• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فردا _… راجہ اکبردادخان
آزاد کشمیر کے دو بار صدر اور دو بار وزیراعظم بننے والے سردار سکندر حیات خان پچھلے دنوںبھی وفات پا گئے۔ سردارسکندر مرحوم اپنی شخصیت میں بے پناہ خصوصیات لپیٹے طویل عرصہ تک کشمیری سیاست میں موجود رہے۔ ان کی پارلیمانی سیاست کا آغاز 1973ء کے انتخابات میں ہوا جہاں 1974ء میں وہ پہلی بار سردار عبدالقیوم (مرحوم) کی قیادت میں بنی حکومت میں وزیر منتخب ہوئے۔ اس وقت سے شروع ہوا یہ سفر بالآخر اختتام کو پہنچا۔ 70 اور 80 کی دہائیوں میں سکندر حیات نے سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت میں سردار قیوم محترم سے وہ سب کچھ سیکھا جس نے انہیں ایک کامیاب سیاستدان بننے میں اہم مدد کی۔ اعلیٰ پائے کے مقرر ہونے کے ساتھ سکندر حیات سیاست میں آخری حد تک نہ جانے والے سیاستدان کے طور پر اوپر اٹھے اور مشکل حالات میں بھی ان کو درمیانی راستہ نکالنے والا اہم رہنما تسلیم کیا جانے لگا،ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان بات چیت ختم ہو چکی تھی، ادارے اور پولیس حزب اختلاف کے قائدین کو گرفتار کر رہے تھے اور سکندر حیات اس وقت پی این اے کے جنرل سیکرٹری تھے اور ان کی گرفتاری کیلئے کوٹلی اور راولپنڈی میں چھاپے مارے جارہے تھے کہ سکندر حٰات اپنے آبائی قصبہ نکیال پہنچ گئے کیونکہ بھٹو مخالف تحریک آزاد کشمیر میں نہیں چل رہی تھی اس لئے وہ طویل جیل یاترا سے بچ گئے، کئی بار پوچھنے پر بھی انہوں نے یہ نہ بتایا کہ وہ پنڈی سے نکیال کس طرح پہنچے جب کہ ان کی گرفتاری کیلئے بھرپور کوشش کی جارہی تھی، معاملات میں میانہ روی اختیار کرنا، مشکل میں بھی ملنساری اور اچھی عادات کو ہر دم سامنے رکھنا جسی صفات ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ان کے بارے میں تجزیہ نگاروں کے درمیان ہمیشہ یہ رائے موجود رہی کہ جو کوئی ان سے ایک بار مل لیتا وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے اور آخری وقت تک ملنے ملانے والے یہی تاثر لے کر الوادع ہوتے کہ سردار سکندر مرحوم صرف انہی کے خیرخواہ ہیں، زندگی کے آخری ایام تک وہ لوگوں سے ملتے رہے، آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مسلم کانفرنس کو ایک بار پھر متحد کرنے میں ان کا واضع کردار رہا، انتخابات میں مسلم کانفرنس کو زیادہ نشستیں نہ مل سکیں بہتر حکمت عملی سے زیادہ نشستیں حاصل کی جاسکتی تھیں، مقتدرہ نے آخری وقت پر گھوڑے تبدیل کر لئے، سیاستدان اور انتخابی ماہرین اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ سکندر حیات کا انتخابی علم اتنا وسیع ہے کہ ان کو آزاد کشمیر کے ہر انتخابی حلقہ کی ساخت کا اتنا علم ہے جتناکہ اس حلقہ میں امیدواران کو بھی نہ تھا، ان کی طویل پارلیمانی زندگی اس بات کو ثبوت ہے کہ وہ سیاسی جوڑ توڑ میں ماہر تھے، ان کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا دورانیہ پہلے کی نسبت زیادہ ہنگامہ خیز رہا، کئی بار تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں ہوئیں مگر ہر بار حالات سکندر حٰیات کے ساتھ کھڑے رہے اور دونوں بار ان کی حکومتوں نے اپنے پانچ برس مکمل کئے، موصوف کا تعلق نہ ہی کسی بڑے سیاسی خاندان کے ساتھ تھا اور نہ ہی وہ دولت کی ریل پیل میں سیاست میں داخل ہوئے۔ وہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے کشمیری رہنما تھے جنہوں نے طویل عرصہ تک ریاستی عہدوں پر رہ کر اہل انداز میں ریاست کے لوگوں کی خدمت کی، ان کی یہی صفات آج ان کے چلے جانے کے بعد لوگوں کی دھارس بندھا رہی ہے، آج برطانیہ بھر میں اس سیاستدان کے چاہنے والے ان کی وفات پر افسردہ ہیں، ان میں کئی کئی برسوں پر پھیلی سیاسی اور ذاتی رفاقت ہے اور کئی خاندانی حوالوں سے ان سے جڑے ہوئے ہیں اور آج اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہے ہیں، کوویڈ 19 نے کمیونٹی کو ڈرا کر گھروں میں بند کردیا ہے، ویسے بھی احتیاط کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم میں سے اکثر بڑی محافل میں جانے سے گریز کر رہے ہیں، ورنہ اکثر کا یہ جی کر رہا ہے کہ اظہار ہمدردی کیلئے سکندر حیات کے سیاسی قبیلہ سے لپٹ کر آنسو بہا لئے جائیں اور ان کے لئے دعائے مغفرت بھی کہہ لی جائے، آزاد کشمیر اسمبلی میں اوورسیز کی سیٹ 1985ء میں جب سکندر حیات پہلی بار وزیراعظم بنے وجود میں آئی، مقصد یہ تھا کہ یہاں آباد کمیونٹی کو اپنے آبائی ملک سے جوڑے رکھا جائے اور مسئلہ کشمیر پر کام کیا جائے، آزاد کشمیر اسمبلی میں اوورسیز کی سیٹ سکندر حیات کا برطانوی کمیونٹی کیلئے ایک دائمی تحفہ ہے جس کا اعلان انہوں نے 1983ء میں لوٹن میں ایک جلسہ میں کیا، سابق صدر جس طرح زندگی میں محفلیں جمائے رکھتے تھے، ان کی نماز جنازہ میں بھی لوگوں کی بھاری شرکت اور تمام جماعتوں کے اہم قائدین کی موجودگی یقیناً ان کی روح کیلئے تسلی و تشفی کا باعث ثابت ہوئی ہوگی، صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود، وزیراعظم سردار قیوم نیازی، حکومتی وزراء کا بوقت رخصت موجود ہونا ایک اچھی روایت ہے۔ سردار سکندر حیات کی موت سے کشمیری سیاست ایک منجھے ہوئے سیاستدان سے محروم ہو گئی ہے اور راجپوت قبائل میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے والی ہستی دنیا سے چلی گئی ہے ۔ سیاسی اور خاندانی حوالوں سے اس خلا کو پُر ہونے میں وقت لگے گا۔
یورپ سے سے مزید