• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان جی ایس پی پلس کے کنونشنز پر عمل کررہا ہے، مستحکم اور خوشحال افغانستان ساری دنیا کے مفاد میں ہے، چوہدری محمد سرور

برسلز/پیرس(حافظ انیب راشد/ عظیم ڈار/رضا چوہدری) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے یورپین پارلیمنٹ کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے یورپین پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی، ٹریڈ کمیٹی اور جسٹس اینڈ ہوم افیئرز کمیٹی کے ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ان کے ہمراہ یورپین یونین،بلجیم اور لکسمبرگ میں پاکستانی سفیر ظہیر اے جنجوعہ کے علاوہ برطانیہ سے سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ ڈیوڈ مارٹن بھی موجود تھے۔ بعد ازاں سفیر پاکستان کے ہمراہ یورپین پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بتایا کہ ان کی ٹریڈ کمیٹی کے رکن شون کیلی، فارن افیئرز کمیٹی کی رکن سوزانا سکارڈی، جسٹس اینڈ ہوم افیئرز کمیٹی کے چیئر پرسن جوآنا فرنانڈو لوپیز اور یورپین پارلیمنٹ میں افغانستان ڈیلی گیشن کے چیئر پیٹراس آستریویسیس سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان تمام ملاقاتوں میں انہوں نے پاکستان کی ایک پڑوسی کی حیثیت سے افغانستان کے متعلق پالیسی کے علاوہ پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس پر اس کی جانب سے 27 کنونشنز پر عمل درآمد کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے ہم نے ان تمام کوششوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جو پاکستان کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے یہاں بتایا ہے کہ ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان ساری دنیا اور اس کے پڑوسیوں کے مفاد میں ہے، ہم دنیا کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔ انہیں بتا رہے ہیں کہ افغانستان کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ تمام پڑوسی ممالک، بین الاقوامی دنیا اور خاص کر یورپین یونین کو اعتماد میں لے کر مشاورت سے کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ان ممبران پارلیمنٹ کو اس بات سے بھی آگاہ کیا ہے کہ اگر افغانستان کو اس وقت تنہا چھوڑ دیا گیا تو وہاں انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے، ہماری خواہش ہے کہ وہاں کے عوام کو بھوک اور فاقوں سے بچائیں، انہوں نے بتایا کہ ان ممبران کے تحفظات بھی ہم نے سنے اور اس کا جواب دیا، ہم نے انہیں اس مسئلے کا بیک گراؤنڈ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس کا سب سے بڑا شکار ہوا اور پاکستان نے بہت جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے ، اس کا 100 بلین ڈالر سے زیادہ مالی نقصان ہوا جب کہ اس کے 50 ہزار سے زائد شہری بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے، اس کے ساتھ ہی وہ ایک طویل عرصے سے 2ملین سے زیادہ افغانستان کے مہاجرین کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔ جی ایس پی پلس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بتایا کہ ہم نے ممبران پارلیمنٹ کو ان اقدامات کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا ہے جو پاکستان، انسانی حقوق ،اقلیتوں کے حقوق اور دیگر بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کے حوالے سے کر رہا ہے جس پر ان ممبران پارلیمنٹ نے یقین دلایا کہ وہ جی ایس پی پلس کے حوالے سے پاکستان کی 100 فیصد حمایت کریں گے۔دریں اثنا فرانسیسی حکومت کے پاکستان سے متعلق تحفظات دور کرنے کےلئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور یورپی یونین میں فرانسیسی ایم پیز کے درمیان آج ملاقات متوقع ہے، واضح ہو گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور جی ایس پلیس اسٹیٹس کی توسیع کے سلسلہ یورپی یونین کے دورہ پر ہیں، اس دوران وہ دیگر امور بھی نمٹائیں گے،ان کے قریبی ذرائع کے مطابق چوہدری محمد سرور یورپی پارلیمنٹ متعدد ایم ای پیز سے ملاقاتیں کرکے مختلف امور جن میں افغانستان کی صورتحال بھی شامل ہے، پر تحفظات اور پاکستان کے کردار سے ان کو آگاہ کررہے ہیں، واضح ہو کہ چوہدری سرور اس وقت بھی یورپی پارلیمنٹ میں متحرک تھے جب پاکستان کو جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس ملا تھا جس کی بدولت یورپی ممالک اور پاکستان کے درمیان تجارت اور برآمدات میں کئی ملین یورو کا اضافہ ہوا، اب بھی توقع ہے کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع سے بھارت کو پھر منہ کی کھانی پڑے گی اور چوہدری محمد سرور کی کوشش کامیاب ہوں گی۔ دریں اثنا گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور 11 سے 14 اکتوبر 2021 تک یورپی یونین اور بلجیم کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ گورنر پنجاب کی برسلز آمد پر سفیرِ پاکستان برائے یورپی یونین ، بلجیم اور لکسمبرگ ظہیر اے جنجوعہ، سفارتخانہ پاکستان سفارت خانے کے افسران، ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ کے چیئرمین چوہدری پرویز اقبال لوہسر، مہاراجہ تندوری گروپ کے ڈائریکٹر علی چوہدری ،او پی سی پنجاب بلجیم کے کوآرڈینیٹر سید شاہد حسین شاہ، پی ٹی آئی بلجیم کے امیدوار برائے صدر غلام ربانی بابو بھائی، پی ٹی آئی بلجیم کے سینئر رہنما میاں شعیب چوہدری ،کاشف وڑائچ اور سرفراز فریقی نے ان کا استقبال کیا۔ اس دورے کے دوران ، گورنر پنجاب یورپی پارلیمنٹ کے بااثر اراکین ، سیاستدانوں کے علاوہ بلجیم کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ گورنر پنجاب بلجیم میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ارکان اور میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔ پاکستان کےیورپی یونین اور اس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں جو باہمی افہام و تفہیم ، احترام اور جمہوریت کی مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ پاکستان،یورپی یونین اسٹریٹجک مصروفیت کا منصوبہ مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں سیاسی ، اقتصادی ، سلامتی ، موسمیاتی تبدیلی ، سبز توانائی اور مہاجرین کی نقل مقانی شامل ہیں۔گورنر پنجاب کا یہ دورہ دونوں فریقوں کے درمیان قریبی مشاورت اور تعاون کے عمل کو آگے لے جائے گا۔ 

یورپ سے سے مزید