| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
دو مشکوک کرکٹرز کون، پی سی بی فوری پنڈورا بکس کھولنے سے گریزاں، مزید شواہد کا منتظر

Todays Print

کراچی(عبدالماجد بھٹی،اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اب بھی کم از کم دو مشکوک کرکٹرز کے نام موجود ہیں جن کو اسپاٹ فکسنگ کیس میں الزامات کا سامنا ہے لیکن پی سی بی حکام فوری طور پر اس پنڈورا بکس کو کھولنے سے گریزاں ہیںوہ پاکستان کرکٹ کو نقصان سے بچانا چاہتے ہیں تاہم اگر ضرورت پڑی تو ان کرکٹرز کے خلاف بھی چارج شیٹ جاری کی جائے گی۔

اسپاٹ فکسنگ میں چند کرکٹرز سزوں کے قریب ہیں اور کچھ کھلاڑی مشکل میں گھرے ہوئے ہیں۔ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ ٹھوس شواہد کے بعد مزید کرداروں کو بے نقاب کرسکتا ہے۔تاکہ مافیا کا خاتمہ کیا جاسکے۔ایسے میںپاکستان کرکٹ ٹیم سے وابستہ دو مزید کرکٹرز کے بارے میںبر طانوی کرائم ایجنسی کی جانب سے انکشاف نے بورڈ کے ہیڈ کوارٹر کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں برطانوی کرائم ایجنسی کے نمائندے سے جرح کے دوران 2مزید پاکستانی کھلاڑیوں کے نام سامنے آئے ہیں ۔

تاہم بورڈ اس معاملے کو صیغہ راز میں رکھ رہا ہے۔فاسٹ بولر محمد سمیع کا کہنا ہے کہ مجھے بدنام کرنے کے لئے میرا نام سامنے آیا ہے۔میرا کیئر یئر بے داغ ہے اور میں اپنے خلاف الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔محمد سمیع نے کہا کہ میں نہ اس قسم کے لوگوں سے ملا ہوں اور نہ اس سے رابطہ کیا ہے۔36سالہ محمد سمیع نے پاکستان کی جانب سے36 ٹیسٹ87ون ڈے انٹر نیشنل اور13ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل میچ کھیلے ہیں۔محمد سمیع کو کیریبین لیگ کے لئے بورڈ نے این او سی جاری کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے نمائندے اینڈریو افگریو نے پی ایس ایل اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے مزید دو پاکستانی کھلاڑیوں کے ناموں کا انکشاف کیا۔

اینڈریو افگریو نے پی سی بی اور شرجیل خان کے وکیل کی جرح کے دوران دو مزید کھلاڑیوں ناموں کا ذکر کیا اور اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو مذکورہ کھلاڑیوں کے بارے میں مزید شواہد کا انتظار ہے جس کے بعد ہی انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔پی سی بی کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ شرجیل خان ،خالد لطیف،شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کے علاوہ مزید کچھ کرکٹرز کے بارے میں ٹھوس شواہد جمع کئے جارہے ہیں تاکہ گند کو صاف کیا جاسکے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہریار خان نے لندن سے جنگ کو بتایا کہ جن دو نئے کرکٹرز عمر اکمل اور محمد سمیع کے نام آرہے ہیں ان کے بارے میں الزامات اور شواہد کو دیکھنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کو بھی آگے چل کر باریک بینی سے دیکھنا ہوگا۔اس قسم کے واقعات سے پاکستان کرکٹ کی بدنامی ہورہی ہے۔پی ایس ایل سے قبل دنیا کی مختلف لیگز میں بھی اسپاٹ فکسنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔تاہم ہمیں آئندہ پی ایس ایل کو کرپشن سے بچانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔شہریار خان نے کہا کہ شرجیل خان نے اپنے آپ کو تباہ کردیا۔

اس کا مستقبل تابناک تھا لیکن اب اسے مشکل کیس کا سامنا ہے۔اس کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فخرزمان ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی اے کے عہدے دار نے مبینہ سٹے باز یوسف انورکے رابطوں اور کرکٹرز کی مشکوک سرگرمیوں پر بنگلہ دیش پریمیئرلیگ سے ہی نظر رکھی جارہی تھی، پی ایس ایل کے آغاز پر ٹھوس شواہد ملنے کے بعد اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں پر ہاتھ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے شواہد ملنے کے بعد ملوث کھلاڑیوں کے گرد گھیرا تنگ کرے گا۔یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں محمد عرفان پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں 6 ماہ کی معطلی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان پرالزام ہے کہ انہوں نے پی ایس ایل کے دوران بکیز کے رابطہ کرنے پر پی سی بی کو آگاہ نہیں کیا تھا، ان کا کیس پی سی بی ڈسپلنری پینل میں چلا، انہوں نے اپنا الزام قبول کر لیا تھا جس پر انہیں جرمانے کے ساتھ 6 ماہ کی معطلی کی سزا ملی تھی۔