• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: محمد رفیق نامی ایک مریض کو ڈاکٹر نے پیشاب ٹیسٹ کے لیے بوتل بھیجی ، اس بوتل پر اس کا مکمل نام محمد رفیق لکھاہوا ہے ۔برطانیہ میں مریض کی مکمل میڈیکل ہسٹری کمپیوٹرائزڈ ہوتی ہے ، کوئی شخص اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کرسکتا ، ایسی مجبوری کی حالت میں حکمِ شرعی کیا ہے ؟(محمد نصیر اللہ نقشبندی ، خطیب نیو مدینہ مسجد،بولٹن ،یو۔کے)

جواب: سب سے پہلے آپ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ مختلف ادیان سے وابستہ لوگوں کے عقائد و نظریات یکساں نہیں ہوسکتے ، آپ کے عقائد اور نظریات دوسروں کے لیے قابلِ تقلید ہوں، یہ ضروری نہیں ،البتہ مُہذّب دنیا میں ایک دوسرے کا احترام انسانی اقدار کا زیور سمجھا جاتا ہے ۔ ایسی صورتِ حال کا جہاں کہیں سامنا ہو تو بحیثیت مسلمان آپ اپنے نظریات اور عقائد کے خود ہی محافظ ہیں ،دوسروں کو اُس کا پابند نہیں کرسکتے اور اپنی غلطی کا ملبہ کسی دوسرے پر گرادینا بھی نامناسب ہے ۔ 

مذکورہ شخص محمد رفیق یہ جانتا ہے کہ وہ ایک غیر اسلامی ریاست میں رہتا ہے، تو اُسے اپنا نام محمد رفیق کے بجائے ’’ ایم ۔ رفیق ‘‘ لکھوانا چاہیے تھا۔ اس طرح کے نام رکھنے والے تمام لوگوں کو چاہیے کہ نام کا مُخفّف لکھوائیں ۔یہ فتویٰ صرفِ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے جاری کیاجارہا ہے ، اِسے آپ کسی غیر مسلم پر حجّت کے لیے دلیل یا کسی قانونی کارروائی کا حصہ نہیں بناسکتے اور نہ ہی اسے کسی مذہبی خلفشار یا منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے ۔ قرآنی آیات ، حروفِ تَہَجّی کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں کسی ایسے مقام پر جہاں نجاست ہو ، نہیں لکھنا چاہیے ،بلکہ نجاست کے مقام پر قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں کا پڑھنا بھی منع ہے ۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: ترجمہ:’’ایک شخص نبی اکرمﷺ کے پاس مدینہ کی گلیوں میں سے کسی گلی میں گزرا ، آپ اس وقت بیت الخلاء سے آئے تھے ،اس نے آپ ﷺ کو سلام کیا ،آپ نے اسے جواب نہیں دیا ،حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ شخص غائب ہوجاتا ،آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس کے ساتھ اپنے چہرے پر مسح کیا ،پھر دوسری مرتبہ دیوار پر ہاتھ مارا اور کلائیوں کا مسح کیا ،پھراس شخص کے سلام کا جواب دیا ،پھر فرمایا: مجھے تمہارے سلام کاجواب دینے سے اور کوئی چیز مانع نہیں تھی، مگر یہ کہ میں باوضو نہیں تھا ‘‘۔(سُنن ابوداؤد:330)ایک اور حدیث میں ہے :ترجمہ:’’ حضرت انس ؓبیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تواپنی انگوٹھی اتار دیا کرتے تھے ‘‘۔(سُنن ترمذی: 1746)انگوٹھی اتارنے کی وجہ یہ تھی کہ اُس پر ’’ مُحَمَّد رَسُولُ اللہ ‘‘ لکھا ہوا تھا ۔

علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاویؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ بیت الخلاء میں اپنے ساتھ کسی ایسی شے کو لے کر داخل ہونا مکروہ ہے ، جس پر کچھ لکھاہواہو ،اس لیے کہ امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیاہے : وہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے ، تو آپ ﷺ اپنی انگشتری کو اتار دیا کرتے تھے ،کیونکہ اُس پر ’’ مُحَمَّد رَسُولُ اللہ ‘‘ لکھا ہوا تھا ، علامہ طیبی فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور اُس کے رسول ﷺ کے نام اور قرآن مجید کو قضائے حاجت کی جگہوں سے دور رکھنا واجب ہے ، علامہ ابہری نے کہاہے : باقی تمام رسولوں کے ناموں کا بھی یہی حکم ہے ، علامہ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ مسئلہ مستفاد ہوتا ہے : بیت الخلاء جانے والے شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنے جسم سے ہر قابلِ تعظیم شے کو علیحدہ کردے ، جیسے اللہ تعالیٰ کا نام یاکسی نبی و فرشتے کا نام ، پس اگر وہ اس کی مخالفت کرے تو ترکِ تعظیم کی وجہ سے کراہت کامرتکب ہوگا ، (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح ، ص:54)‘‘۔

اسمائے الٰہی ، انبیائے کرام ؑورُسُلِ عظام کے ناموں کا ادب واحترام اپنی جگہ فقہائے کرام نے ان چیزوں کے احترام کا بھی حکم دیاہے کہ جن پر کسی کافر یا دشمنِ خدامثلاً : فرعون، ابوجہل ، نمرود وغیرہ کا نام لکھا ہو کیونکہ حروف وکلمات کا احترام ضروری ہے ، علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ جب کسی غرض سے فرعون یا ابوجہل کا نام لکھاجائے ،تو اُسے پھینکنا منع ہے ،اس لیے کہ اُن حروف کے لیے ادب واحترام ہے، ’’سراجیہ‘‘ میں اسی طرح ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد5،ص:323)‘‘۔ (…جاری ہے…)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk