• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ردی کے ڈھیر سے لائبریری تک کا سفر کرتی کتابیں

ترکی کے دارلحکومت انقرہ میں کوڑا کرکٹ جمع کرنے والوں نے ردی میں پھینکی گئی کتابوں سے عوام الناس کےلئے پبلک لائبریری بناکر ایک انوکھی مثال قائم کردی ۔ ضائع شدہ کتابوں پر مشتمل یہ لائبریری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کتابیں بے وقعت نہیں ہوتیں اور بے شک علم پھیلانے سے بڑھتا ہے۔

انقرہ کے ضلع کنکایا میں اس بے مثال لائبریری کی بنیاد صفائی کرنے والے کارکنان نے رکھی جنہیں ہم عام فہم زبان میں کوڑا جمع کرنے والے کہتے ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا مقصد کتابوں سے شغف رکھنے والے میونسپلٹی ملازمین کے لئے ایسی لائبریری بنانا تھا ،جس میں وہ مطالعہ کرکے اپنے فارغ اوقات کو کارآمد بنا سکیں۔ اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کارکنوں نے کئی مہینوں تک کوڑے سے ضائع شدہ کتابیں جمع کیں پھر ان کو اپنی لائبریری کے شیلف کی زینت بنایا ۔ کہتے ہیں کہ قطرہ قطرہ مل کر سمندر بنتا ہے ایسا ہی کچھ کارکنوں کے ساتھ بھی ہوا، ان کی کتابوں سے یہ محبت اور لگن دیکھتے ہوئے رہائشیوں نے بھی انہیں کتابیں عطیہ کرنا شروع کردی۔

ابتدامیں اس لائبریری کی کتابیں صرف میونسپلٹی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے زیر استعمال تھیں لیکن جیسے جیسے کتابوں کا مجموعہ بڑھتا گیا تو عام لوگوں کی بھی اس لائبریری میں دلچسپی بڑھنے لگی ،جس کی وجہ سے اسے پبلک لائبریری کی طور پر کھول دیا گیا اور اب عام لوگ بھی یہاں رکھی گئی کتابوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لائبریری میں کتب بینوں کے لئے ادب سے لےکر نان فکشن تک کی 6000 سے زائد کتابیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مزاحیہ کتب، سائنسی تحقیق پر مبنی کتابوں کے علاوہ بچوں کی کتابوں کا بھی پورا ایک سیکشن موجود ہے۔ انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانوں میں بھی کتابیں دستیاب ہیں۔

شہریوں کےلئے فارغ اوقات میں یہ ایک کار آمد مشغلہ ہے اور وہ اس لائبریری سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس لائبریری کی کتابوں کی مانگ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اسکولوں اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی ان سے استفادہ حاصل کیا جارہا ہے۔ جبکہ شہری حکومت کی جانب سے لائبریری کے انتظامات سنبھالنے کے لئے ایک کل وقتی ملازم بھی مقرر کردیا گیا ہے۔