہے۔ بنو اُمیہ کے دور میں مروان بن الحکم نے ’’ گنبد سنگ‘‘ (Dom of the Rock) کو اسی انداز میں ڈیزائن کیا تھا۔ ’’ بے جا پور، انڈیا‘‘ کا گول گنبد بھی اسی طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے، یہی نہیں اگر ہم مسلم طرز تعمیر کا تاریخی جائزہ لیں تو پچھلے چودہ سو برسوں میں اسپین، انڈونیشیا، وسط ایشیا، مشرقی یورپ، شمالی اور مشرقی افریقہ میں یہی ہشت اضلاعی (Octagonal) ڈیزائن ہے۔

یہ کسی نہ کسی شکل میں یک تعمیر نظر آتے ہیں خواہ مسجد ہو یا مقبرہ یا کوئی محل۔ دراصل دوسری خصوصیات کے علاوہ اس ڈیزائن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس کا اندرونی زاویہ 133 ڈگری ہوتا ہے جو 90 ڈگری کے مقابلے میں زیادہ کشادگی اور وسعت کاحامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے عمارت کا زیادہ حصہ استعمال میں آتا ہے اور عمارت میں خاصی گنجائش بھی نکلتی ہے۔

سوک سینٹر کی یہ عمارت نہ صرف اپنے دلکش اور منفرد طرز تعمیر کے باعث دیکھنے والوں کی آنکھوں کو فرحت بخشتی ہے بلکہ اس میں کام کرنے والے اداروں کی جملہ ضروریات پوری کرنے میں بھی معاون ثابت ہورہی ہے، اس طرز کی دوسری عمارتوں کی طرح سوک سینٹر کی بھی یہ خوبی ہے کہ اگر اسے غور سے دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آس پاس کی دوسری عمارتوں کے مقابلے میں اس میں حرکت پذیری کا عمل ہورہا ہے اور یہ منزل بہ منزل اپنے ہشت اضلاعی پیکر میں تبدیل ہورہی ہے۔

اس عمارت کا ایک اچھا پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے اندر کے راستے آٹھ اطراف میں جاتے ہیں اس کے باوجود یہ راستے کم سے کم جگہ لیتے ہیں، نفسیاتی طور پر جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ عمارت اندر سے انتہائی وسیع و عریض ہے لیکن ہر طرف سے ایسی نظر نہیں آتی ہے کیونکہ اس کی ہر سائیڈ منظر کو محدود کرنے کی موجب ہوتی ہے یہ بھی دراصل مسلم طرز تعمیر کا ایک خاص پہلو ہے۔

عمارت کی تعمیرکے دوران 1981ء میں اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کراچی تشریف لائے تو انہیں اس عمارت کے عقب میں واقع ادارہ فراہمی و نکاسی آب کے دفتر میں سوک سینٹر کے منصوبے کے بارے میں نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے بریفنگ دی گئی اور سوک سینٹر کا ماڈل دکھایا گیا۔ بریفنگ کے دوران انہوں نے عمارت کے ڈیزائن کو نہ صرف سراہا بلکہ اسے وقت مقررہ پر مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ 

عمارت میں ادارہ ترقیات کراچی کے دفاتر کے لئے مرکزی اور فرنٹ بلاک مختص کیئے ، جبکہ ایئر بلاکس دوسرے مفاد عامہ کے اداروں اور بینکوں کے لئے مخصوص کئے گئے تھے۔ گراؤنڈ فلور پر دفاتر میں کام کرنیوالے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے سوک سینٹر آنے والے شہریوں کے لئے ایک ریستوران بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ ابتدا میں پانچویں منزل پر نماز کے لئے ایک ہال بنایا گیا تھا جبکہ کے ڈی اے آفس بلڈنگ سے ملحق تین سو افراد کے لئے ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی۔ 2011 میں اس مسجد میں توسیع کی گئی اور اب اس میں 800 کے قریب افراد نماز ادا کرسکتے ہیں، سوک سینٹر کے احاطے میں ہی 5058 اسکوائر گزپر 8.6 ملین روپے کی لاگت سے اینکسی بلڈنگ بھی تعمیر کی گئی ،جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا مرکزی دفتر قائم ہے۔

سوک سینٹر کے پلاٹ کا پورا ایریا اس طرح متناسب طور پر پلان کیا گیا تھا کہ اس میں اندرونی سڑکوں کی گنجائش کے علاوہ ایک وسیع کا رپارکنگ کی جگہ بھی ہو۔ عمارت کو جدید اسٹریٹ لائٹس سے سجایا گیا ہے۔ پانی کی سپلائی، سیوریج سسٹم، اسٹرانگ واٹر رینج، گیس لائن اور ٹیلی فون کی لائنوں جیسی سہولتوں کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔

اس عمارت کی پہلی منزل پر ایک کمیٹی روم اور ایک آڈیٹوریم بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔ کمیٹی روم میں بیک وقت پچاس سے ساٹھ افراد بیٹھ سکتے ہیں، جبکہ 60 ملین روپے کی لاگت سے ایک وسیع و عریض آڈیٹوریم بھی تعمیر کیا گیا ہے جس میں ایک ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس آڈیٹوریم میں مختلف پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے جن میں سرکاری پروگراموں کے ساتھ ساتھ مذہبی، علمی اور ادبی تقریبات بھی شامل ہیں۔

سوک سینٹر کے ابتدائی حصوں کاکام 1982 کے آخری میں مکمل ہوا ،جن میں کے ڈی اے کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کے دفاتر نے باقاعدہ کام کا آغاز کیا۔ اس کے مکمل ہونے تک 20 کروڑ 95 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔

ادارہ ترقیات کراچی کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر اس حسین و دل کش عمارت کا باقاعدہ افتتاح 23جولائی 1983 کو اس وقت کے گورنر سندھ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر زون سی لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی نے کیا۔ پروگرام کی میزبانی کے فرائض معروف اداکار راحت کاظمی نے انجام دیئے تھے۔ اسی موقع پر ’’ گلستان جو ہر اسکیم‘‘ کا بھی اعلان کیا گیا تھا اور ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تعمیر ہونے والے پل کا افتتاح بھی اس وقت کے چیف سیکریٹری سندھ نے اپنے دست مبارک سے کیا تھا۔ 

ادارہ ترقیات کراچی نے اپنے قیام کے بعدکراچی کی بہتری اور ترقی کے لئے نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس ادارے نے شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لئے 43رہائشی اسکیمیں بنائیں جبکہ ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، کے ڈی اے اسکیم نمبر 1 اور گلستان جو ہر سمیت متعدد علاقوں میں کئی کئی منزلہ فلیٹس تعمیر کئے جس سے شہریوں کو آسان اقساط پر رہائشی سہولتیں میسر آئیں، جبکہ متعدد سڑکیں اور پل بھی اسی ادارے نے تعمیر کئے۔

2001ء میں جنرل پرویز مشرف نے نیا بلدیاتی نظام نافذ کیا جس کے تحت کراچی کے اداروں، بلدیہ عظمیٰ کراچی، ادارہ ترقیات کراچی، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور ادارہ فراہمی و نکاسی آب کو ضم کرکے ’’ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ حکومت سندھ کے کئی ادارے بھی جن میں محکمہ سماجی بہبود، محکمہ تعلیم او محکمہ زراعت شامل ہیں، سٹی گورنمنٹ میں ضم کردیئے گئے۔ 

سوک سینٹر کو سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کا مرکزی دفتر قرار دیا گیا ۔ کراچی کے میئر کا دفتر اولڈ کے ایم سی بلڈنگ ایم اے جناح روڈ سے سوک سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ اس عمارت میں بیٹھنے والے پہلے سٹی ناظم نعمت اللہ خان تھے، اس کے بعد سٹی ناظم کی حیثیت سے مصطفی کمال نے بھی اس عمارت میں بیٹھ کر کام کیا ، بعد ازاں آنے والے سرکاری افسران جنہیں ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا وہ بھی اسی عمارت میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔2013ء میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو ختم کر کے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ادارۂ ترقیات کراچی کو الگ الگ حیثیت میں بحال کر دیا گیا اور اس طرح کراچی کے میئر اور کے ایم سی کے دیگر دفاتر اس دلکش عمارت سے کے ایم سی کی عمارت میں واپس منتقل کر دیے گئے۔

سوک سینٹر کے عقب میں ریڈیو پاکستان، کراچی کی نو تعمیر شدہ عمارت ہے جہاں ’’ ایف ایم 93‘‘ اور ’’ایف ایم 101‘‘ کی نشریات پیش کی جاتی ہیں، سوئی سدرن گیس کا مرکزی دفتر بھی سوک سینٹر کے ساتھ ہی سر شاہ سلیمان روڈ پر واقع ہے، اس کے بالمقابل ایکسپو سینٹر واقع ہے۔

سوک سینٹر کی افادیت اور اس کے ملکوتی حسن میں آج بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس کی شہرت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ اب یہ شہر کی پہچان ہے۔ معاشرتی طور پر اب کراچی اور اس کے شہریوں کے لئے اس پر شکوہ عمارت کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ ( مضمون نگار بلدیہ عظمیٰ کراچی میں سینئر ڈائریکٹر کی حیثیت سے وابستہ ہیں)