| |
Home Page
منگل 29 ذیقعدہ 1438ھ 22 اگست 2017ء
February 17, 2017 | 12:00 am
دہشتگردی کی لہر،وزیراعظم اور آرمی چیف کا افغان قیادت سے مذاکرات کا فیصلہ

Todays Print

اسلام آباد(حذیفہ رحمان)وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا افغان سینئر قیادت سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لئے افغان حکومت کے ساتھ ملکر حکمت عملی تیار کرنے پر بات کی جائے گی۔پاکستان جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں قائم ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے افغان قیادت پر دباؤ ڈالے گا۔باوثوق ذرائع نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا ہے کہ دہشت گردوں نے چار دنوں میں چاروں صوبوں کو ترتیب سے نشانہ بنایا۔انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد آئندہ چند روز میں مزید کارروائیاں بھی کرسکتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ حالیہ تمام دہشتگردانہ کارروائیوں کو سرحد پار سے کنٹرول کیا گیا ہے۔تین صوبائی دارالحکومت اور سندھ کے اہم شہرکو ٹارگٹ کرنے والے دہشتگردوں کی بھی اب تک شناخت نہیں ہوسکی ہے اور شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کارروائیاں کرنے والے تمام دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہوسکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری قیادت آئندہ چند روز میں افغانستان کا ہنگامی دورہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جبکہ وزیراعظم نوازشریف افغان صدر اشرف غنی سے بھی بات کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان حکومت سے مطالبہ کرے گا کہ سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے افغان حکومت پاکستانی اداروں کی مدد کرے۔اس نمائندے کو یہ بھی بتا یا گیا ہے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعدآج سیاسی و عسکری قیادت میں اہم بیٹھک بھی ہونے جارہی ہے۔جس میں مشاورت کی جائے گی کہ دہشتگردوں کی نئی منصوبہ بندی کو کیسے کچلنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان ہونے والی آج کی ملاقات میں وزیراعظم ،آرمی چیف کے علاوہ اہم وزراء اور افسران بھی شریک ہونگے۔اس حوالے سے یہ مشاورت بھی جائے گی کہ افغانستان سے دہشت گردوں کے ٹھکانو ں کونشانہ بنانے کے حوالے بات چیت سفارتی سطح پر بھی آگے بڑھائی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ پاک افغان تعلقات بات چیت کے ذریعے حل ہوسکیں اور دونوں ممالک مل کر دہشت گردوں کے خلا ف آپریشن کرسکیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات ایک منظم کارروائی ہےجس میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور ، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور پھر خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اب سندھ کے اہم ترین شہر سیہون کو نشانہ بنایا گیا ہے۔