اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) خیبر پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) میں بھاری کرپشن اورنااہلی نے نہ صرف اس کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرزشکیل درانی کو جنہوں نے چیئرمین واپڈا کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، استعفے پر مجبور ہونا پڑا بلکہ بورڈ میں موجود تمام ٹیکنیکل اور پروفیشنل ممبرز بھی اس ادارے کو چھوڑ گئے ہیں۔ پیڈو کے بورڈ کی یہ رسوا کن ناکامی اس وقت رونما ہوئی جب اعلیٰ انتظامیہ تک کرپشن نئی حدوں تک جا پہنچی اورکنٹرول نہیں ہورہی تھی۔ بورڈ کے ایک ممبر شاہد ستار (منصوبہ بندی کمیشن کے سابق ممبرتوانائی) نے ’’دی نیوز‘‘ کو بتایا کہ دیگر چھ ممبران نے بھی ادارے کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں اعلیٰ انتظامیہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی کرپشن کے خلاف بطور احتجاج اپنے استعفے جمع کرادیئے ہیں۔ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز مختلف منصوبوں کے حوالے سے غیرمعقول فیصلوں پرربر سٹیمپ کے طور پر کام کرتے ہوئے گرین سگنل دے۔ مستعفی ہونے والوں میں شاہد ستارکے علاوہ یونس مروت، سردارطارق اور سرورمہمند شامل ہیں۔ بورڈ کے ایک اور رکن نے ’’دی نیوز‘‘ کو بتایا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے لاوی ہائیڈرو پراجیکٹ کے کنٹریکٹر کو ڈیڑھ ارب روپے کا اجرا روک دیا جبکہ پیڈو کی اعلیٰ انتظامیہ صرف اپنا کمیشن کھرا کرنے کے لئے مذکورہ بالا رقم بغیر آڈٹ کے جاری کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رنولیا ہائیڈرو پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے ایک ارب 30کروڑ روپے کی اضافی رقم کے لئے معاہدہ کی منظوری بھی نہیں دی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس دو پن بجلی منصوبوں کی تحقیقات بھی سرفہرست ہے جو مکمل تو ہوگئے مگر کوئی ٹرانسمیشن لائن نہیں بچھائی گئی۔ اس کے نتیجے میں قومی گرڈ میں کوئی بجلی شامل نہیں ہوئی، نتیجتاً صوبہ ہر ماہ 5کروڑ روپے ماہانہ نقصان برداشت کررہاہے۔ دریں اثناء چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز شکیل درانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میری ’’پیڈو‘‘ میں تقرری کو چھ ماہ ہونے کو ہیں جس کے دوران مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہاں نااہلی، موثر نظام کی کمی ہے جبکہ ادارے کا ڈھانچہ ناکارہ ہے۔ میں نے معاملات میں بہتری لانے کے لئے کئی بار مناسب سطح پر اصلاح کی کوشش کی مگروزیر توانائی محمد عاطف اور سی ای او پیڈو اکبر ایوب نے مکمل طورپرعدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ وہ اپنا صوابدیدی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تین سال کے عرصے میں کوئی ایک بھی پن بجلی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 20 جون کو وزیر توانائی کی پریس کانفرنس میں ایک دعویٰ کیا گیاکہ 400 میگاواٹ کے پراجیکٹس مکمل کرلئے گئے ہیں۔ دو پراجیکٹس جو اے این پی حکومت میں شروع کئے گئے تھے (ماچھائی اور رینولیا) جولائی 2015ء میں نمائشی لاگت پر مکمل کئے گئے، بجلی پیدا نہیں کررہے کیونکہ ٹرانسمیشن لائنز ابھی بچھائی ہی نہیں گئیں۔ پیڈو کی غفلت کی وجہ سے جو بجلی پیدا نہیں کررہی،خیبرپختونخوا حکومت کو ہر ماہ 5کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ وزیر اور سی ای او شدت سے اس بات کے خواہاں ہیں کہ بطور چیئرمین میں جو تحقیقات کرنا چاہتا ہوں وہ اس سے بچ جائیں۔ میں اس وقت بڑا پریشان ہوا جب مجھے یہ پتہ چلا کہ سی ای او اور ان کی نجی شعبے کی ٹیم رینولیا پاور پراجیکٹ کی تکمیل کی مدت میں لاگت بڑھا کر اضافہ کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بورڈ کی منظوری کے بغیرٹھیکیدارکو 7کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم منظور کرلی ہے۔ میں اس کی بھی تحقیقات کرنا چاہتا ہوں مگر سی ای او اس میں رکاوٹ ہیں۔ پروفیشنلز پر مشتمل ٹیم کے بغیرآج پیڈو ایک خراب اور غیر فعال ادارہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اعلیٰ انتظامیہ اپنی من مانی کرتی ہے۔ بار بار کے بحث و مباحثے اور بورڈ کے فیصلوں کے باوجود نئی انتظامیہ کسی ردعمل کا اظہار نہیں کررہی۔ مسٹر درانی نے مزید کہا کہ اب سی ای او، سی ایف او اور بعض نئے لوگ پرائیویٹ سیکٹر کی خواہشات پر منتخب کئے گئے ہیں۔ تین سال قبل شروع کئے گئے بعض پراجیکٹس بعض وجوہات کی بناء پر بند کردیئے گئے ہیں۔ صرف مالاکنڈ کا ایک پراجیکٹ ہے جو فعال ہے۔ تین پراجیکٹ جو 2002ء میں شروع کئے گئے تھے وہ 2006ء میں مکمل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ای او کو ہر ماہ 14لاکھ روپے تنخواہ کا مجازقرار دیا گیا ہے اور وہ اسے بڑھا کر 18لاکھ روپے کرنے کے خواہاں ہیں۔ اب نئے سی ای او اور ایچ آر عملے کو مبینہ طورپر 6 سے 8 لاکھ روپے کے درمیان ماہانہ تنخواہ بڑھانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ چیئرمین واپڈا ہر ماہ 6 لاکھ روپے جبکہ واپڈا کے ممبرز 3 لاکھ کے لگ بھگ ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ واپڈا، پیڈو سے سو گنا بڑا ادارہ ہے۔ نئے مقرر ہونے والے پرائیویٹ سیکٹر کے عملے اور پیڈو کے موجودہ سٹاف کی تنخواہوں میں بہت بڑے فرق سے پیڈو کے کام پر اثر پڑرہا ہے۔ موجودہ پیڈو انجیئرز اور عملے کے سی ای او کے ساتھ تعلقات کار اچھے نہیں ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سی ای او کے لئے انجینئرنگ کی ڈگری ہونا ضروری تھی اور اس کا اشتہار بھی دیا گیا تھا۔ پھر اس اشتہارسے دستبردار ہو کر انجینئرنگ کی ڈگری کے بجائے عام ڈگری کی شرط پر اکبر ایوب کو منتخب کیا گیا جنہیں اینگرو سے تعلق کی بناء پر اسد عمرکی حمایت حاصل تھی۔ ان حالات میں میرے پاس استعفیٰ دینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں بچا تھا۔