• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر ہر روز ایک نئی خبر ہوتی ہے، مگر کبھی کبھی کوئی خبر ہمیں تڑپا دیتی ہے، دل میں حسرت جگا دیتی ہے اور یاسیت طاری کردیتی ہے۔ حیران نہ ہوں اس خبر کا تعلق کسی سیاست سے نہیں، کسی قتل و غارت سے نہیں، کسی وحشت اور بربریت سے نہیں، کسی دہشت سے نہیں۔ نہ یہ امریکاسے متعلق ہے، نہ چین اور بھارت سے اور نہ ہی افغانستان سے یہ تو بس ایک معصوم سی خبر ہے۔ اس میں کوئی سنسنی کوئی تھرل نہیں، یہ بریکنگ نیوز بھی نہیں اور نہ ہی یہ خبر زبان زدعام ہوئی۔ 

پھر بھی یہ خبر ہمارے دل سے ہوتی ہوئی دماغ میں جاگزیں ہوئی اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہوئے ہمیں تڑپاتی ہوئی ہمیں حسرت و یاس میں مبتلا کر گئی، یہ خبر ہے ہمارے پیارے ملک پاکستان کی کہ اوکاڑہ کے بہادر نگر میں حکومتی سطح پر گدھوں کی فارمنگ شروع کر دی گئی ہے۔ اس سے اعلیٰ قسم کے گدھے تیار کئے جائیں گے اور دوسرے ممالک کو برآمد بھی کئے جائیں گے۔ کیا کریں صاحب نہ دل تڑپنے سے باز آتا ہے، نہ ذہن سوچنے سے تائب ہوتا ہے۔

اب بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ہمارے ذہن میں آنے والی کہ کاش کاش حکومتی سطح پر ملک کے بچوں کی بھی کوئی ایسی قسم تیار ہو سکے جو ذہنی، جسمانی، تعلیمی، سماجی اور روحانی طور پر اعلیٰ اور بہترین ہو۔ اور ہم بھی دنیا کے سامنے فخر سے کہہ سکیں کہ یہ دیکھئے پاکستان کے بیٹے اور بیٹیاں۔ ہمارا روشن مستقبل ،مگر یہاں تو ایک ایسی کھیپ تیار ہو رہی ہے جو تربیت، تہذیب اور اخلاق سے ناآشنا ہے جو تعلیم تو شاید حاصل کر رہی ہے ،مگر علم اور بصیرت سے نابلد ہے۔ 

کاش حکومتی سطح پر کوئی ایسی کوشش کی جائے جہاں انسانوں کی اعلیٰ قسم تیار ہو سکے۔ مگر افسوس حکومت تو کرپشن، شریف، زرداری، ووٹنگ مشین، یکساں نظام تعلیم اور طلبا اور اساتذہ کے لباس میں الجھبی ہوئی ہے۔ کیا ضمانت ہے کہ لباس کی تبدیلی اور یکساں نظام تعلیم سے یہ ہجوم ایک تہذیب اور تربیت یافتہ قوم بن جائے گا۔ کیوں کہ سرکاری اسکول جنہیں عرف عام میں ’’پیلے اسکول‘‘ کہا جاتا ہے، وہاں تعلیم کو یقیناً یرقان ہو گیا ہے۔ اساتذہ کی عدم دلچسپی ،متشدد رویوں ،معصوم طلباء کا خوف اور پڑھائی سے بددل ہو جانا کیا کسی بربادی سے کم ہے…؟ 

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ کہ کوئی فکر مند بھی نظر نہیں آتا۔ اسی لئے تو ہم روزانہ دل دہلا دینے والی روح فرسا دردناک خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں، مینار پاکستان کا سانحہ، چنچی رکشہ کا واقعہ، والدین پر تشدد کا المیہ، ٹریفک سگنل توڑتے ہوئے تیز رفتاری کی وجہ سے حادثہ، امتحانی طریقہ کار کے خلاف سڑکوں پر احتجاج، خودکشی جیسے دردناک واقعات، منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال اور نیٹ کا غیر اخلاقی استعمال یہ سب کیا ہے۔ کیا کسی کو ان میں چھپی تباہی اور بربادی کا ادراک ہے…؟

جس طرح پھولوں اور پودوں کی حفاظت اور نشوونما کےلئے نرسریاں ہوتی ہیں جہاں ان کی دیکھ بھال اور بڑھت کا خیال کیا جاتا ہے۔ جانوروں کےلئے کیٹل فارم، فش فارم، پولٹری فارم اور اب ڈنکی فارم تیار ہیں، جہاں جانوروں کی حفاظت اور اعلیٰ قسم کی تیاری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تو نوجوانوں کے لیےایسا مکتب بھی کوئی شہر میں کھولےجہاںان کو انسان بنایا جائے۔ ایسا انسان جسے سیاہ سفید، اچھا برا خیر شر، جائز ناجائز، حرام و حلال میں فرق کی تمیز ہو۔ جسے انسانیت کا سبق ازبر ہو۔ 

جو انسان کی تکریم جانتا ہو جو عورت کی عزت اور توقیر پہچانتا ہو، جسے انسانی جان کی حرمت سے آشانی ہو… جو علم کی اہمیت گہرائی اور گیرائی سے باخبر ہو۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو یہ میرا جلتا، سلگتا، بکھرتا اخلاق باختہ معاشرہ تبدیل نہ ہو جائے گا۔ اور دراصل ہمیں ایسی ہی تبدیلی کی ضرورت ہے تو کیا ہم حکومتی سطح پر اقدامات کا انتظار کریں گے یا اپنے بچوں اپنے مستقبل کو بچانےکےلئے آگے آئیں گے۔ استاد، طالب علم اور والدین کی تکون کے سارے زاویئے برابر اور متوازن ہو جائیں، تب ہی بہتری کی طرف سفر شروع ہوسکتا ہے۔

سوچئے………!

آؤ کہ مل کر سوچیں ہم

زندگی کے بارے میں

روشنی کے بارے میں