• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ چند ہفتے سے ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ کے متنازع نتائج پر طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ عدالت میں بھی محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری خواہش کے مطابق میڈیکل و ڈینٹل کالجز کے ناقص داخلہ ٹیسٹوں کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے۔اچھی بات ہے کہ ایوانِ بالا میں بھی ملک کے تعلیمی مستقبل سے جڑا یہ اہم معاملہ زیر بحث آیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے امتحانات پر سوالات اٹھاتے ہوئے ٹیسٹ دوبارہ لینے کی سفارش کی ہے ۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کی وجہ سے طلبا کا مستقبل تباہ و برباد ہو گیا ہے، امتحانات لینے کے لئے لوگوں سے لاکھوں روپے لئے، شہریوں کو لوٹا گیا لیکن کسی کا نام نہیں۔کمیٹی نے امتحان لینے و الی نجی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کے لئے اقدامات کی ہدایات بھی جاری کیں۔واضح رہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے تقریباً 2 لاکھ امیدواروں کو ای میل کر کے کہا گیا تھا کہ وہ رزلٹ کارڈ کو نظرانداز کردیں کیونکہ اس میں کئی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔پھر یہ اعلان کیا گیا کہ تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار امیدوار یعنی 65 فیصد پاس ہونے میں ناکام رہے ۔بعد ازاں پی ایم سی نے بذریعہ پریس کانفرنس نتائج کا اعلان کیا جس میں بتایا گیا کہ 68 ہزار 680امیدوار پاس ہوئے ۔اب اگر امتحان دوبارہ لیا جاتا ہے تو طلبا سے دوبارہ کوئی فیس نہیں لی جانی چاہئے۔دیکھا جائے تو میرٹ ٹیسٹوں کے نام پر ملک میں کئی برسوں سے سرکاری و نجی اداروں اوراکیڈمیوں کاایک کاروبار چل رہا ہے ۔ہر ٹیسٹ پر طلبا سے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ گزشتہ امتحان کے نمبروں کو دیکھتے ہوئے اگلے مرحلے میں داخلے دیے جائیں تاکہ ہر سال ٹیسٹوں کے نتائج پر پیدا ہونے والا تنازع بھی ختم ہو۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین