• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آریان خان کی درخواست ضمانت ایک بار پھر مسترد ہونےپرمزید سوالات اٹھ گئے


شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھے یا مسلمان ہونے کی سزابھگت رہے ہیں؟ منشیات کیس میں آریان خان کی درخواست ضمانت ایک بار پھر مسترد ہونے پر مزید سوالات اٹھ گئے۔

بھارتی ڈرگ ایجنسی کو بالی ووڈ اسٹار کے بیٹے کی گرفتاری پر کئی حلقوں کی طرف سے شدید خفت کا سامنا ہے، مہاشٹرا کی حکومت میں شامل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے آریان خان کی گرفتاری سے متعلق پورا کیس جعلی قرار دیا۔

جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی ووٹ بینک کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی بھارتی صحافی اور عوام آریان خان منشیات کیس میں بی جے پی حکومت کو لتاڑ رہے ہیں۔

صحافی کمال آر خان نے کہا کہ مشہور شخصیات کے بچے بھارت چھوڑ رہے ہیں، آریان واقعے نے انہیں خوفزدہ کردیا ہے۔

این سی بی کو کیس میں منشیات رکھنے یا اس کے استعمال کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملے، کوڈ آف کرمنل پروسیجر کی دفعہ 436 کے تحت پہلی ہی تاریخ میں آریان کو ضمانت دی جانی چاہیے تھی لیکن اس کا فیصلہ اب 20 اکتوبر کو کیا جائے گا۔

 کیس نے نئے الزامات کو جنم دیا ہے کہ بھارتی حکومت ملک کے سب سے بڑے مسلمان اداکار کے بیٹے کو صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ہراساں کر رہی ہے۔

2015 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد شاہ رخ خان کو ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت کے خلاف بات کرنے پر بی جے پی نےملک دشمن قرار دیا تھا۔

منشیات کیس میں آریان خان کو جیل میں قیدی نمبر مل گیا، اب انہیں قیدی نمبر 956 کے نام سے پکارا جائے گا، ممبئی کی عدالت سے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید