• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حیات آباد ‘زہریلی فضائی آلودگی سے رہائشیوں کی صحت متاثر

پشاور (وقائع نگار)حیات آبادانڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم فیکٹریوں اورصنعتی یونٹس سے نکلنے والی زہریلی فضائی آلودگی سے یہاں کے رہائشیوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم اسٹیل،چپ بورڈ، پارٹیکل بورڈ،میڈیم ڈینسٹی فائبرفیکٹریزاوریونٹوں سے زہریلے موادکے اخراج کے باعث طویل عرصہ سے ماحولیاتی آلودگی اورصحت کے مسائل پیداہورہے ہیں واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے صاف ماحول تک رسائی کو بنیادی انسانی حق قرار دیا ہے فضائی آلودگی دنیا بھر میں سالانہ سات ملین پری میچور اموات کا باعث بن رہی ہے جن میں چھ لاکھ بچے بھی شامل ہیں یہ ہر سال جنگ، قتل، تپ دق، ایچ آئی وی، ایڈز اور ملیریا کی مجموعی ہلاکتوں سے زیادہ اموات ہیں۔علاقہ مکینوں کاکہناہے کہ لوگوں کو صاف ہوا میں سانس لینے کا بنیادی حق حاصل ہے شہریوں کیلئے صحت مند ماحول کو یقینی بنانا حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے صاف ہوا کو یقینی بنانے میں ناکامی ایک صحت مند ماحول کے بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی ہے دوسری جانب پشاورحیات آباد میں جاری صورتحال صحت عامہ کیلئے انتہائی خطرناک ہے پشاور دنیا کے فضائی آلودہ ترین شہروں میں سے ایک بن گیاہے انہوں نے کہاکہ یہ مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور حکومت کی جانب سے غفلت حیات آباد کے رہائشیوں کو اس کے بنیادی انسانی حق یعنی صاف سانس لینے والی ہوا سے محروم کر نے کے مترادف ہے رہائشیوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیاکہ صنعتی فضائی آلودگی کو فوری طور پر بند کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔
پشاور سے مزید